ایک دور دراز گاؤں کی پرسکون فضا میں، جہاں زندگی کی دھن بہت دھیمی تال پر بجتی تھی، عمران اور سارہ اپنے چھوٹے سے گھر میں ایک خوبصورت خواب بن رہے تھے۔ ان کی دنیا ننھی فاطمہ کے معصوم قہقہوں سے روشن تھی، جو ابھی صرف پانچ بہاریں دیکھ پائی تھی۔ عمران ایک فیکٹری میں کام کرتا تھا اور سارہ اپنے گھر کی ذمہ داریاں خوش اسلوبی سے نبھاتی تھی۔ ان کی محبت ان کے گھر کی سب سے قیمتی متاع تھی، اور ان کی سادہ زندگی میں بھی امیدوں کے روشن چراغ جلتے تھے۔ وہ اپنے مستقبل کے لیے خواب دیکھتے تھے، خاص طور پر فاطمہ کے لیے، جس کی آنکھوں میں وہ سارے رنگ بھرنا چاہتے تھے جو ان کی زندگی میں نہیں تھے۔
🌟 Join Us On Social Media — Stay Healthy & Informed!
ایک دن، تقدیر نے اچانک کروٹ بدلی۔ شہر میں بڑھتی ہوئی معاشی بدحالی کی وجہ سے عمران کی فیکٹری بند ہو گئی۔ یہ خبر ان پر بجلی بن کر گری۔ گھر کا واحد سہارا ٹوٹ چکا تھا۔ عمران کی آنکھوں میں ویرانی اتر آئی۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ اب کیا کرے گا۔
’’سارہ،‘‘ عمران نے ایک خالی نظروں سے اسے دیکھا، ’’ہم اب کیا کریں گے؟ سب کچھ ختم ہو گیا۔ ہماری امیدیں، ہمارے خواب…‘‘
سارہ نے اس کا ہاتھ تھاما۔ اس کی آنکھوں میں اگرچہ دکھ تھا، مگر چمک اب بھی موجود تھی۔ ’’عمران، خدا پر بھروسہ رکھیں۔ ابھی کچھ ختم نہیں ہوا۔ ہم ایک ساتھ ہیں، یہی ہماری سب سے بڑی طاقت ہے۔ جب تک ہمت نہ ہاریں، کوئی مشکل ہمیں ہرا نہیں سکتی۔‘‘
ابھی ایک مشکل سے نبرد آزما ہوئے ہی تھے کہ دوسری مصیبت آن پڑی۔ ننھی فاطمہ کو شدید بخار رہنے لگا، جو بڑھتے بڑھتے اس کی ننھی جان کو گھیرنے لگا۔ گاؤں کے حکیم کی دوائیں بے اثر ہو گئیں اور اسے شہر کے بڑے ہسپتال لے جانے کا مشورہ دیا گیا۔ یہ ان کے لیے ایک نیا امتحان تھا، جس میں ان کے پاس نہ وقت تھا اور نہ ہی پیسے تھے۔
عمران کی آنکھوں میں بے بسی صاف جھلک رہی تھی۔ اس نے اپنی جمع پونجی نکالی، جو کچھ بھی نہیں تھی اور سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ ’’ہائے اللہ! فاطمہ کو کیا ہو گیا ہے؟ اور ہم کیسے اس کا علاج کروائیں گے؟ میں ایک بے بس باپ ہوں۔‘‘
سارہ نے ایک بار پھر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ اس کی آواز میں ایک عجیب سی طاقت تھی۔ ’’عمران! مایوسی کفر ہے۔ ہمت مت ہارو۔ مجھے یقین ہے کہ اللہ کوئی نہ کوئی راستہ ضرور دکھائے گا۔ ہم اپنی بیٹی کے لیے ہر حد سے گزر جائیں گے۔‘‘
عمران ہر در پر گیا، ہر ایک سے مدد مانگی۔ مگر غربت کے اندھیروں میں ہر رشتہ اپنا راستہ بدل لیتا ہے۔ چند دنوں میں فاطمہ کی حالت مزید بگڑ گئی۔ اس کی سانسیں دھیرے دھیرے کم ہو رہی تھیں اور اس کا معصوم چہرہ زرد پڑ چکا تھا۔ ڈاکٹروں نے واضح الفاظ میں کہہ دیا تھا کہ علاج فوری اور مہنگا ہے۔
عمران رات بھر جاگتا رہا، کبھی فاطمہ کے ماتھے پر ہاتھ پھیرتا تو کبھی سارہ کے چہرے پر نظر دوڑاتا۔ سارہ کی آنکھوں میں نیند نہیں تھی، مگر اس کے ہونٹوں پر فاطمہ کی صحت یابی کی دعائیں تھیں۔
’’سارہ، میرا دل بہت گھبرا رہا ہے،‘‘ عمران نے بمشکل کہا۔ ’’مجھے ڈر لگ رہا ہے کہ ہم اسے بچا نہیں پائیں گے۔‘‘
سارہ نے فاطمہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا۔ ’’ایسا نہیں سوچتے عمران۔ معجزے تب ہی ہوتے ہیں جب امید باقی ہو۔ ہمت ہار گئے تو سب ختم ہو جائے گا۔ ہمیں لڑنا ہے، فاطمہ کے لیے لڑنا ہے۔‘‘
اگلے دن صبح، عمران نے دیکھا کہ سارہ گھر کے پرانے کپڑوں کا ایک ڈھیر لے کر بیٹھی کچھ سی رہی تھی۔ اس کے چہرے پر تھکاوٹ تھی، مگر ہاتھوں میں تیزی۔
’’یہ کیا کر رہی ہو سارہ؟‘‘ عمران نے پوچھا۔
سارہ نے مسکرا کر اسے دیکھا۔ ’’ہماری پرانی چادریں، کچھ کپڑے جو اب استعمال نہیں ہوتے، میں انہیں چھوٹے چھوٹے کھلونوں اور گڑیوں میں بدل رہی ہوں۔ گاؤں کی بچیوں کو ایسی چیزیں بہت پسند آتی ہیں۔ میں سوچ رہی ہوں، شاید انہیں بیچ کر کچھ پیسے جمع ہو جائیں۔‘‘
عمران حیرت سے اسے دیکھتا رہ گیا۔ وہ اس کی قربانی اور حوصلے سے شرمندہ ہو گیا۔ جہاں وہ مایوسی کے گڑھے میں گر چکا تھا، وہاں سارہ ایک دیا روشن کر رہی تھی۔
’’مگر سارہ، تم کب سے…؟‘‘
’’جب سے فاطمہ کی طبیعت بگڑی ہے،‘‘ اس نے جواب دیا۔ ’’میں بیٹھی نہیں رہ سکتی تھی۔ ہر وہ کام کروں گی جو ہم اپنی بیٹی کے لیے کر سکتے ہیں۔‘‘
یہ ایک ایسا لمحہ تھا جس نے عمران کو اندر تک ہلا دیا۔ اسے سارہ کی قربانی اور غیر متزلزل ایمان کا احساس ہوا۔ اسے یاد آیا کہ کیسے Our Healtho پر ایک مضمون میں اس نے پڑھا تھا کہ مشکل وقت میں دماغی صحت اور حوصلہ کتنا اہم ہوتا ہے۔ سارہ اس کی جیتی جاگتی مثال تھی۔ وہ باہر نکلا اور ہر ممکن کوشش کرنے لگا۔ لوگوں کے چھوٹے موٹے کام، کھیتوں میں مزدوری، سب کچھ کرنے کو تیار تھا۔
کئی دن اور راتیں اسی کشمکش میں گزر گئیں۔ فاطمہ کی حالت مزید نازک ہو چکی تھی۔ ایک دن ڈاکٹر نے واضح کر دیا کہ اگر اگلے چوبیس گھنٹوں میں رقم کا انتظام نہ ہوا تو وہ فاطمہ کو بچا نہیں سکیں گے۔
عمران کی دنیا اندھیر ہو گئی۔ اس کے پاس اب ایک ہی راستہ بچا تھا۔ اس کا آبائی گھر، جو اس کے والدین کی آخری نشانی تھی۔ وہ گھر جسے بیچنے کا تصور بھی اس کے لیے قیامت سے کم نہیں تھا۔ مگر آج اس کی بیٹی کی زندگی کا سوال تھا۔
اس نے سارہ کو دیکھا، جو فاطمہ کے سرہانے بیٹھی قرآن پڑھ رہی تھی۔ اس کے آنسو گالوں پر بہہ رہے تھے، مگر اس کی زبان پر اللہ کا ذکر تھا۔ عمران نے فیصلہ کر لیا۔ وہ گھر بیچ دے گا۔
جب وہ گھر بیچنے کے ارادے سے گاؤں کے چودھری کے پاس جا رہا تھا، راستے میں اسے حاجی صاحب ملے۔ حاجی صاحب گاؤں کے ایک بزرگ اور نیک انسان تھے۔
’’عمران بیٹے! کہاں جا رہے ہو اتنے پریشان؟‘‘ حاجی صاحب نے پوچھا۔
عمران نے انہیں ساری بات بتائی۔ گھر بیچنے کے فیصلے سے لے کر فاطمہ کی نازک حالت تک۔ حاجی صاحب نے گہری سانس لی اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
’’دیکھو بیٹے، اللہ کبھی کسی پر اس کی برداشت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ مجھے معلوم ہے تم لوگوں پر بہت کٹھن وقت ہے۔‘‘ حاجی صاحب نے اپنی جیب سے ایک بھاری رقم نکالی۔ ’’یہ پیسے میری جمع پونجی ہیں، جو میں نے حج کے لیے رکھی تھی۔ مگر اس وقت ایک معصوم کی جان بچانا حج سے زیادہ ضروری ہے۔ جاؤ! اپنی بیٹی کا علاج کرواؤ۔ جب تمہاری بیٹی ٹھیک ہو جائے، تو آہستہ آہستہ لوٹا دینا۔ اور اس گھر کو مت بیچو۔ یہ تمہارے بڑوں کی نشانی ہے۔ صبر کا پھل ہمیشہ میٹھا ہوتا ہے۔‘‘
عمران کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ یہ مدد ایک ایسے وقت میں آئی تھی جب وہ بالکل نا امید ہو چکا تھا۔ وہ حاجی صاحب کے سامنے جھک گیا۔
’’حاجی صاحب! آپ نے میری زندگی بچا لی۔ میری فاطمہ کی زندگی بچا لی۔‘‘
اسی وقت عمران اور سارہ فاطمہ کو لے کر شہر کے ہسپتال پہنچ گئے۔ بروقت علاج نے فاطمہ کی جان بچا لی۔ کئی ہفتوں کے علاج اور دیکھ بھال کے بعد، فاطمہ کی آنکھوں میں ایک بار پھر وہی معصوم چمک لوٹ آئی۔ وہ اپنے والدین کی طرف دیکھ کر مسکرائی، اور ان کے دلوں کو سکون مل گیا۔
عمران کو شہر میں ایک چھوٹا سا کام مل گیا اور سارہ نے اپنے ہاتھ سے بنے کھلونوں کو ایک چھوٹی سی دکان پر بیچنا شروع کر دیا۔ دھیرے دھیرے ان کی زندگی پٹری پر واپس آنے لگی۔ انہوں نے دن رات محنت کی اور جلد ہی حاجی صاحب کے پیسے بھی لوٹا دیے۔ حاجی صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا، ’’یہ تمہارے صبر اور وفا کا صلہ ہے۔‘‘
ان کی زندگی میں وہ چمک لوٹ آئی تھی جو راکھ کے ڈھیر میں کہیں دب گئی تھی۔ وہ سمجھ گئے تھے کہ حقیقی دولت پیسے یا جائیداد میں نہیں، بلکہ صبر، ایثار، اور رشتوں کی گہرائی میں پوشیدہ ہے۔
فاطمہ اب ایک صحت مند اور ہنستی کھیلتی بچی تھی۔ عمران اور سارہ کی زندگی کی کہانی نے گاؤں کے لوگوں کو یہ سبق سکھایا کہ جب انسان ہمت نہیں ہارتا، اور صبر اور یقین کے ساتھ ہر مشکل کا مقابلہ کرتا ہے، تو اللہ اسے کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ راکھ میں دبی چمک ایک دن ضرور سامنے آتی ہے۔ یہ کہانی صرف ان کی نہیں، بلکہ ہر اس شخص کی ہے جو زندگی کی کٹھن راہوں پر امید کا دامن تھامے رکھتا ہے۔
قارئین، آپ کو یہ داستان کیسی لگی؟ کیا آپ بھی زندگی میں ایسے لمحات سے گزرے ہیں جہاں امیدوں کے بجھتے چراغوں میں ایک نئی لو پیدا ہوئی ہو؟ اپنے خیالات ضرور شیئر کیجیے اور انتظار کیجیے ہماری اگلی قسط کا، جو آپ کو ایک اور انمول سبق سے آشنا کرے گی۔