## **تقدیر کے رنگ: ایک نئی صبح کی تلاش**
🌟 Join Us On Social Media — Stay Healthy & Informed!
(کہانی)
**باب اوّل: اداس شام کا سورج**
پھولوں کا باغ، جو کبھی رنگ و بو کا مرقع ہوتا تھا، اب اداسی کی دھند میں لپٹا ہوا تھا۔ شام کا سورج، جو گنگناتے ہوئے پرندوں کے ساتھ رنگین ہوتا تھا، آج بوجھل قدموں سے پہاڑوں کی اوٹ میں چھپ رہا تھا۔ یہ باغ ‘خان پور’ کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں تھا، جہاں کی ہوا میں مہک کے ساتھ ساتھ ایک عجیب سی خاموشی بھی گھلی تھی۔ اس خاموشی کا مرکز تھی، ‘ماہ نور’، اکیس سالہ لڑکی جو اپنے خوابوں کی ادھوری تعبیر لئے زندگی کے اتار چڑھاؤ دیکھ رہی تھی۔
ماہ نور کا خاندان غربت کی تنگ گلیوں میں بھٹک رہا تھا۔ باپ، ‘اکبر خان’، ایک محنتی مگر بدقسمت کسان، جو دن رات کھیتوں میں پسینہ بہاتا، مگر فصلیں ہمیشہ کسی نہ کسی آفت کا شکار ہو جاتیں۔ ماں، ‘فاطمہ’، ایک سجدہ گزار اور صابر عورت، جو اپنے شوہر کے دکھوں میں شریک ہوتی اور دعاؤں میں سکون تلاش کرتی۔ ان کے دو بچے تھے، ماہ نور اور اس کا چھوٹا بھائی، ‘احسن’، جو آٹھ سال کا تھا۔ احسن کی آنکھوں میں وہ چمک تھی جو والدین کے لیے امید کی کرن تھی۔
ماہ نور نے میٹرک کا امتحان اچھے نمبروں سے پاس کیا تھا۔ اس کی خواہش تھی کہ وہ مزید تعلیم حاصل کرے، ڈاکٹر بنے، اور اپنے والدین کی غربت کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دے۔ مگر حالات نے ایسا رخ موڑا کہ اس کی کتابیں الماری میں بند ہو گئیں۔ باپ کی بیماری نے سارے سپنوں پر پانی پھیر دیا۔ خاندان کا سہارا صرف ماہ نور کے کندھوں پر آ گرا۔ اس نے گاؤں کے ایک دولتمند زمیندار، ‘ملک ظفر’ کے گھر نوکرانی کا کام شروع کر دیا۔
ملک ظفر کا گھر بڑا اور پر تعیش تھا، مگر وہاں محبت اور خلوص کا نام و نشان نہ تھا۔ ملک ظفر خود ایک خود غرض اور ہوس پرست شخص تھا۔ اس کی بیوی، ‘بیگم عذرا’، ایک مغرور اور حسد کرنے والی عورت تھی۔ ان کی ایک بیٹی تھی، ‘عالیہ’، جو فضول خرچ اور نمود و نمائش کی عادی تھی۔ عالیہ کی نظر میں ماہ نور صرف ایک نوکرانی تھی، جس سے وہ حقارت سے پیش آتی۔
ماہ نور دن رات محنت کرتی۔ ملک ظفر کے گھر کے کام کاج، اپنے گھر کے کام، بیمار باپ کی دیکھ بھال، اور بھائی کی پڑھائی کا خیال رکھنا۔ اس کی آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے ابھر آئے تھے، مگر اس کے عزم میں کوئی کمی نہ آئی۔ وہ جانتی تھی کہ یہ وقت مشکل ہے، مگر وہ اس سے لڑ کر نکل جائے گی۔
**باب دوم: امید کی پہلی کرن**
ایک شام، جب ماہ نور برتن دھو رہی تھی، تو ملک ظفر کی نظر اس پر پڑی۔ اس نے ماہ نور کی خوبصورتی اور سادگی کو دیکھا تو اس کے دل میں ایک بری سوچ نے جنم لیا۔ وہ روزانہ ماہ نور کو بہکانے کی کوشش کرتا، مگر ماہ نور ہر بار اسے ڈانٹ کر ٹال دیتی۔ اس کا ایمان اور اس کا سچا پن اسے غلط راستے پر جانے سے روکے ہوئے تھا۔
ایک دن، ملک ظفر نے ماہ نور کے باپ، اکبر خان کو کھیتوں میں بلا کر کہا، “اکبر، تیری بیٹی میرے گھر میں کام کرتی ہے۔ مجھے وہ پسند ہے۔ اگر تو کہے تو میں اسے اپنی دوسری بیوی بنا لوں۔ تجھے پیسے بھی دوں گا اور تیرے گھر کے سارے قرضے اتار دوں گا۔”
اکبر خان یہ سن کر کانپ گیا۔ اس نے اپنے اور اپنے خاندان کے لیے وہ لمحہ موت سے بدتر سمجھا۔ اس نے ملک ظفر کو سختی سے منع کر دیا اور وہاں سے چلا آیا۔ گھر آ کر اس نے ساری بات فاطمہ کو بتائی۔ فاطمہ روتی رہی، مگر اس نے اپنے شوہر کا ساتھ دیا۔
اگلے دن، جب ماہ نور ملک ظفر کے گھر پہنچی، تو ملک ظفر نے اسے غصے سے کہا، “تمہاری اوقات کیا ہے؟ تم میرے گھر میں رہ کر مجھے منع کرتی ہو؟” اس نے ماہ نور کو نوکری سے نکال دیا۔
ماہ نور کے قدم اکھڑ گئے۔ وہ روتی ہوئی گھر واپس آئی۔ اس کے والدین نے اسے تسلی دی۔ مگر اب ان کے پاس روزی کا کوئی ذریعہ نہ تھا۔ مالی مشکلات بڑھ گئیں۔ احسن کی سکول کی فیس دینی تھی۔ ماہ نور کا دل بیٹھا جا رہا تھا۔
اسی اثنا میں، گاؤں کے ایک بوڑھے حکیم، ‘حکیم صاحب’، جن کا کلینک شہر میں تھا، گاؤں آئے۔ انہوں نے ماہ نور کی غربت اور اس کے والدین کی پریشانی دیکھی تو ان سے رہا نہ گیا۔ حکیم صاحب نے ماہ نور کو اپنے کلینک میں معاون کے طور پر رکھ لیا۔
یہ ماہ نور کے لیے ایک نئی زندگی تھی۔ وہ اب حکیم صاحب کے ساتھ دواؤں کی تیاری، مریضوں کی دیکھ بھال اور ان سے شفقت سے بات کرنا سیکھ رہی تھی۔ حکیم صاحب خود ایک نیک دل اور علم دوست انسان تھے۔ وہ ماہ نور کی ذہانت اور لگن دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ انہوں نے ماہ نور کو پڑھانے کا وعدہ کیا۔
حکیم صاحب نے ماہ نور کو طب کی کتابیں دینا شروع کیں۔ ماہ نور رات دن پڑھائی کرتی۔ وہ دن میں کلینک میں کام کرتی اور رات کو اپنی پڑھائی جاری رکھتی۔ اس کی محنت رنگ لانے لگی۔ وہ جلد ہی دوائیوں کے فارمولے سمجھنے لگی۔
**باب سوم: جذبات کا طوفان**
حکیم صاحب کا ایک پوتا تھا، ‘عمران’، جو شہر سے میڈیکل کی تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ عمران گرمیوں کی چھٹیوں میں گاؤں آتا۔ عمران نے جب ماہ نور کو دیکھا تو وہ اس کی سادگی، ذہانت اور محنت سے بہت متاثر ہوا۔ دونوں میں دوستی ہو گئی۔ وہ ساتھ میں پڑھتے، گپ شپ کرتے اور حکیم صاحب کی مدد کرتے۔
عمران نے ماہ نور کو بتایا کہ وہ جلد ہی اپنی تعلیم مکمل کر کے ایک اچھا ڈاکٹر بنے گا اور پھر وہ شہر میں اپنا کلینک کھولے گا۔ ماہ نور نے اسے بتایا کہ وہ بھی حکیم صاحب کی طرح ایک اچھی طبیب بننا چاہتی ہے۔ دونوں نے ایک دوسرے کے خوابوں کو سراہا۔
اسی دوران، ملک ظفر کو جب پتہ چلا کہ ماہ نور اب حکیم صاحب کے ساتھ کام کر رہی ہے اور خوشحال ہے، تو اسے حسد ہوا۔ اس نے سوچا کہ وہ ماہ نور کو کسی طرح نقصان پہنچائے۔
ایک دن، ملک ظفر نے اپنے چند بدنام زمانہ دوستوں کو ساتھ لیا اور حکیم صاحب کے کلینک پر گیا۔ اس نے حکیم صاحب سے کہا، “یہ لڑکی میرے گھر سے بھاگی ہے۔ اسے میرے حوالے کر دو۔” حکیم صاحب نے انکار کر دیا۔ ملک ظفر نے ہنگامہ برپا کر دیا۔
ماہ نور نے یہ سب دیکھا تو وہ ڈر گئی۔ مگر اس نے ہمت نہ ہاری۔ عمران بھی وہیں موجود تھا۔ عمران نے ملک ظفر کو للکارا۔ دونوں میں تکرار ہوئی۔ ملک ظفر نے عمران پر حملہ کر دیا۔ حکیم صاحب بیچ بچاؤ کرانے آئے۔ اسی اثنا میں، گاؤں کے کچھ اور لوگ بھی جمع ہو گئے۔ ملک ظفر کو شرمندگی ہوئی اور وہ وہاں سے چلا گیا۔
اس واقعے کے بعد، حکیم صاحب نے فیصلہ کیا کہ وہ ماہ نور کو شہر بھیجیں گے تاکہ وہ اپنی تعلیم مکمل کر سکے۔
**باب چہارم: کلائمکس – تقدیر کا فیصلہ**
عمران نے ماہ نور کی مدد کی اور اسے شہر کے ایک اچھے کالج میں داخلہ دلوایا۔ ماہ نور اب شہر میں ایک نئی زندگی شروع کر چکی تھی۔ عمران اکثر اس سے ملنے آتا۔ ان کی دوستی اب محبت میں بدل چکی تھی۔ وہ ایک دوسرے کے ساتھ خوش تھے۔
لیکن تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ ایک دن، ماہ نور کو خبر ملی کہ اس کا باپ، اکبر خان، شدید بیمار ہے۔ وہ فوراً گاؤں واپس آگئی۔ اس نے دیکھا کہ اس کا باپ زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے۔ اس نے دن رات باپ کی تیمارداری کی۔
اسی دوران، ملک ظفر نے پھر سازش کی۔ اس نے اکبر خان کے گھر کے سامنے ایک پرانا، بوسیدہ مکان خرید لیا۔ اس مکان میں اس نے ایک فحش کلب کھول دیا۔ وہ چاہتا تھا کہ ماہ نور کے گھر کے آس پاس بدنامی پھیلے اور وہ وہاں سے چلے جائیں۔
ماہ نور اور اس کے والدین نے بہت دکھ جھیلا۔ مگر وہ صبر سے کام لیتے رہے۔
ایک دن، عمران گاؤں آیا۔ اس نے دیکھا کہ ماہ نور کس قدر پریشان ہے۔ اس نے ماہ نور کا ہاتھ تھاما اور کہا، “ماہ نور، میں تمہارے ساتھ ہوں۔ ہم مل کر ان مشکلات کا سامنا کریں گے۔”
عمران نے گاؤں کے لوگوں کو اکٹھا کیا۔ اس نے ملک ظفر کی بد نیتی کو سب کے سامنے بے نقاب کیا۔ گاؤں کے معززین نے ملک ظفر کو اس کے غلط کاموں سے روکا۔ گاؤں کے لوگ ملک ظفر کے خلاف ہو گئے۔
ملک ظفر کو شرمندگی ہوئی۔ اس نے اپنا کلب بند کر دیا اور گاؤں چھوڑ کر چلا گیا۔
اس دوران، اکبر خان کی صحت بہتر ہونے لگی۔ ماہ نور نے حکیم صاحب کی مدد سے اپنے باپ کا علاج کیا۔
**باب پنجم: نئی صبح**
اکبر خان مکمل طور پر صحت یاب ہو گیا۔ ماہ نور نے اپنی تعلیم مکمل کی۔ وہ ایک کامیاب ڈاکٹر بن گئی۔ اس نے گاؤں میں ایک چھوٹا سا کلینک کھولا۔ عمران نے بھی شہر میں اپنا بڑا ہسپتال کھول لیا تھا۔
عمران اور ماہ نور نے شادی کر لی۔ ان کی زندگی خوشیوں سے بھر گئی۔ انہوں نے مل کر غریبوں کی مدد کی۔ ماہ نور نے اپنے والدین کو بھی اپنے ساتھ شہر لے آئی۔
ماہ نور کی زندگی میں بہت سے دکھ آئے، مگر اس نے صبر اور ہمت سے ان کا سامنا کیا۔ اس کی سچائی، محنت اور سادگی ہی اس کی اصل طاقت تھی۔ اس نے ثابت کر دیا کہ اگر انسان کا ارادہ مضبوط ہو تو وہ کسی بھی مشکل سے نکل سکتا ہے۔
**اخلاقی پیغام:**
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ زندگی میں کتنی بھی مشکلات آئیں، ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ صبر، ہمت، محنت اور سچائی کے ساتھ ہم ہر مشکل کا سامنا کر سکتے ہیں۔ تقدیر بدل سکتی ہے، مگر اس کے لیے ہمیں کوشش کرنا پڑتی ہے۔
**آپ کی رائے:**
آپ کو یہ کہانی کیسی لگی؟ کیا آپ ماہ نور کے کردار سے متاثر ہوئے؟ ہمیں کمنٹ سیکشن میں ضرور بتائیں۔ اگلی کہانی کے لیے تجسس میں رہیں!