# **دعا: اسلام میں اہمیت، فضائل اور قبولیت کے اسباب**
🌟 Join Us On Social Media — Stay Healthy & Informed!
## **تعارف اور اہمیت**
دعا، اللہ تعالیٰ سے براہِ راست رابطے اور التجا کا ایک ایسا حسین ذریعہ ہے جو انسان کو اس کے رب سے جوڑے رکھتا ہے۔ یہ صرف مانگنا ہی نہیں، بلکہ اللہ کی عظمت، قدرت اور اپنی عاجزی کا اقرار بھی ہے۔ دعا کو عبادت کا مغز، مومن کا ہتھیار اور دین کا ستون قرار دیا گیا ہے۔ اسلام میں دعا کی اہمیت اس قدر ہے کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے خود اپنے بندوں کو دعا کرنے کا حکم دیا ہے اور قبولیت کا وعدہ فرمایا ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
“اور تمہارے رب نے فرمایا: تم مجھ سے دعا کرو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔ یقین مانو! جو لوگ میری عبادت سے خود سری کرتے ہیں، وہ ابھی ذلیل ہو کر جہنم میں پہنچ جائیں گے۔” (المومن: 60)
دعا بندے اور رب کے درمیان تعلق کو مضبوط کرتی ہے، اسے اللہ کی رحمت اور مدد کا مستحق بناتی ہے، اور اس کی ذات پر توکل اور اعتماد کو بڑھاتی ہے۔ یہ انسان کو اپنی کم مائیگی اور اللہ کی قدرت کا احساس دلاتی ہے۔
## **دعا کے فضائل**
دعا کے بے شمار فضائل ہیں جن میں سے چند یہ ہیں:
* **عبادت کا مغز:** دعا کو عبادت کا اصل کہا گیا ہے، کیونکہ یہ بندے کے عاجز و مجبور ہونے اور اللہ کی قدرت و بالادستی کا برملا اظہار ہے۔
* **مومن کا ہتھیار:** جس طرح انسان جسمانی حملوں سے بچنے کے لیے ہتھیار استعمال کرتا ہے، اسی طرح روحانی اور قلبی مشکلات سے نمٹنے کے لیے دعا ایک مؤثر ہتھیار ہے۔
* **دین کا ستون:** دعا مومن کے ایمان کے لیے ایک ستون کی مانند ہے، جس پر اس کا ایمان مضبوطی سے قائم رہتا ہے۔
* **اللہ سے قربت:** دعا کے ذریعے بندہ اللہ تعالیٰ سے براہِ راست رابطہ قائم کرتا ہے اور اس کی قربت حاصل کرتا ہے۔
* **مصائب سے نجات:** دعا ناگوار حالات، وباؤں اور مصائب و پریشانیوں سے نجات کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔
* **باعثِ اجر و ثواب:** اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کو سب سے افضل عمل قرار دیا گیا ہے اور یہ آخرت میں بھی مومن کے لیے باعثِ اجر و ثواب ہے۔
## **قرآن و سنت کی روشنی میں دعا کی قبولیت کے اسباب**
اللہ تعالیٰ نے دعا کی قبولیت کا وعدہ فرمایا ہے، لیکن اس کے لیے کچھ شرائط اور آداب ہیں جن کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ دعا کی قبولیت کے چند اہم اسباب درج ذیل ہیں:
### **1. اخلاص اور صرف اللہ سے دعا مانگنا**
دعا کی قبولیت کے لیے سب سے اہم شرط یہ ہے کہ دل میں اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص ہو۔ دعا صرف اور صرف اللہ تعالیٰ سے مانگی جائے، کسی اور کے وسیلے یا نام سے نہیں۔ اللہ تعالیٰ خود قرآن مجید میں فرماتا ہے: “سو تم اللہ کی عبادت کرو، اخلاص کے ساتھ اس کی اطاعت کرتے ہوئے” (سورۃ غافر)۔ غیر اللہ سے دعا کرنا شرک کے زمرے میں آتا ہے۔
### **2. حرام سے اجتناب**
حرام مال کھانا، پینا یا استعمال کرنا دعا کی قبولیت میں بڑی رکاوٹ بنتا ہے۔ اللہ تعالیٰ پاک ہے اور صرف پاکیزہ چیز ہی قبول فرماتا ہے۔ جس شخص کا کھانا، پینا، لباس اور ذریعہ آمدنی حرام ہو، اس کی دعا کیسے قبول ہو سکتی ہے؟ حدیثِ مبارکہ میں ہے کہ ایک شخص لمبا سفر کرتا ہے، بال بکھرے ہوئے ہیں، گرد و غبار سے اٹا ہوا ہے اور ہاتھ پھیلا کر دعا کرتا ہے: “یارب! یارب!” لیکن اس کا کھانا حرام کا ہے، پینا حرام کا ہے، لباس حرام کا ہے اور حرام سے اس کی پرورش ہوئی ہے، تو پھر اس کی دعا کیسے قبول ہو؟
### **3. گناہوں سے توبہ اور اللہ کی طرف رجوع**
گناہ دعاؤں کی عدمِ قبولیت کا بنیادی سبب ہیں۔ دعا مانگنے سے پہلے دل سے اللہ تعالیٰ کے سامنے گناہوں کی معافی مانگنی چاہیے اور سچے دل سے توبہ کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔
### **4. دعا میں جلدی نہ کرنا**
دعا میں جلدی کرنا قبولیت میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ بعض اوقات ہم دعا مانگتے ہیں اور جب وہ قبول نہیں ہوتی تو مایوس ہو کر کہتے ہیں کہ ہماری دعا قبول نہیں ہوئی۔ حضور نبی کریم ﷺ نے دعا میں جلدی کرنے سے منع فرمایا ہے۔ قبولیت کی تین صورتیں ہو سکتی ہیں: یا تو جو مانگا وہ مل جائے، یا وہ دعا آخرت کے لیے محفوظ کر لی جائے، یا اس دعا کی وجہ سے کوئی آنے والی برائی دور کر دی جائے۔
### **5. دعا کے آداب اور شرائط کا خیال رکھنا**
دعا مانگنے کے کچھ آداب ہیں جن کا خیال رکھنا ضروری ہے، جیسے:
* اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنا۔
* نبی کریم ﷺ پر درود بھیجنا۔
* قبولیت کا یقین رکھنا۔
* عاجزی، انکساری اور خشوع و خضوع کا مظاہرہ کرنا۔
* اللہ کے پیارے ناموں سے پکارنا۔
* تضرع اور گڑگڑا کر مانگنا۔
* ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا۔
* تین بار دعا کو دہرانا۔
* دعا کے اختتام پر آمین کہنا۔
## **دعا کی قبول نہ ہونے کی وجوہات**
بعض اوقات دعا کے قبول نہ ہونے کی وجوہات ہماری اپنی کوتاہیوں میں پوشیدہ ہوتی ہیں۔ ان میں سے چند یہ ہیں:
* **اللہ کو نہ پہچاننا یا اس کا حق ادا نہ کرنا:** اللہ کی معرفت حاصل نہ کرنا اور اس کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کرنا۔
* **نبی ﷺ کی سنت کی مخالفت:** ایمان لانے کے باوجود سنتِ رسول ﷺ کی مخالفت کرنا۔
* **قرآن پر عمل نہ کرنا:** قرآن کی تلاوت کرنا لیکن اس پر عمل نہ کرنا۔
* **اللہ کے عذاب سے بے خوفی:** اللہ کے عذاب سے ڈرنے کا دعویٰ کرنا مگر نافرمانی کی طرف قدم بڑھانا۔
* **جنت کی حرص کے برعکس اعمال:** جنت کے مشتاق ہونے کا دعویٰ کرنا مگر ایسے کام کرنا جو جنت سے دور لے جائیں۔
* **نعمتوں پر شکر ادا نہ کرنا:** اللہ کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانا مگر اس کا شکر ادا نہ کرنا۔
* **شیطان سے دوستی:** اللہ نے شیطان سے دشمنی کا حکم دیا ہے مگر اس سے دوستی کا رویہ اپنانا۔
* **لوگوں کے عیوب پر نظر رکھنا اور اپنے عیوب سے غافل رہنا:** اپنی اصلاح کے بجائے دوسروں میں خامیاں تلاش کرنا۔
* **ناجائز کاموں کے لیے دعا کرنا:** ایسی دعائیں مانگنا جو شرعی طور پر جائز نہ ہوں۔
* **محال چیزوں کی دعا کرنا:** ایسی چیزوں کا سوال کرنا جو عقلاً یا شرعاً ناممکن ہوں۔
* **دعا میں جلد بازی:** جلد بازي کرتے ہوئے یہ کہنا کہ “دعا تو بہت کی لیکن قبول نہیں ہوئی”۔
## **اسلامی تاریخ سے مثال**
حضرت کعب احبار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں سخت قحط پڑا تو وہ بنی اسرائیل کو لے کر بارش کے لیے دعا مانگنے نکلے، لیکن تین مرتبہ نکلنے کے باوجود بارش نہ ہوئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگوں میں گناہوں کی کثرت تھی۔ جب لوگ اپنے گناہوں سے تائب ہوئے اور اللہ کی طرف رجوع کیا، تب بارش نازل ہوئی۔
## **آج کے دور میں دعا کی ضرورت**
آج کے مادہ پرستی کے دور میں انسان اپنی تدبیروں اور کوششوں پر زیادہ بھروسہ کرتا ہے اور رب کی ذات پر توکل کم کرتا ہے۔ مصائب و مشکلات کے وقت، جب تدبیریں ناکام ہو جاتی ہیں، تو انسان کو اللہ کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ دعا انسان کو صبر، سکون اور حوصلہ عطا کرتی ہے اور اسے اللہ کی رحمت سے جوڑے رکھتی ہے۔
## **عام غلط فہمیاں اور ان کی اصلاح**
* **غلط فہمی:** دعا مانگنے سے عمل کی ضرورت ختم ہو جاتی ہے۔
* **اصلاح:** دعا اور عمل لازم و ملزوم ہیں۔ دعا اللہ کی مدد حاصل کرنے کا ذریعہ ہے، جبکہ عمل اس مدد کو حاصل کرنے کی سعی ہے۔ بغیر عمل کے صرف دعا غیر حقیقت پسندانہ ہے۔
* **غلط فہمی:** دعا قبول نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ سنتا نہیں۔
* **اصلاح:** دعا قبول نہ ہونے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں جو ہماری اپنی کوتاہیوں سے متعلق ہوں۔ اللہ تعالیٰ سننے والا ہے، لیکن ہمیں قبولیت کے اسباب اختیار کرنے ہوں گے۔
* **غلط فہمی:** دعا صرف مصیبت کے وقت ہی مانگنی چاہیے۔
* **اصلاح:** دعا ہر وقت مانگنی چاہیے، خواہ خوشی ہو یا غمی۔ اللہ سے خوشحالی میں دعا مانگنے والا مصیبت میں زیادہ قریب پاتا ہے۔
## **عملی نصیحتیں اور قابلِ عمل نکات**
* اپنی دعاؤں میں اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص پیدا کریں اور صرف اسی سے مانگیں۔
* حرام سے مکمل پرہیز کریں اور حلال رزق کمائیں۔
* کثرت سے گناہوں سے توبہ کریں اور اللہ کی طرف رجوع کریں۔
* دعا میں جلدی نہ کریں اور صبر سے کام لیں۔
* دعا کے آداب اور شرائط کو سمجھیں اور ان پر عمل کریں۔
* اپنے اعمال پر غور کریں اور کسی بھی شرعی خلاف ورزی سے بچیں۔
* قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل کریں اور سنتِ رسول ﷺ کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔
* اللہ کی نعمتوں پر شکر ادا کریں اور اپنی کم مائیگی کا اعتراف کریں۔
* اپنی دعاؤں کو شروع کرتے اور ختم کرتے وقت درود شریف کا اہتمام کریں۔
## **سوال و جواب (FAQ)**
**سوال 1: کیا دعا مانگنے سے تقدیر بدل سکتی ہے؟**
**جواب:** جی ہاں، احادیث کے مطابق دعا تقدیر کو بدل سکتی ہے۔ دعا اللہ کی رحمت کو متوجہ کرتی ہے جو کسی بھی طے شدہ فیصلے کو بدل سکتی ہے۔
**سوال 2: دعا قبول نہ ہونے کی صورت میں کیا کرنا چاہیے؟**
**جواب:** دعا قبول نہ ہونے پر مایوس ہونے کے بجائے، ہمیں اپنی دعاؤں کا جائزہ لینا چاہیے، اپنی کوتاہیوں کی تلافی کرنی چاہیے، اور اللہ سے استقامت کے ساتھ دعا کرتے رہنا چاہیے۔
**سوال 3: کیا غیر مسلموں کے لیے دعا کی جا سکتی ہے؟**
**جواب:** جی ہاں، مسلمان غیر مسلموں کے لیے ہدایت کی دعا کر سکتے ہیں۔ تاہم، اللہ کی عبادت میں کسی کو شریک ٹھہرانا شرک ہے اور اس کی دعا قبول نہیں ہوگی۔
**سوال 4: کیا مردوں سے دعا مانگی جا سکتی ہے؟**
**جواب:** نہیں۔ اسلام میں صرف اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنے کی اجازت ہے۔ مردوں یا کسی اور سے دعا مانگنا شرک ہے۔
**سوال 5: دعا کی قبولیت کے لیے سب سے اہم شرط کیا ہے؟**
**جواب:** دعا کی قبولیت کے لیے سب سے اہم شرط اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص اور صرف اسی سے دعا مانگنا ہے۔
## **اختتام**
دعا انسان کی زندگی کا ایک لازمی اور عظیم ترین حصہ ہے۔ یہ ہمیں اللہ تعالیٰ سے جوڑے رکھتی ہے، مشکلات میں حوصلہ دیتی ہے، اور ہماری عبادات کا مغز ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم دعا کے آداب و شرائط کو سیکھیں، اپنی کوتاہیوں سے توبہ کریں، اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔ دعا کو اپنی زندگی کا معمول بنائیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ قریب ہے اور وہ پکارنے والے کی دعا سنتا اور قبول کرتا ہے۔
**عمل کی ترغیب:**
آج ہی سے اپنی دعاؤں میں اخلاص پیدا کریں، حرام سے بچیں، اور پورے یقین کے ساتھ اللہ سے مانگنا شروع کریں۔
**دیگر اسلامی معلومات کے لیے:**
ہمارے دیگر اسلامی موضوعات پر تفصیلی مضامین پڑھنے کے لیے [یہ بھی پڑھیں](https://ourhealtho.com) کے عنوان پر کلک کریں۔
**علم بانٹیں:**
اگر آپ کو یہ مضمون مفید لگا ہو تو اسے اپنے دوستوں اور اہل خانہ کے ساتھ ضرور شیئر کریں تاکہ وہ بھی مستفید ہو سکیں۔ علم پھیلانا صدقہ جاریہ ہے۔