شام کا وقت تھا۔ سورج ڈھل رہا تھا اور اس کے ساتھ ہی آسمان پر رنگوں کا ایک حسین امتزاج بکھر رہا تھا۔ گاؤں کی تنگ گلیاں مٹی کے ایک خوشگوار احساس سے مہک رہی تھیں۔ کرن، ایک نوجوان لڑکی، اپنے گھر کی چھت پر بیٹھی دور افق پر نگاہیں جمائے ہوئے تھی۔ اس کی آنکھوں میں اداسی کے سائے تھے، مگر دل میں امید کا ایک ننھا سا دیا روشن تھا۔ کرن کا تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا، مگر اس کی تعلیم حاصل کرنے کی خواہش بہت بلند تھی۔ اس کے والد، ایک سادہ لوح کسان، اپنی بیٹی کی تعلیم کے لیے دن رات محنت کرتے تھے، لیکن حالات ہمیشہ ان کے حق میں نہ تھے۔
🌟 Join Us On Social Media — Stay Healthy & Informed!
کرن کی زندگی میں ایک موڑ اس وقت آیا جب گاؤں کے ایک امیر زمیندار، سردار منظور، کی نظر اس پر پڑی۔ سردار منظور کی نگاہ میں کرن صرف ایک خوبصورت لڑکی تھی، جس کے وہ مالک بننا چاہتے تھے۔ انہوں نے کرن کے والد کو رشتہ بھیجا، مگر کرن کے والد نے صاف انکار کر دیا کیونکہ ان کی بیٹی کی شادی کی عمر نہیں تھی۔ سردار منظور کو یہ انکار برداشت نہ ہوا اور انہوں نے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے کرن کے والد کو پریشان کرنا شروع کر دیا۔ فصلوں کو نقصان پہنچانا، قرضے کے بہانے تنگ کرنا، یہ سب روز کا معمول بن گیا۔
کرن یہ سب دیکھ کر بہت پریشان تھی۔ وہ اپنے والد کو اس تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی تھی۔ ایک رات، وہ چپکے سے گھر سے نکلی اور شہر کی طرف چل پڑی۔ اس کا مقصد صرف اتنا تھا کہ وہ خود کچھ کر کے اپنے خاندان کا سہارا بنے اور اپنے والد کو سردار منظور کی دھمکیوں سے بچائے۔ شہر میں اس کے پاس نہ کوئی ٹھکانہ تھا، نہ کوئی جاننے والا۔ مگر اس کے دل میں جینے کی اور اپنے خاندان کو بچانے کی ایک مضبوط خواہش تھی۔
شہر میں اس نے ایک چھوٹی سی دکان پر کام کرنا شروع کر دیا۔ وہ دن میں کام کرتی اور رات کو کسی پرانی عمارت کے ایک کونے میں سو جاتی۔ اس کی محنت اور دیانتداری جلد ہی رنگ لائی۔ دکان کا مالک، ایک نیک دل بوڑھا شخص، اس کی حالات دیکھ کر متاثر ہوا۔ اس نے کرن کو اپنی دکان میں رہنے کی جگہ دی اور اس کی تعلیم کا خرچ بھی اٹھانے کا وعدہ کیا۔ کرن کی آنکھوں میں آنسو تھے، مگر یہ آنسو خوشی اور شکر کے تھے۔
کچھ سال گزر گئے۔ کرن نے محنت سے تعلیم مکمل کی اور ایک اسکول میں استانی بن گئی۔ اس نے اپنی تنخواہ سے گاؤں میں اپنے والد کے لیے ایک چھوٹا سا گھر بھی بنوایا اور سردار منظور کے قرضوں سے بھی نجات دلائی۔ اس کی زندگی میں ایک خوشحال دور آ چکا تھا۔ اب وہ گاؤں کے بچوں کو تعلیم دیتی تھی، انہیں وہی مواقع فراہم کرتی تھی جو اسے نہیں مل سکے تھے۔
ایک دن، جب وہ بچوں کو پڑھا رہی تھی، تو اس نے ایک چہرے کو پہچانا۔ وہ سردار منظور کا بیٹا تھا۔ وہ لڑکا بھی پڑھائی میں کمزور تھا اور اس کے والد اسے ہمیشہ ڈانٹتے رہتے تھے۔ کرن نے اسے ہمدردی سے دیکھا اور اسے اپنی طرف بلایا۔ اس نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اسے سمجھایا کہ اگر وہ محنت کرے گا تو ضرور کامیاب ہوگا۔ اس نے اسے مفت پڑھانا شروع کر دیا۔
رفتہ رفتہ، سردار منظور کا بیٹا پڑھائی میں بہتر ہونے لگا۔ وہ روز کرن کے پاس آتا اور سبق یاد کرتا۔ اس تبدیلی کو دیکھ کر سردار منظور کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ انہیں سمجھ آ گیا کہ طاقت اور دباؤ سے کسی کو نہیں جیتا جا سکتا، بلکہ محبت اور شفقت سے دل جیتا جاتا ہے۔ انہوں نے کرن سے معافی مانگی اور اس کی مدد کرنے کی پیشکش کی۔
کرن نے سردار منظور کی معافی قبول کر لی۔ اس نے گاؤں میں ایک چھوٹا سا ہسپتال بنانے میں ان کی مدد کی، جہاں غریبوں کا مفت علاج ہو سکے۔ اب کرن صرف ایک استانی نہیں تھی، بلکہ گاؤں کی ایک محسن تھی۔ اس کی کہانی گاؤں کے ہر گھر میں سنائی جاتی تھی۔ اس کی زندگی نے یہ سکھایا تھا کہ مشکلات سے گھبرانے کے بجائے، ان کا سامنا ہمت اور حوصلے سے کرنا چاہیے۔ محنت، سچائی اور قربانی کبھی رائیگاں نہیں جاتے۔
کرن کی زندگی کا یہ سفر، مشکلات سے بھرپور مگر امید سے روشن، ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ہر مشکل کے بعد آسانی ہے۔ اگر ہمارے دل میں سچائی اور نیکی ہو تو ہم کسی بھی طوفان کا سامنا کر سکتے ہیں۔ اور ہاں، اگر آپ خوبصورتی کے راز جاننا چاہتے ہیں اور صحت مند زندگی گزارنے کے طریقے تلاش کر رہے ہیں، تو آپ بیوٹی ٹپس ان سائیٹ: فروری 01, 2026 کا ضرور مطالعہ کریں، جہاں آپ کو مفید معلومات ملیں گی۔ مزید دلچسپ کہانیاں اور معلومات کے لیے، Our Healtho ملاحظہ فرمائیں۔
آپ کی کیا رائے ہے اس کہانی کے بارے میں؟ کیا آپ کو کرن کا کردار پسند آیا؟ اپنی قیمتی رائے کا اظہار ضرور کیجئے گا اور بتائیے کہ اگلی کہانی کس موضوع پر ہونی چاہیے۔