مقدمہ: زندگی میں استقامت کی اہمیت
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو زندگی کے ہر شعبے کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ دین اسلام کے بنیادی اصولوں میں سے ایک اصول “استقامت” ہے۔ استقامت کے معنی ہیں کسی کام پر جم جانا، ثابت قدم رہنا، اور سیدھے راستے پر گامزن رہنا۔ یہ صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ زندگی کے ہر پہلو میں، خواہ وہ ذاتی تعلقات ہوں، معاشرتی رویے ہوں، یا دنیاوی معاملات، اس کی اہمیت مسلم ہے۔ استقامت ہی وہ بنیاد ہے جس پر مضبوط ایمان اور پائیدار کردار استوار ہوتا ہے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں استقامت کی اہمیت کو سمجھنا اور اسے اپنی زندگی میں اپنانا ہی حقیقی کامیابی کی کنجی ہے۔
استقامت کی تعریف اور مفہوم
لغوی اعتبار سے ‘استقامت’ کا مطلب ہے سیدھا ہونا، درست رہنا، یا ثابت قدم رہنا۔ اصطلاحی معنی میں، استقامت سے مراد اللہ کے دین پر مضبوطی سے قائم رہنا، شریعت کے احکام پر مسلسل عمل کرنا، اور ہر حال میں حق کے راستے سے انحراف نہ کرنا ہے۔ علماء کے نزدیک استقامت کا مطلب ہے اللہ تعالی کی اطاعت سے چمٹے رہنا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اللہ کی وحدانیت پر یقین رکھے، رسول اللہ ﷺ کی سنتوں پر عمل کرے، فرائض کو ادا کرے، اور ناجائز کاموں سے اجتناب کرے۔ یہ دین کو مضبوطی سے تھامے رکھنے، اس پر عمل کرنے اور اس کی دعوت کو عام کرنے کا نام ہے۔
قرآن و سنت کی روشنی میں استقامت کی فضیلت
قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں استقامت کی اہمیت اور فضیلت کو کثرت سے بیان کیا گیا ہے۔
قرآنی آیات
* ارشادِ باری تعالیٰ ہے: “بیشک جن لوگوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے اور پھر اس پر استقامت اختیار کی (ڈٹ گئے) تو ان پر اللہ کی رحمت کے فرشتے اترتے ہیں، نہ ڈرو اور نہ غم کرو اور خوش ہو اس جنت پر جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا تھا۔” (سورہ فصلت: 30)
* ایک اور مقام پر فرمایا: “پس استقامت اختیار کرو جیسا کہ تمہیں حکم دیا گیا ہے، اور وہ بھی جو تمہارے ساتھ توبہ کر چکے ہیں، اور حد سے تجاوز نہ کرو۔ بیشک وہ تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے۔” (سورہ ہود: 112)
* اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ فرمایا: “یقیناً جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے، پھر وہ اس پر جم گئے، تو ان پر فرشتے اترتے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ نہ ڈرو اور نہ غم کرو، اور خوش ہو جاؤ اس جنت سے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔” (سورہ حم السجدہ: 30)
* اللہ تعالیٰ نے صبر اور استقامت اختیار کرنے والوں کے لیے جنت کی بشارت دی ہے: “اور ضرور ہم تمہیں خوف، بھوک، مالی و جانی نقصان اور پھلوں کی کمی جیسے امور سے آزمائیں گے اور صبر واستقامت دکھانے والوں کو بشارت دیجئے۔” (سورہ البقرہ: 155-157)
احادیث مبارکہ
* ایک صحابی حضرت سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: “یارسول اللہ! مجھے اسلام کی کوئی ایسی بات بتائیے کہ میں آپ کے بعد کسی سے اس کے بارے میں سوال نہ کروں۔” آپ ﷺ نے فرمایا: “کہہ دیجئے کہ میں اللہ پر ایمان لایا، پھر استقامت اختیار کر۔” (صحیح مسلم)
* نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے جسے مسلسل کیا جائے اگرچہ وہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔” (صحیح بخاری) اس حدیث میں استقامت کی اہمیت واضح ہوتی ہے کہ تھوڑا عمل اگر مستقل بنیادوں پر کیا جائے تو وہ اللہ کو زیادہ پسندیدہ ہے۔
اسلامی تاریخ سے مثالیں
اسلامی تاریخ استقامت کی لازوال مثالوں سے بھری پڑی ہے۔
* **صحابہ کرام رضی اللہ عنہم:** غزوہ احزاب کے موقع پر جب مشرکین نے مدینہ کا محاصرہ کیا اور مسلمانوں پر خوف و بھوک کی شدت تھی، تب بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اللہ پر توکل کرتے ہوئے استقامت کا مظاہرہ کیا۔ قرآن مجید میں ان کا ذکر ہے: “وہ لوگ جن سے لوگوں نے کہا کہ لوگ تمہارے خلاف اکٹھے ہو گئے ہیں، پس ان سے ڈرو۔ تو اس بات نے ان کے ایمان میں اور اضافہ کر دیا اور انہوں نے کہا: ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے۔ پس وہ اللہ کی نعمت اور فضل کے ساتھ لوٹ آئے، انہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچی اور انہوں نے اللہ کی رضا کی پیروی کی۔ اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔” (سورہ آل عمران: 173-174)
* **نبی اکرم ﷺ کا صبر و استقامت:** مکہ میں جب کفار نے نبی کریم ﷺ اور مسلمانوں پر ظلم و تشدد کیا، ہجرت کا مشکل فیصلہ کرنا پڑا، اور پھر مدینہ میں بھی دشمنوں کا مقابلہ کرنا پڑا، ہر موقع پر آپ ﷺ نے صبر و استقامت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ غزوات اور دیگر واقعات میں آپ ﷺ کا طرز عمل استقامت کی بہترین مثال ہے۔
آج کے دور میں استقامت کی ضرورت
آج کا دور فتنوں اور آزمائشوں کا دور ہے۔ نت نئی مشکلات، مادیت پرستی، اور غلط نظریات کا سیلاب ایمان کو کمزور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ایسے میں استقامت کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔
* **ایمان کی حفاظت:** دنیاوی لالچ، غلط صحبت، اور نفس کی خواہشات ہمیں دین سے دور کر سکتی ہیں۔ استقامت ہمیں ان فتنوں کے مقابلے میں اپنے ایمان کو مضبوط رکھنے میں مدد دیتی ہے۔
* **نیک اعمال پر دوام:** عبادات اور نیک اعمال میں تسلسل قائم رکھنے کے لیے استقامت ضروری ہے۔ وقتی جوش و خروش کے بجائے مستقل بنیادوں پر نیکیاں کرتے رہنا ہی اصل کامیابی ہے۔
* **آزمائشوں کا مقابلہ:** زندگی میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں۔ بیماری، غربت، یا دیگر مصائب کا سامنا کرتے وقت صبر اور استقامت ہمیں مایوسی سے بچاتی ہے اور اللہ کی رضا پر قائم رہنے کی توفیق دیتی ہے۔
* **معاشرتی استحکام:** معاشرے میں امن و سکون اور اخلاقی قدروں کو برقرار رکھنے کے لیے افراد کا باہمی احترام، سچائی، اور ذمہ داریوں کو نبھانے میں استقامت ضروری ہے۔
عام غلط فہمیاں اور ان کی اصلاح
* **غلط فہمی:** استقامت کا مطلب صرف عبادات پر جمے رہنا ہے۔
* **اصلاح:** استقامت کا دائرہ کار وسیع ہے۔ یہ عقائد، اعمال، اخلاق، معاشرت، اور تمام معاملات میں حق پر قائم رہنا ہے۔
* **غلط فہمی:** استقامت بہت مشکل اور ناقابل حصول ہے۔
* **اصلاح:** استقامت اللہ کی مدد سے حاصل ہوتی ہے۔ اللہ پر توکل، دعا، اور مسلسل کوشش سے یہ مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے۔ قرآن و سنت میں استقامت کے حصول کے طریقے بتائے گئے ہیں۔
عملی نصیحتیں اور قابلِ عمل نکات
1. **اللہ پر مضبوط ایمان:** توحید پر یقین کو دل میں راسخ کریں۔
2. **قرآن و سنت کو مضبوطی سے تھامیں:** ان کے احکامات پر عمل کریں اور ان کی تعلیمات کو سمجھیں۔
3. **دعا کا اہتمام:** اللہ سے استقامت کے لیے دعا مانگیں۔
4. **نیک صحبت اختیار کریں:** نیک لوگوں کی صحبت میں رہیں جو آپ کو دین پر قائم رہنے میں مدد دیں۔
5. **اپنے نفس کا محاسبہ کریں:** روزانہ اپنے اعمال کا جائزہ لیں اور کوتاہیوں پر توبہ کریں۔
6. **علم حاصل کریں:** دین کے بارے میں علم حاصل کرنے سے استقامت میں مدد ملتی ہے۔
7. **صبر سے کام لیں:** آزمائشوں کے وقت صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔
سوال و جواب (FAQ)
* **سوال:** استقامت کسے کہتے ہیں؟
* **جواب:** استقامت کا مطلب ہے اللہ کے دین پر مضبوطی سے قائم رہنا، احکامات پر عمل کرنا، اور ہر حال میں حق کے راستے سے نہ ہٹنا۔
* **سوال:** استقامت کن چیزوں سے حاصل ہوتی ہے؟
* **جواب:** استقامت اللہ پر مضبوط ایمان، قرآن و سنت پر عمل، دعا، نیک صحبت، علم، اور صبر سے حاصل ہوتی ہے۔
* **سوال:** کیا استقامت صرف عبادات میں ضروری ہے؟
* **جواب:** نہیں، استقامت زندگی کے تمام شعبوں میں ضروری ہے، بشمول اخلاق، معاشرت، اور دنیاوی معاملات۔
* **سوال:** استقامت کی فضیلت کیا ہے؟
* **جواب:** استقامت اختیار کرنے والوں کے لیے جنت کی بشارت ہے، اللہ کی رحمت ان پر نازل ہوتی ہے، اور وہ اللہ کے محبوب بن جاتے ہیں۔
* **سوال:** آج کے دور میں استقامت کیوں اہم ہے؟
* **جواب:** آج کے دور میں فتنوں اور آزمائشوں کا مقابلہ کرنے، ایمان کو مضبوط رکھنے، اور نیک اعمال پر قائم رہنے کے لیے استقامت بہت اہم ہے۔
اختتام
استقامت دین اسلام کا ایک بنیادی ستون ہے۔ یہ نہ صرف دنیا میں کامیابی کا ذریعہ ہے بلکہ آخرت میں نجات کا باعث بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں استقامت کے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے ایمان کو مضبوط بنائے۔
دعائے خیر:
اے اللہ! ہمیں استقامت کی دولت سے نواز، ہمارے دلوں کو اپنے دین پر مضبوط کر، اور ہمیں دنیا و آخرت میں سرخرو فرما۔ آمین۔
**Call to Action:**
اس مضمون کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائیں تاکہ وہ بھی استقامت کی اہمیت سے روشناس ہو سکیں۔ علم میں اضافے کا سفر جاری رکھیں اور ہمیشہ حق پر قائم رہیں۔