🔍 Search Your Health Problem Here

اجنبی آنکھیں: ایک ایسی کہانی جو آپ کو سوچنے پر مجبور کر دے گی

دھندلکی چھائی ہوئی تھی اور سرد ہوا کے جھونکے تنہائی کے احساس کو اور گہرا کر رہے تھے۔ لاہور کی ایک پرانی گلی میں، جہاں وقت جیسے تھم سا گیا تھا، ایک تنگ سی حویلی میں، ایک پراسرار اور دل چھو لینے والی کہانی نے جنم لیا۔ حویلی کی بوسیدہ دیواریں صدیوں کی کہانیاں اپنے اندر سموئے ہوئے تھیں، اور ان دیواروں کے سائے میں، دو زندگیاں ایک دوسرے سے ٹکرا کر ہمیشہ کے لیے بدل جانے والی تھیں۔

🌟 Join Us On Social Media — Stay Healthy & Informed!

کرداروں کا تعارف

اس حویلی کی مالکہ، بیگم جہاں آرا، ایک بوڑھی مگر باوقار خاتون تھیں۔ ان کی آنکھوں میں زمانے بھر کی تلخیاں اور ایک گہرا غم پنہاں تھا۔ ان کے شوہر، ایک نامور وکیل، برسوں پہلے ایک پراسرار مقدمے کے دوران لاپتہ ہو گئے تھے، اور اس واقعے نے بیگم جہاں آرا کی زندگی کو اداس کر دیا تھا۔ ان کا اکلوتا بیٹا، ارسلان، لندن میں تعلیم حاصل کر رہا تھا اور اکثر و بیشتر اپنی ماں کی فکر میں گھلتا رہتا تھا۔

دوسری طرف، اسی حویلی کے ایک حصے میں، ایک غریب اور یتیم لڑکی، ثانیہ، اپنی بیمار پھوپھی کے ساتھ رہتی تھی۔ ثانیہ کی دنیا غربت، مجبوری اور مسلسل جدوجہد سے بھری تھی۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی، ایک ایسی چمک جو مشکلات کے باوجود امید کی کرن کو زندہ رکھے ہوئے تھی۔ وہ اپنی پھوپھی کے علاج کے لیے دن رات محنت کرتی، اور اس کی قسمت میں ابھی اور بھی بہت سے امتحانات لکھے تھے۔

مسئلہ اور تنازع

ایک شام، جب ثانیہ اپنی پھوپھی کے لیے دوائی لینے نکلی، تو راستے میں اس کی ملاقات ارسلان سے ہوئی۔ ارسلان چھٹیاں گزارنے لندن سے واپس آیا تھا۔ پہلی ہی نظر میں، ارسلان ثانیہ کی سادگی اور آنکھوں کی گہرائی سے متاثر ہوا۔ ثانیہ بھی اس نوجوان کی آنکھوں میں اپنائیت محسوس کر گئی، جس نے اسے کبھی حقارت کی نظر سے نہیں دیکھا تھا۔

آہستہ آستہ، ان کی ملاقاتیں بڑھنے لگیں۔ ارسلان ثانیہ کی مدد کرنے لگا، اور ثانیہ اس کے لیے امید کی ایک نئی کرن بن گئی۔ لیکن ان کی یہ قربت بیگم جہاں آرا کو گوارہ نہ تھی۔ انہیں ثانیہ کی غربت اور اس کے خاندان کی بدنامی کا خیال ستاتا۔ وہ ارسلان کے لیے ایک امیر گھرانے کی لڑکی چاہتی تھیں۔ ادھر ثانیہ کی پھوپھی کی بیماری شدت اختیار کر گئی، اور ان کے علاج کے لیے بہت زیادہ پیسوں کی ضرورت پڑ گئی۔

جذباتی موڑ

ایک دن، ثانیہ کو معلوم ہوا کہ اس کی پھوپھی کو ایک نایاب بیماری ہے جس کا علاج بہت مہنگا ہے۔ وہ پریشانی کے عالم میں ارسلان سے ملی۔ ارسلان نے فوراً مدد کی پیشکش کی، لیکن بیگم جہاں آرا نے سختی سے منع کر دیا۔ انہوں نے ارسلان کو دھمکی دی کہ اگر اس نے ثانیہ کا ساتھ دیا تو وہ اسے اپنی جائیداد سے بے دخل کر دیں گی۔

اسی اثنا میں، ایک اور پراسرار شخص، جناب رضا، ثانیہ کی زندگی میں داخل ہوا۔ وہ ایک امیر تاجر تھا اور ثانیہ کی سادگی اور ایمانداری سے بہت متاثر ہوا۔ اس نے ثانیہ کو ایک بڑا قرضہ دینے کی پیشکش کی، لیکن اس قرضے کی شرط یہ تھی کہ ثانیہ کو اس کے ساتھ شادی کرنی پڑے گی۔ ثانیہ شدید کرب میں مبتلا ہو گئی۔ ایک طرف ارسلان کی محبت تھی، اور دوسری طرف پھوپھی کی جان بچانے کی مجبوری۔

کلائمکس

ثانیہ نے اپنی پھوپھی کی خاطر، اور ارسلان کو بیگم جہاں آرا کے غصے سے بچانے کے لیے، رضا سے شادی کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ یہ فیصلہ اس کے لیے دل توڑ دینے والا تھا۔ شادی کی تقریب سادگی سے منعقد ہوئی، اور ثانیہ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ ارسلان یہ سب دیکھ کر بے حد دلگیر ہوا۔

شادی کے کچھ عرصے بعد، ثانیہ کو معلوم ہوا کہ جناب رضا دراصل وہی وکیل ہیں جو برسوں پہلے بیگم جہاں آرا کے شوہر کے مقدمے کی پیروی کر رہے تھے اور ان کے لاپتہ ہونے کے بعد انہوں نے ہی معاملے کو آگے بڑھایا تھا۔ رضا نے ثانیہ کی پھوپھی کی بیماری کے بارے میں بھی پہلے سے جان لیا تھا اور اس کی مدد کی آڑ میں وہ ثانیہ کے قریب آنا چاہتا تھا۔ ان کا اصل مقصد بیگم جہاں آرا کے شوہر کے مقدمے سے متعلق کچھ خفیہ دستاویزات حاصل کرنا تھا، جو شاید حویلی میں کہیں چھپی ہوئی تھیں۔

انجام اور پیغام

جب سچائی سامنے آئی، تو بیگم جہاں آرا کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ انہوں نے ثانیہ کو اس کی ایمانداری اور قربانی پر معاف کر دیا۔ ارسلان اور ثانیہ کی محبت کو بھی ان کی مکمل حمایت حاصل ہو گئی۔ جناب رضا نے بھی اپنی غلطی کا اعتراف کیا اور ثانیہ کی پھوپھی کے علاج میں مالی مدد کی۔

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ حالات کتنے بھی مشکل کیوں نہ ہوں، سچائی اور ایمانداری کا راستہ کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے۔ محبت اور قربانی میں وہ طاقت ہے جو ناممکن کو ممکن بنا سکتی ہے۔ لالچ اور جھوٹ کا انجام ہمیشہ برا ہوتا ہے، جبکہ صبر اور استقامت ہمیں کامیابی کی منزل تک پہنچا سکتی ہے۔ کبھی کبھی، اجنبی آنکھوں میں ہمیں وہ اپنائیت مل جاتی ہے جو ہمارے اپنے لوگ بھی نہیں دے پاتے۔

کہانی پر اپنی رائے کا اظہار ضرور کیجئے گا اور اگلی قسط کے لیے ہمارے ساتھ جڑے رہیے!

Dedicated to providing evidence-based health insights and wellness tips. Our mission is to simplify complex medical research into actionable advice for a healthier lifestyle. Focused on UK health standards and holistic well-being.

Sharing Is Caring:

Leave a comment