قسط 1
قصبے کے کنارے ایک چھوٹا سا گھر تھا۔ اس گھر میں ایک بوڑھی اماں رہتی تھیں جن کا نام فاطمہ تھا۔ ان کا کوئی سہارا نہ تھا۔ بیٹا کب کا بیرونی ملک چلا گیا تھا اور پھر کبھی لوٹ کر نہ آیا۔ بیٹی کی شادی ہو چکی تھی اور وہ اپنے سسرال میں خوش تھی۔ فاطمہ اماں کا وقت گزرتا تو یوں ہی، کبھی خدا کی یاد میں، کبھی اپنے بیٹے کی یاد میں، اور کبھی گلی کے نکڑ پر بیٹھے فقیر کو کچھ دے دلا کر۔ ان کی زندگی میں نہ کوئی خاص خوشی تھی، نہ کوئی گہرا غم، بس ایک ٹھہراؤ سا تھا۔
فاطمہ اماں کی زندگی میں ایک ہی سکون تھا، ان کا باغیچہ۔ پھولوں سے آراستہ، ہریالی سے بھرا ہوا۔ وہ روزانہ صبح سویرے اٹھتیں، وضو کرتیں اور پھر اپنے باغ میں چلی جاتیں۔ وہاں وہ گھنٹوں بیٹھی رہتیں، پودوں کو پانی دیتیں، ان کی کانٹ چھانٹ کرتیں، اور ان سے باتیں کرتیں۔ ان کے پھولوں میں جان تھی، وہ ان کی خاموش زبان سمجھتے تھے۔
ایک دن، فاطمہ اماں باغ میں حسب معمول موجود تھیں کہ ان کی نظر ایک ننھے سے پودے پر پڑی۔ وہ پودا باقی سب پودوں سے بہت مختلف تھا۔ اس کی پتیاں رات کی تاریکی کی طرح سیاہ تھیں اور ان پر چاند کی کرنوں جیسی چاندی کی لکیریں تھیں۔ ایسا پودا انہوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ دل میں ایک تجسس سا پیدا ہوا، اور انہوں نے اس پودے کو خاص توجہ دینا شروع کر دی۔ وہ اسے دن میں کئی بار پانی دیتیں، اس کے گرد سے گھاس پھونس ہٹاتیں، اور اس سے باتیں کرتیں۔
دن گزرتے گئے، اور وہ ننھا پودا بڑھتا گیا۔ اس کی سیاہ پتیاں اور چاندنی لکیریں مزید نمایاں ہوتی گئیں۔ ایک شام، جب فاطمہ اماں اپنے باغ میں بیٹھی تھیں، تو انہوں نے دیکھا کہ پودے پر ایک پھول کھلنے لگا ہے۔ وہ پھول بھی عجیب و غریب تھا۔ اس کا رنگ ایسا تھا جیسے رات کے آسمان پر تاروں کی جھلمل ہو، اور اس کی خوشبو ایسی جیسے بارش کے بعد مٹی کی مہک۔
اسی رات، قصبے میں ایک عجیب سا واقعہ پیش آیا۔ آسمان پر چاند مکمل اور روشن تھا، لیکن اچانک ایک سیاہ سایہ نمودار ہوا اور چاند کو ڈھانپ لیا۔ چاند گرہن ہو گیا تھا۔ پورے قصبے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ لوگ گھروں سے باہر نکل آئے، دعائیں مانگنے لگے۔
فاطمہ اماں بھی اپنے گھر میں موجود تھیں۔ وہ یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گئیں۔ انہیں اچانک اپنے باغ کے اس خاص پودے کا خیال آیا۔ وہ فوراً باغ میں گئیں اور دیکھا تو وہ سیاہ پتوں والا پھول، جو آج کھلا تھا، چاند کی روشنی میں چمک رہا تھا۔ اس پھول سے ایک عجیب سی روشنی نکل رہی تھی جو پورے باغ کو منور کر رہی تھی۔
یہ منظر دیکھ کر فاطمہ اماں کو لگا جیسے کوئی راز ان پر منکشف ہوا ہو۔ انہیں لگا جیسے اس پودے کا اس چاند گرہن سے کوئی تعلق ہے۔ ان کی آنکھوں میں حیرت اور خوف کے ملے جلے جذبات تھے۔ انہوں نے فوراً اس پھول کو چوما اور دعا مانگی کہ یہ سب خیر سے گزر جائے۔
اگلی صبح جب سورج نکلا، تو چاند گرہن ختم ہو چکا تھا۔ مگر فاطمہ اماں کی زندگی میں ایک نیا باب شروع ہو چکا تھا۔ وہ سیاہ پتوں والا پھول اب بھی باغ میں موجود تھا، مگر اس کی چمک ماند پڑ چکی تھی۔ فاطمہ اماں کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ یہ سب کیا ہے۔ کیا وہ پودا صرف ایک پودا تھا، یا اس میں کوئی پوشیدہ طاقت تھی؟
اس واقعے کے بعد، فاطمہ اماں کی زندگی بدل گئی۔ وہ اب پہلے سے زیادہ وقت اپنے باغ میں گزارنے لگیں۔ وہ اس خاص پودے کا خاص خیال رکھتیں۔ ان کے دل میں ایک امید جاگی تھی، ایک ایسی امید جو شاید انہیں ان کے بچھڑے ہوئے بیٹے کی یاد دلا رہی تھی۔ انہیں لگ رہا تھا جیسے یہ پودا انہیں کسی نئے سفر پر لے جانے والا ہے۔
کچھ دن بعد، فاطمہ اماں کے گھر ایک اجنبی شخص آیا۔ اس کا حلیہ کچھ عجیب سا تھا۔ اس نے فاطمہ اماں سے کہا، “میں آپ کے بیٹے کی طرف سے آیا ہوں۔ وہ آپ کو یاد کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ آپ اس کے پاس چلی آئیں۔”
فاطمہ اماں یہ سن کر حیران رہ گئیں۔ ان کے دل میں خوشی اور بے یقینی کے ملے جلے جذبات تھے۔ کیا یہ سچ تھا؟ کیا ان کا بیٹا واقعی انہیں بلانا چاہتا تھا؟
وہ اجنبی شخص انہیں ایک خط اور کچھ پیسے دے کر چلا گیا۔ خط میں وہی سب لکھا تھا جو اس شخص نے کہا تھا۔ فاطمہ اماں نے فوراً فیصلہ کیا کہ وہ اپنے بیٹے کے پاس جائیں گی۔ مگر جانے سے پہلے، وہ اپنے باغ میں گئیں اور اس سیاہ پتوں والے پودے کو الوداع کہا۔
جیسے ہی انہوں نے پودے کو ہاتھ لگایا، انہیں ایک زور کا جھٹکا محسوس ہوا۔ ان کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا، اور جب انہوں نے آنکھیں کھولیں تو وہ اپنے باغ میں نہیں تھیں۔ وہ ایک پر اسرار جگہ پر تھیں، جہاں ہر طرف سیاہ پتلیاں اور چاندنی لکیریں تھیں۔
ان کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ کیا وہ خواب دیکھ رہی تھیں؟ یا وہ اس پودے کی مدد سے کسی اور دنیا میں پہنچ گئی تھیں؟
اسی دوران، انہیں دور سے ایک آواز سنائی دی، “ماں! میں آپ کا منتظر ہوں۔”
فاطمہ اماں نے آواز کی سمت دیکھا۔ وہاں ان کا بیٹا کھڑا تھا، مگر وہ جوان نظر آ رہا تھا، بوڑھا نہیں۔
یہیں پر کہانی کا پہلا باب ختم ہوتا ہے۔
اگلی قسط میں دیکھیے: کیا فاطمہ اماں کا بیٹا واقعی وہی ہے؟ یہ پر اسرار دنیا کیا ہے؟ اور اس سیاہ پتوں والے پھول کا راز کیا ہے؟
آپ کی رائے:
اس کہانی کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا آپ کو یہ دلچسپ لگی؟ ہمیں کمنٹ سیکشن میں ضرور بتائیں۔
واٹس ایپ اور فیس بک پر شیئر کریں
اگر آپ کو یہ کہانی پسند آئی ہے تو اسے اپنے دوستوں اور اہل خانہ کے ساتھ واٹس ایپ اور فیس بک پر شیئر کریں۔