🔍 Search Your Health Problem Here

ناولز اور کہانیاں Insight: Feb 04, 2026

# ادھوری امید

🌟 Join Us On Social Media — Stay Healthy & Informed!

**باب اول: سسکتی شام**

سرد ہوا کا ایک جھونکا آیا اور کھڑکی کے پردے کو لہرا گیا۔ شام ڈھل رہی تھی اور آسمان پر بادلوں نے گہرا رنگ بھر دیا تھا۔ ایک چھوٹی سی بستی، جو شہر کے شور و غل سے بہت دور تھی، خاموش اور اداس نظر آ رہی تھی۔ اس بستی کے ایک کونے میں، ایک چھوٹا سا گھر تھا جس کی دیواریں وقت کی دھوپ اور بارش سے بوسیدہ ہو چکی تھیں۔ اس گھر میں “عائشہ” نام کی ایک جوان لڑکی رہتی تھی۔ عائشہ کی عمر بمشکل اٹھارہ برس تھی، مگر اس کی آنکھوں میں وہ گہرائی تھی جو عمر سے کہیں زیادہ تجربات کا پتہ دے رہی تھی۔ اس کے چہرے پر غربت کی لکیریں تو تھیں، مگر اس کے ہونٹوں پر ایک اداس سی مسکراہٹ ہمیشہ رہتی تھی۔

عائشہ کے والد، “رحمت”، ایک غریب کسان تھے۔ وہ دن رات کھیتوں میں محنت کرتے تھے، مگر ان کی محنت کا پھل اکثر موسم کی بے رخی یا زمیندار کے لالچ کی نذر ہو جاتا تھا۔ رحمت کی بیوی، “فاطمہ”، ایک بیمار اور کمزور عورت تھی۔ اس کی بیماری کی وجہ وہ غربت تھی جو انہیں گھن کی طرح کھائے جا رہی تھی۔ عائشہ اپنی ماں کی تیمارداری اور گھر کے کام کاج میں مصروف رہتی۔ اس کی دنیا اس چھوٹے سے گھر، اس کے بیمار ماں باپ اور کھیتوں میں الجھی ہوئی تھی۔

ایک شام، جب رحمت کھیتوں سے تھکا ہارا لوٹا، تو اس کے چہرے پر پریشانی کے گہرے سائے تھے۔ اس نے عائشہ کو بلایا اور کہا، “بیٹی، فصل کی پیداوار بہت کم ہوئی ہے۔ زمیندار نے نیا لگان بھی بڑھا دیا ہے۔ میں سوچ رہا ہوں کہ تمہیں شہر بھیج دوں۔ وہاں کوئی کام دیکھنا، کچھ پیسے بھیجو گی تو ماں کا علاج ہو سکے گا۔”

عائشہ کا دل زور سے دھڑکا۔ شہر جانے کا خیال اس کے لیے نیا اور خوفناک تھا۔ اس نے کبھی گھر کی دہلیز پار نہیں کی تھی۔ مگر ماں کی بیماری اور باپ کی پریشانی دیکھ کر وہ سمجھ گئی کہ اسے یہ مشکل فیصلہ کرنا ہوگا۔ اس نے بے بسی سے باپ کی طرف دیکھا اور سر ہل دیا۔

**باب دوم: شہر کی ہولناکیاں**

اگلے دن، عائشہ نے اپنے بوڑھے باپ کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ رحمت کی آنکھوں میں آنسو تھے، مگر اس نے اپنے جذبات پر قابو پایا۔ “بیٹی، ہوشیار رہنا۔ اللہ تمہارا نگہبان ہو۔”

شہر عائشہ کے لیے ایک اجنبی اور خوفناک دنیا تھی۔ اونچی عمارتیں، تیز رفتار گاڑیاں، اور بے شمار لوگ۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کہاں جائے اور کیا کرے۔ کچھ دیر بھٹکنے کے بعد، ایک دکان کے باہر بینر دیکھا جس پر “ضرورت برائے گھریلو ملازمہ” لکھا تھا۔ وہ ہمت کر کے اندر چلی گئی۔

دکان کے مالک، “صاحبزادہ”، ایک بدتمیز اور لالچی شخص تھا۔ اس نے عائشہ کو اوپر سے نیچے تک دیکھا اور حقارت سے پوچھا، “کیا کام کرو گی؟” عائشہ نے لرزتی آواز میں بتایا کہ وہ صفائی ستھرائی اور باورچی خانے کا کام کر سکتی ہے۔ صاحبزادہ نے اسے ماہانہ تنخواہ کا بتایا اور اگلے دن سے ڈیوٹی پر آنے کا حکم دیا۔

عائشہ نے ایک بڑی اور پرتعیش کوٹھی میں کام شروع کیا۔ گھر کی مالکن، “بیگم صاحبہ”، سخت مزاج کی عورت تھیں۔ وہ عائشہ سے دن رات کام کرواتی اور ذرا سی غلطی پر اسے سخت سست کہتی۔ عائشہ دن بھر کام کرتی، رات کو تھکی ہاری ایک کونے میں پڑے بستر پر گر جاتی۔ وہ روزانہ اپنے ماں باپ کو خط لکھتی، مگر اس کے خط میں ہمیشہ امید اور بہادری کے رنگ بھرے ہوتے، حالانکہ اندر سے وہ ٹوٹ چکی تھی۔

کچھ مہینے گزر گئے۔ عائشہ نے کچھ پیسے بچا لیے تھے۔ وہ ہر مہینے کچھ پیسے اپنے گھر بھیج دیتی۔ مگر پھر ایک دن، صاحبزادہ نے اس پر الزام لگایا کہ اس نے گھر سے کچھ قیمتی چیز چوری کی ہے۔ عائشہ نے منت سماجت کی، رو رو کر کہا کہ اس نے کچھ نہیں لیا، مگر صاحبزادہ نے اس کی ایک نہ سنی۔ اس نے عائشہ کو نوکری سے نکال دیا اور اسے پولیس کے حوالے کرنے کی دھمکی دی۔

عائشہ شدید صدمے اور خوف کا شکار تھی۔ وہ بے یار و مددگار شہر میں اکیلی تھی۔ اس نے بھاگنے کا فیصلہ کیا۔ وہ رات کے اندھیرے میں اس کوٹھی سے نکل کر بھاگتی رہی۔

**باب سوم: امید کا دیا**

سرد رات میں، بھٹکتی ہوئی عائشہ ایک پرانی لائبریری کے قریب پہنچی۔ وہاں ایک بوڑھا آدمی، “پروفیسر احمد”، بیٹھا کتابیں پڑھ رہا تھا۔ اس نے عائشہ کو پریشان حال دیکھا تو پاس بلایا۔ عائشہ نے روتے ہوئے اپنی ساری کہانی سنائی۔

پروفیسر احمد ایک مہربان اور سمجھدار انسان تھے۔ انہوں نے عائشہ کو تسلی دی اور اسے اپنے گھر لے آئے۔ انہوں نے عائشہ کو کھانا کھلایا اور رہنے کی جگہ دی۔ عائشہ کو وہاں سکون ملا۔ پروفیسر احمد نے دیکھا کہ عائشہ پڑھنے لکھنے میں تیز ہے، تو انہوں نے اسے پڑھانے کی پیشکش کی۔

عائشہ نے پروفیسر احمد کی سرپرستی میں پڑھنا شروع کیا۔ وہ دن میں پروفیسرز کے گھر کام کرتی اور رات کو کتابوں میں گم ہو جاتی۔ اس نے جلد ہی بہت کچھ سیکھ لیا۔ اس نے اپنی ماں کی بیماری کے بارے میں بھی تحقیق کی اور اندازہ لگایا کہ مناسب علاج سے وہ بہتر ہو سکتی ہے۔

ایک دن، پروفیسر احمد نے عائشہ سے پوچھا، “بیٹی، تم اب کیا کرنا چاہتی ہو؟”

عائشہ نے پرعزم لہجے میں کہا، “میں اپنے گاؤں واپس جانا چاہتی ہوں۔ میں وہاں لوگوں کو صحت کے بارے میں آگاہی دوں گی اور بیماریوں سے بچاؤ کے طریقے سکھاؤں گی۔ میں یہ بھی کوشش کروں گی کہ ہمارے گاؤں میں ایک چھوٹی سی ڈسپنسری بن سکے، تاکہ میری ماں جیسی اور کئی عورتیں بروقت علاج پا سکیں۔”

پروفیسر احمد عائشہ کے حوصلے اور جذبے سے بہت متاثر ہوئے۔ انہوں نے اسے کچھ پیسے دیے اور کہا، “بیٹی، میں تمہارے ساتھ ہوں۔ جب تمہیں کسی مدد کی ضرورت ہو، تو مجھ سے رابطہ کر لینا۔”

**باب چہارم: لوٹتی بہار**

عائشہ اپنے گاؤں واپس لوٹی۔ اس کے آنے کی خبر سن کر سب حیران رہ گئے۔ اس نے آتے ہی سب سے پہلے اپنی ماں کا علاج شروع کیا۔ اس نے گاؤں کی عورتوں کو صفائی ستھرائی، متوازن غذا اور بیماریوں سے بچاؤ کے بارے میں سکھانا شروع کیا۔ اس نے انہیں بتایا کہ کس طرح وہ سستے اور قدرتی طریقے سے اپنی صحت کا خیال رکھ سکتی ہیں۔

اس کی باتوں میں ایسا اثر تھا کہ گاؤں کی عورتیں اس کی طرف متوجہ ہو گئیں۔ عائشہ نے گاؤں کے نمبردار سے بات کی اور اسے سمجھایا کہ صحت مند گاؤں ہی خوشحال گاؤں ہوتا ہے۔ نمبردار اور دیگر لوگ بھی اس کی باتوں سے متاثر ہوئے۔ سب نے مل کر فیصلہ کیا کہ وہ اپنی بستی میں ایک چھوٹی سی ڈسپنسری بنائیں گے۔

لوگوں نے چندہ جمع کیا، اور عائشہ کی کوششوں سے چند ہی مہینوں میں ایک چھوٹی سی ڈسپنسری قائم ہو گئی۔ عائشہ اب گاؤں کی “حقدار” بن چکی تھی۔ وہ خود بھی ایک نرسنگ کا کورس کرنے کا سوچ رہی تھی۔

اس دوران، صاحبزادہ، جس نے عائشہ پر جھوٹا الزام لگایا تھا، خود جرم میں پکڑا گیا۔ اس پر مقدمہ چلا اور اسے سزا ہوئی۔ عائشہ کی سچائی اور بہادری کی داستان گاؤں اور آس پاس کے علاقوں میں پھیل گئی۔

**باب پنجم: سچائی کا انجام**

کچھ سال بعد، عائشہ کا گاؤں بدل چکا تھا۔ اس کی ماں کی صحت کافی بہتر ہو گئی تھی۔ گاؤں میں ایک مکمل ڈسپنسری قائم ہو چکی تھی، جہاں ایک ڈاکٹر بھی باقاعدگی سے آتا تھا۔ عائشہ اب گاؤں کی ایک معزز شخصیت تھی۔

ایک دن، جب وہ اپنی ماں کے ساتھ بیٹھی تھی، تو اس کے باپ رحمت نے اس کا ہاتھ پکڑا اور کہا، “بیٹی، تو نے ہمیں اور اس پورے گاؤں کو نیا جینے کا طریقہ سکھایا ہے۔ ہم تجھ پر فخر کرتے ہیں۔”

عائشہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے مسکرا کر اپنے باپ کی طرف دیکھا۔ اس نے اپنی زندگی کی مشکلات کا سامنا بہادری سے کیا تھا، اور آخر کار وہ جیت گئی تھی۔ اس کی محنت، صبر اور سچائی نے نہ صرف اس کی اپنی زندگی بدل دی تھی، بلکہ اس نے پورے گاؤں میں امید کا دیا جلا دیا تھا۔

**سبق:**
مشکلات زندگی کا حصہ ہیں، مگر ہمت، سچائی اور محنت سے ان پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ اپنی ذات کے لیے جینا ہی کافی نہیں، دوسروں کی مدد اور فلاح کے لیے کام کرنا ہی اصل کامیابی ہے۔

**آپ کی رائے؟**
اس کہانی کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا آپ کو عائشہ کا کردار اور اس کا سفر پسند آیا؟ اپنی قیمتی آراء سے ضرور آگاہ کیجیے گا تاکہ ہم مستقبل میں ایسی ہی دلچسپ کہانیاں آپ کے لیے لاتے رہیں۔ (Our Healtho)
اگلی قسط میں ملیں گے ایک نئی کہانی کے ساتھ۔

Dedicated to providing evidence-based health insights and wellness tips. Our mission is to simplify complex medical research into actionable advice for a healthier lifestyle. Focused on UK health standards and holistic well-being.

Sharing Is Caring:

Leave a comment