یہ ایک ایسی دنیا کی کہانی ہے جہاں انسان اپنے مفادات سے بالاتر ہو کر دوسروں کے لیے جینے کا فن جانتے تھے۔ یہ کہانی تھی ایک چھوٹے سے گاؤں کی، جو پہاڑوں کے دامن میں خوبصورت جھیل کے کنارے آباد تھا۔ گاؤں کا نام ‘سکون نگر’ تھا، اور نام کی طرح وہاں کے لوگ بھی بہت پرسکون اور محبت کرنے والے تھے۔ گاؤں کے درمیان ایک پرانا کنواں تھا، جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ گاؤں والوں کی زندگی کا مرکز ہے۔
🌟 Join Us On Social Media — Stay Healthy & Informed!
کردار:
امانت: گاؤں کا ایک غریب مگر نیک دل کسان، جو اپنی محنت اور دیانتداری کے لیے مشہور تھا۔ اس کی بیوی ‘فریال’ بھی بہت ہمدرد اور سمجھدار عورت تھی۔ ان کے دو بچے تھے، ایک بیٹی ‘ماہ نور’ اور ایک بیٹا ‘صغیر’، جو ابھی کم سن تھے۔
خان صاحب: گاؤں کا سب سے امیر آدمی، لالچی اور خود غرض۔ وہ گاؤں کے تمام وسائل پر اپنا حق سمجھتا تھا۔
مولوی صاحب: گاؤں کے مسجد کے امام، جو اپنے علم اور اخلاق کے باعث سب کے لیے قابل احترام تھے۔
مسئلہ یا تنازع:
سکون نگر کی زندگی میں سکون اس وقت تحلیل ہو گیا جب گاؤں میں پانی کی شدید قلت پیدا ہو گئی۔ گرمیوں کا موسم اپنے عروج پر تھا اور ندی نالے خشک ہو چکے تھے۔ صرف پرانا کنواں ہی گاؤں کی واحد پناہ گاہ بچا تھا۔ لیکن اس کنویں کا پانی بھی روز بروز کم ہوتا جا رہا تھا۔ خان صاحب نے اس صورتحال کا ناجائز فائدہ اٹھانا شروع کر دیا۔ اس نے کنویں کے ارد گرد اپنی زمینوں پر کاشت شروع کر دی اور گاؤں والوں کو پانی کے عوض بھاری رقم کا مطالبہ کیا۔ وہ گاؤں والوں کو دھمکیاں دیتا کہ اگر انہوں نے پیسے نہ دیے تو وہ کنویں کو بند کر دے گا۔
امانت، جو خود غریب تھا، خان صاحب کے ہاتھوں سب سے زیادہ پریشان تھا۔ وہ روزانہ اپنے بچوں کو پیاسا دیکھتا اور اس کا دل روتا۔ فریال اپنے شوہر کو حوصلہ دیتی اور کہتی، “اللہ خیر کرے گا۔ وہ اپنے بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔”
جذباتی موڑ (Twist):
ایک دن، جب امانت کنویں سے مشکل سے ایک بالٹی پانی بھر رہا تھا، اس نے سنا کہ خان صاحب اپنے آدمیوں سے کہہ رہا تھا، “میں اس کنویں کو خشک کر دوں گا تاکہ یہ سب بھوکے مریں۔ تب یہ سب میری منتیں کریں گے اور میں جو چاہوں گا وہ کریں گے۔” امانت نے یہ سنا تو اس کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔ اسے سمجھ آ گیا کہ خان صاحب کا ارادہ بہت برا ہے۔
اسی رات، امانت نے ایک فیصلہ کیا۔ اس نے مولوی صاحب سے مشورہ کیا۔ مولوی صاحب نے کہا، “ہم سب کو مل کر اس ظلم کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ اللہ صبر کرنے والوں کا ساتھ دیتا ہے۔”
اگلے دن، امانت نے گاؤں والوں کو اکٹھا کیا۔ اس نے انہیں خان صاحب کے منصوبے کے بارے میں بتایا۔ سب گاؤں والے غصے سے بھر گئے۔ لیکن وہ سب غریب تھے اور خان صاحب کے سامنے بے بس محسوس کر رہے تھے۔ تب امانت نے کہا، “میں تنہا ہی پہاڑ پر جاؤں گا اور اس پرانے درخت کی شاخیں کاٹ کر لاؤں گا جو کنویں کے اوپر سایہ کرتی ہیں۔ اگر وہ شاخیں کاٹ کر پانی کا بہاؤ کم کر دیں تو بھی ہمیں کچھ اور راستے تلاش کرنے پڑیں گے۔”
سب نے اسے سمجھایا کہ یہ بہت خطرناک کام ہے، لیکن امانت اپنے فیصلے پر قائم رہا۔ اس نے اپنی بیوی فریال سے کہا، “اگر مجھے کچھ ہو جائے تو بچوں کا خیال رکھنا۔” فریال کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، لیکن اس نے اپنے شوہر کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر کہا، “میں آپ کا انتظار کروں گی۔ اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو۔”
کلائمکس:
امانت تنہا پہاڑ پر چڑھ گیا۔ موسم شدید گرم تھا اور پہاڑی راستہ دشوار گزار۔ کئی بار وہ گرا، زخمی ہوا، لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری۔ آخر کار وہ اس پرانے درخت تک پہنچ گیا۔ اس نے اپنی کدال سے شاخیں کاٹنا شروع کیں۔ جب وہ ایک بڑی شاخ کاٹ رہا تھا، تو اچانک اس کا پیر پھسلا اور وہ گہرا گڑھا نما حصہ میں جا گرا۔ اس کے ہاتھ سے کدال چھوٹ گئی۔ وہ شدید زخمی ہو گیا تھا اور اسے چلنا پھرنا بھی محال تھا۔
ادھر گاؤں میں، جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، امانت کی فکر بڑھتی گئی۔ جب شام تک وہ واپس نہ آیا، تو گاؤں والے پریشان ہو گئے۔ مولوی صاحب نے سب کو اکٹھا کیا اور کہا، “ہمیں امانت کو تلاش کرنا ہوگا۔”
خان صاحب نے یہ سن کر ہنستے ہوئے کہا، “وہ تو وہیں مر جائے گا۔ جب وہ نہیں رہے گا، تو تم سب میرے غلام بن جاؤ گے۔”
گاؤں والے، مولوی صاحب کی قیادت میں، امانت کو تلاش کرنے نکلے۔ وہ پہاڑ پر پہنچے اور آوازیں لگانا شروع کیں۔ انہیں امانت کی کمزور آواز سنائی دی جو مدد کے لیے پکار رہا تھا۔ وہ اس گڑھے کے پاس پہنچے جہاں امانت گرا ہوا تھا۔ گاؤں والوں نے مل کر امانت کو باہر نکالا۔ وہ شدید زخمی تھا اور بے ہوش ہونے والا تھا۔
انجام (سبق یا پیغام):
جب امانت کو گاؤں واپس لایا گیا، تو سب اس کی بہادری پر حیران تھے۔ خان صاحب، جو یہ سب دیکھ رہا تھا، شرمندہ ہوا اور اس کا لالچ اس کے سامنے بے معنی لگنے لگا۔ گاؤں والوں نے امانت کی خدمت کی۔ مولوی صاحب نے سب کو سمجھایا کہ اللہ نے امانت کی قربانی کو ضائع نہیں کیا۔ جب سب امانت کی دیکھ بھال کر رہے تھے، تو اچانک بارش شروع ہو گئی۔ یہ بارش اتنی شدید تھی کہ ندی نالے پھر سے بہنے لگے اور کنویں کا پانی بھی دوبارہ بھر گیا۔
یہ سب قدرت کا کرم تھا۔ خان صاحب کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور اس نے گاؤں والوں سے معافی مانگی۔ اس نے کنویں کا کنٹرول گاؤں والوں کو دے دیا اور وعدہ کیا کہ وہ اب کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں کرے گا۔
امانت کی قربانی، صبر اور بہادری نے نہ صرف گاؤں کو بچایا بلکہ سب کو یہ سبق بھی دیا کہ مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دینا اور اللہ پر بھروسہ رکھنا ہی کامیابی کی ضمانت ہے۔ محبت، قربانی اور سچائی ہمیشہ فتح یاب ہوتی ہے۔
اخلاقی پیغام:
اس کہانی کا سبق یہ ہے کہ انسان کو مشکل حالات میں ہمت نہیں ہارنی چاہیے اور دوسروں کی مدد کے لیے ہمیشہ تیار رہنا چاہیے۔ لالچ اور خود غرضی کا انجام برا ہوتا ہے، جبکہ قربانی اور ایثار کا صلہ اللہ ضرور دیتا ہے۔ ناولوں اور کہانیوں میں اکثر ایسے ہی سبق پنہاں ہوتے ہیں۔
اختتام:
سکون نگر میں پھر سے سکون لوٹ آیا۔ امانت جلد صحت یاب ہو گیا اور گاؤں والے خوشی خوشی رہنے لگے۔ وہ ہمیشہ امانت کی قربانی کو یاد رکھتے اور اس کے جذبے کو سلام پیش کرتے۔
اپنی رائے دیں: کیا آپ کو امانت کا فیصلہ درست لگا؟ کیا آپ بھی مشکل حالات میں ایسے ہی بہادرانہ قدم اٹھائیں گے؟ اپنی قیمتی آراء کا اظہار ضرور کریں۔ Our Healtho پر مزید دلکش کہانیاں پڑھنے کے لیے وزٹ کرتے رہیں۔