شکر اور توکل، یہ دو ایسے اسلامی اصول ہیں جو انسان کی زندگی کو سکون، اطمینان اور اللہ تعالیٰ کی رضا کا ذریعہ بناتے ہیں۔ یہ صرف عبادات کا حصہ نہیں بلکہ زندگی گزارنے کا ایک ایسا منہج ہے جو انسان کو دنیا و آخرت کی کامیابی سے ہمکنار کرتا ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں ہم شکر اور توکل کی اہمیت، ان کے معنی، قرآن و سنت کی روشنی میں ان کی وضاحت، اور ان کے عملی پہلوؤں پر تفصیلی روشنی ڈالیں گے۔
🌟 Join Us On Social Media — Stay Healthy & Informed!
موضوع کا تعارف اور اہمیت
اسلام دینِ فطرت ہے اور اس میں انسانی زندگی کے ہر پہلو کے لیے رہنمائی موجود ہے۔ شکر کا مطلب ہے نعمتوں کا اعتراف کرنا اور ان کا اظہار کرنا، جبکہ توکل کا مطلب ہے کہ تمام اسباب اختیار کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ پر مکمل بھروسہ کرنا۔ یہ دونوں صفات انسان کو عاجزی، انکساری، صبر اور قناعت سکھاتی ہیں۔ شکر کے بغیر انسان خودپسند اور مغرور بن جاتا ہے، جبکہ توکل کے بغیر انسان پریشانیوں اور بے یقینی کا شکار ہو جاتا ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر شکر اور توکل کا حکم دیا ہے اور ان کی فضیلت بیان فرمائی ہے۔ سورہ ابراہیم میں ارشاد باری ہے:
“وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ ۖ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ” (ابراہیم: 7)
ترجمہ: “اور جب تمہارے رب نے اعلان کیا کہ اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا، اور اگر ناشکری کرو گے تو بے شک میرا عذاب بہت سخت ہے۔”
اسی طرح توکل کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
“وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ” (الطلاق: 3)
ترجمہ: “اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ اسے کافی ہے۔”
قرآن و سنت کی روشنی میں شکر
شکر کا مفہوم صرف زبان سے شکریہ ادا کرنا نہیں، بلکہ یہ دل، زبان اور اعضاء سب سے ادا ہوتا ہے۔
- دل کا شکر: نیکی کے کاموں کا ارادہ کرنا اور مخلوق کو خیر پہنچانا۔
- زبان کا شکر: اللہ کے ذکر اور تعریف سے زبان کو تر رکھنا اور اس کی نعمتوں کا برملا اظہار کرنا۔
- اعضاء کا شکر: اللہ کی دی ہوئی صلاحیتوں کو اس کی رضا کے کاموں میں استعمال کرنا۔ مثال کے طور پر، آنکھوں کا شکر یہ ہے کہ ان سے کسی کا عیب نہ دیکھا جائے، کانوں کا شکر یہ ہے کہ کسی کی غیبت نہ سنی جائے۔
نبی کریم ﷺ خود اللہ کے سب سے زیادہ شکر گزار بندے تھے اور آپ ﷺ نے اپنی امت کو بھی شکر گزار بننے کی تلقین فرمائی۔ آپ ﷺ دعا کیا کرتے تھے:
“رَبِّ اجْعَلْنِي لَكَ شَكَّارًا، لَكَ ذَكَّارًا، لَكَ رَهَّابًا…” (سنن ابی داود: 1510)
ترجمہ: “اے میرے رب! مجھے اپنا انتہائی شکر گزار، بہت زیادہ ذکر کرنے والا اور نہایت ڈرنے والا بندہ بنا دے۔”
شکر کرنے سے اللہ تعالیٰ نعمتوں میں اضافہ فرماتے ہیں اور ناشکری کرنے سے عذاب کا اندیشہ ہے۔
قرآن و سنت کی روشنی میں توکل
توکل کا مطلب یہ نہیں کہ انسان دنیاوی اسباب کو ترک کر دے اور ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا رہے۔ بلکہ اس کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ انسان اپنی طاقت اور استطاعت کے مطابق تمام ضروری اسباب اختیار کرے، صحیح منصوبہ بندی کرے، اور پھر اپنے معاملات کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دے، یہ یقین رکھتے ہوئے کہ کامیابی اور ناکامی اسی کے ہاتھ میں ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر توکل کا حکم دیا ہے۔ ارشاد باری ہے:
“وَعَلَى اللَّهِ فَتَوَكَّلُوا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ” (المائدہ: 23)
ترجمہ: “اور اللہ ہی پر بھروسہ کرو اگر تمہیں ایمان ہے۔”
نبی کریم ﷺ نے توکل کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا:
“لو أنكم تتوكلون على الله حق توكله، لرزقكم كما يرزق الطير، تغدو خماصًا، وتروح بطانًا” (ترمذی: 2517)
ترجمہ: “اگر تم اللہ پر اس طرح توکل کرو جس طرح اس پر توکل کرنے کا حق ہے تو اللہ تعالیٰ تمہیں اس طرح رزق دے جس طرح پرندوں کو رزق دیتا ہے، وہ صبح کے وقت بھوکے پیٹ جاتے ہیں اور شام کو پیٹ بھرے ہوئے واپس پلٹتے ہیں۔”
علامہ ابن رجب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ توکل رزق حاصل کرنے کا عظیم ترین سبب ہے۔
اسلامی تاریخ سے مثالیں
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زندگی شکر اور توکل کا بہترین نمونہ ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اللہ کے حکم پر قربان کرنے کا ارادہ کیا تو یہ توکل کی معراج تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس قربانی کو قبول فرمایا اور ان کی جگہ ایک مینڈھا بھیج دیا۔
صحابہ کرامؓ مشکل ترین حالات میں بھی اللہ پر توکل کرتے تھے۔ غزوہ بدر اور غزوہ احد کے موقع پر مسلمانوں کی تعداد کم تھی، مگر انہوں نے اسباب اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ پر مکمل توکل کیا۔
آج کے دور میں ان تعلیمات کی ضرورت
آج کی دنیا مادہ پرستی، نفسیاتی دباؤ اور تیز رفتار زندگی کا شکار ہے۔ ایسے میں شکر اور توکل کی تعلیمات انسان کو سکون اور اطمینان کی دولت سے ہمکنار کر سکتی ہیں۔
- شکر: شکر انسان کو قناعت پسند بناتا ہے اور حسد و بغض سے پاک کرتا ہے۔ یہ اس کی خوشیوں کو بڑھاتا ہے اور پریشانیوں میں صبر کرنے کی توفیق دیتا ہے۔
- توکل: توکل انسان کو بے چینی، اضطراب اور ناکامی کے خوف سے نجات دلاتا ہے۔ یہ اسے زندگی کے چیلنجز کا سامنا کرنے کی ہمت دیتا ہے۔
ٹیکنالوجی اور تفریح کی دنیا میں گم رہنے کے بجائے، ہمیں اپنی زندگی میں اسلامی اقدار کو اپنانے کی اشد ضرورت ہے۔ [cite: Internal Link 1]
عام غلط فہمیاں اور ان کی اصلاح
غلط فہمی 1: توکل کا مطلب ہے کہ انسان کوئی کوشش ہی نہ کرے اور سب کچھ اللہ پر چھوڑ دے۔
اصلاح: توکل کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنی طاقت کے مطابق کوشش کرے اور پھر نتائج اللہ پر چھوڑ دے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے کہ اونٹنی کو باندھ کر توکل کرو۔
غلط فہمی 2: شکر صرف خوشی کے وقت ادا کیا جاتا ہے۔
اصلاح: شکر ہر حال میں ادا کرنا چاہیے۔ خوشی میں اللہ کی نعمتوں کا اعتراف اور مصیبت میں صبر کے ساتھ اللہ کی رضا پر راضی رہنا بھی شکر کی ایک صورت ہے۔
عملی نصیحتیں اور قابلِ عمل نکات
- روزانہ اللہ کی نعمتوں پر غور کریں اور انہیں گننے کی کوشش کریں، خواہ وہ کتنی ہی چھوٹی کیوں نہ ہوں۔
- شکریہ کے کلمات کا زبان پر ورد کریں، جیسے “الحمد للہ” اور “سبحان اللہ”۔
- اللہ کی دی ہوئی صلاحیتوں اور صحت کو اس کے احکامات کی بجا آوری میں استعمال کریں۔
- کسی بھی مشکل یا پریشانی کے وقت فوراً اللہ پر توکل کریں اور دعائیں کریں۔
- اگر کوئی مقصد حاصل ہو جائے تو غرور کرنے کے بجائے اللہ کا شکر ادا کریں۔
- دوسرے انسانوں کے محسنوں کا شکریہ ادا کرنا بھی اللہ کے شکر کی علامت ہے۔
سوال و جواب (FAQ)
- سوال: شکر گزار بندے کو اللہ تعالیٰ کیا اضافی اجر عطا فرماتے ہیں؟
جواب: اللہ تعالیٰ شکر گزار بندوں کو نعمتوں میں اضافہ عطا فرماتے ہیں، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے: “لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ” (ابراہیم: 7)۔ - سوال: کیا توکل کا مطلب ہے کہ انسان تدبیر چھوڑ دے؟
جواب: ہرگز نہیں، توکل کے ساتھ تدبیر اختیار کرنا ضروری ہے۔ اونٹ کو باندھ کر اللہ پر توکل کرنے کی حدیث اس کی دلیل ہے۔ - سوال: شکر کی کتنی اقسام ہیں؟
جواب: شکر کی تین اقسام ہیں: دل کا شکر، زبان کا شکر، اور اعضاء کا شکر۔ - سوال: توکل کرنے والے کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کیا کفایت ہے؟
جواب: جو اللہ پر توکل کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔ (الطلاق: 3) - سوال: شکر اور صبر میں کیا تعلق ہے؟
جواب: شکر اور صبر دونوں ایمان کے اہم ترین اجزاء ہیں۔ خوشی میں شکر اور مصیبت میں صبر کرنے سے ایمان مکمل ہوتا ہے۔
اختتام
شکر اور توکل وہ زریں اصول ہیں جو ہماری زندگیوں کو اللہ کی رضا کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔ ان کی اہمیت کو سمجھ کر اور ان پر عمل پیرا ہو کر ہم دنیا و آخرت میں سرخرو ہو سکتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی کے ہر لمحے میں اللہ کی نعمتوں کو یاد رکھیں اور ہر حال میں اس پر بھروسہ کریں۔
کال ٹو ایکشن: آئیے، آج سے ہی اپنی زندگی میں شکر اور توکل کو اپنانے کا عہد کریں۔ ان قیمتی اسلامی تعلیمات کو دوسروں تک پہنچانے کے لیے اس مضمون کو شیئر کریں اور علم میں اضافے کا سلسلہ جاری رکھیں۔
مزید اسلامی معلومات کے لیے، [مزید اسلامی معلومات](https://ourhealtho.com) ملاحظہ فرمائیں۔