شہر کے ہنگاموں سے دور، ایک خاموش گاؤں میں، جہاں وقت کی رفتار تھمی ہوئی محسوس ہوتی تھی، وہاں ایک لڑکی رہتی تھی جس کا نام لیلیٰ تھا۔ لیلیٰ خوبصورتی میں بے مثال نہ تھی، مگر اس کی آنکھوں میں ایک ایسی چمک تھی جو دل میں اتر جاتی تھی، اور اس کی مسکراہٹ میں وہ سادگی تھی جو کسی بھی دل کو موہ لے۔ وہ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتی تھی، مگر اس کے دل میں امیدوں کے دیے ہمیشہ روشن رہتے تھے۔ اس کی ماں، ایک نیک دل اور محنتی عورت، نے اسے ہمیشہ سکھایا تھا کہ زندگی کے ہر موڑ پر صبر اور سچائی کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے۔
🌟 Join Us On Social Media — Stay Healthy & Informed!
اسی گاؤں میں، ایک نوجوان بھی رہتا تھا، جس کا نام احمد تھا۔ احمد گاؤں کا سب سے زیادہ پڑھا لکھا اور سمجھدار نوجوان تھا۔ وہ اپنے خوابوں کی تعبیر کے لیے سخت محنت کرتا اور اس کے دل میں اپنی قوم کے لیے کچھ کر گزرنے کا جذبہ تھا۔ احمد لیلیٰ کے سادگی اور خلوص سے بہت متاثر تھا۔ وہ اکثر لیلیٰ کو دور سے دیکھتا اور اس کی معصومیت میں کھو جاتا۔ گاؤں میں ایک میلہ لگا، جہاں لیلیٰ اور احمد کی ملاقات ہوئی۔ یہ پہلی ملاقات تھی، مگر دونوں نے جیسے صدیوں کی شناسائی محسوس کی۔ احمد نے لیلیٰ سے اس کی تعلیم اور خوابوں کے بارے میں پوچھا۔ لیلیٰ نے شرماتے ہوئے اپنے ادھورے خوابوں کا ذکر کیا، جن میں وہ ایک اسکول کھولنا چاہتی تھی تاکہ گاؤں کے بچے بھی تعلیم حاصل کر سکیں۔
احمد نے لیلیٰ کے جذبے کو سراہا اور اسے یقین دلایا کہ وہ اس کے خواب کو پورا کرنے میں مدد کرے گا۔ یہیں سے ان کی محبت کی داستان کا آغاز ہوا۔ دن گزرتے گئے، اور ان کی محبت پروان چڑھتی گئی۔ وہ اکثر چھپ چھپ کر ملتے، اپنے خوابوں اور امیدوں کا تبادلہ کرتے۔ لیلیٰ کو احمد کی صورت میں وہ سہارا ملا جس کی اسے ہمیشہ تلاش تھی۔ احمد کو لیلیٰ کے سادگی اور پاکیزگی میں وہ سکون ملا جو دنیا کی کسی دولت سے حاصل نہیں ہو سکتا تھا۔
مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ لیلیٰ کے والد، ایک لالچی اور خود غرض انسان، نے اپنی بیٹی کا رشتہ گاؤں کے ایک امیر مگر بدکردار زمیندار کے بیٹے سے طے کر دیا۔ لیلیٰ کے والد کو زمیندار کے بیٹے سے ملنے والی دولت اور اثر و رسوخ کی چمک آنکھوں میں بھر گئی تھی۔ لیلیٰ نے اپنے والد کو سمجھانے کی بہت کوشش کی، مگر وہ اپنی ضد پر اڑے رہے۔ اس نے احمد کے ساتھ اپنی محبت کا ذکر بھی کیا، مگر اس کے والد نے اسے سختی سے منع کر دیا۔ لیلیٰ کے لیے یہ لمحہ بہت مشکل تھا۔ ایک طرف اس کے والدین کی عزت تھی، اور دوسری طرف اس کی محبت اور اس کے خواب۔
یہی وہ لمحہ تھا جب اس کی زندگی میں ایک جذباتی موڑ آیا۔ لیلیٰ کو ایک فیصلہ کرنا تھا۔ اسے اپنی محبت کے لیے لڑنا تھا یا اپنے خاندان کی عزت کے لیے قربانی دینی تھی۔ اس نے رات بھر جاگ کر سوچا۔ اس کی ماں کی نصیحتیں اسے یاد آ رہی تھیں، “بیٹی، سچائی اور صبر ہی انسان کا سب سے بڑا سرمایہ ہیں۔” آخر کار، لیلیٰ نے ایک قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ اس نے خاموشی سے احمد کو ملنے کے لیے بلایا اور ساری صورتحال بتائی۔ احمد پریشان تو ہوا، مگر اس نے لیلیٰ کا حوصلہ بڑھایا۔ اس نے کہا، “لیلیٰ، میں تمہارے ساتھ ہوں۔ ہم اس مشکل کا سامنا مل کر کریں گے۔”
گاؤں میں شادی کی تیاریاں زوروں پر تھیں۔ لیلیٰ خاموش تھی، مگر اس کی آنکھوں میں ایک نئی قسم کی مضبوطی آ چکی تھی۔ شادی کے دن، عین وقت پر، جب سب لوگ دلہن کا انتظار کر رہے تھے، لیلیٰ نے وہ قدم اٹھایا جس کا کسی نے سوچا بھی نہیں تھا۔ اس نے گھر سے بھاگ کر احمد کے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا۔ وہ دونوں رات کی تاریکی میں، ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے، اپنے نئے سفر پر نکل پڑے۔ ان کے پاس کچھ نہیں تھا، مگر ان کے دلوں میں ایک دوسرے کا پیار اور مستقبل کے سنہری خواب تھے۔
شہر میں ان کی زندگی آسان نہ تھی۔ احمد نے ایک چھوٹی سی دکان میں کام کرنا شروع کیا اور لیلیٰ نے گھروں میں سلائی کا کام۔ مگر وہ خوش تھے۔ ان کی محبت نے انہیں ہر مشکل کا سامنا کرنے کی طاقت دی تھی۔ لیلیٰ نے کبھی ہار نہیں مانی۔ وہ دن کو کام کرتی اور رات کو احمد کے ساتھ مل کر پڑھائی کرتی۔ احمد نے اسے کتابیں خرید کر دیں اور اس کے لیے علم کے دروازے کھول دیے۔ لیلیٰ نے جلد ہی کتابوں کی مدد سے بہت کچھ سیکھ لیا۔
کچھ سال گزر گئے۔ احمد نے محنت اور لگن سے پیسے جمع کیے اور گاؤں کے باہر ایک چھوٹی سی جگہ خرید لی۔ اس نے لیلیٰ کے خواب کو حقیقت کا روپ دینے کا فیصلہ کیا۔ اس نے وہ جگہ ایک چھوٹے سے اسکول کے لیے وقف کر دی۔ لیلیٰ کی خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی۔ اس نے اپنی ساری زندگی کا علم اور تجربہ بچوں کو سکھانے میں لگا دیا۔ اس کا بنایا ہوا اسکول گاؤں میں علم کی روشنی پھیلانے لگا۔
ادھر گاؤں میں، لیلیٰ کے والد کو اپنی غلطی کا احساس ہوا جب انہوں نے دیکھا کہ امیر زمیندار کا بیٹا ان کے خاندان کے لیے کوئی سہارا ثابت نہ ہو سکا۔ وہ لیلیٰ کو بہت یاد کرتے تھے۔ ایک دن، جب لیلیٰ اپنے اسکول میں بچوں کو پڑھا رہی تھی، تو اس نے دیکھا کہ اس کے والد دروازے پر کھڑے ہیں۔ لیلیٰ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے دوڑ کر اپنے والد کو گلے لگا لیا۔ اس کے والد نے روتے ہوئے اپنی غلطی مانی اور لیلیٰ سے معافی مانگی۔
احمد بھی فوراً وہاں پہنچ گیا۔ اس نے لیلیٰ کے والد کو بھی گلے لگایا۔ لیلیٰ کے والد نے لیلیٰ اور احمد کے رشتے کو قبول کر لیا۔ اس نے دیکھا کہ لیلیٰ نے نہ صرف اپنی محبت حاصل کی تھی، بلکہ علم کی روشنی پھیلا کر ہزاروں دلوں کو بھی جیت لیا تھا۔
انجام:
لیلیٰ اور احمد کی محبت کی داستان صرف دو انسانوں کی کہانی نہیں تھی، بلکہ یہ صبر، سچائی، قربانی اور اپنے خوابوں پر یقین رکھنے کی ایک لازوال مثال تھی۔ لیلیٰ نے ثابت کیا کہ سچی محبت اور عزم کے سامنے کوئی بھی رکاوٹ بڑی نہیں ہوتی۔ اس نے اپنی تعلیم اور علم سے نہ صرف اپنی زندگی بدلی، بلکہ اپنے ارد گرد کے ماحول کو بھی بہتر بنایا۔
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ لالچ اور خود غرضی انسان کو کہاں سے کہاں گرا سکتی ہے، مگر محبت، قربانی اور سچائی ہمیں بلندیوں تک لے جاتی ہے۔ لیلیٰ کے اسکول نے بہت سے بچوں کی زندگیوں میں امید کی کرن پیدا کی، اور یہ اسی کی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ آج وہ گاؤں علم کے نور سے روشن ہو رہا تھا۔
آپ کی رائے:
کیا آپ کے خیال میں لیلیٰ کا فیصلہ درست تھا؟ محبت اور خاندانی عزت کے درمیان اگر ایسا کوئی موڑ آئے تو آپ کیا کریں گے؟ اپنی قیمتی رائے کا اظہار ضرور کیجیے گا۔
اگلی قسط کا انتظار:
کیا لیلیٰ کے والد واقعی بدل گئے تھے؟ اور گاؤں میں علم کی روشنی کس طرح پھیلتی ہے؟ جاننے کے لیے پڑھیے اگلی قسط۔