🔍 Search Your Health Problem Here

دعا کی قبولیت کے سنہری اُصول: قرآن و سنت کی روشنی میں ایک جامع رہنما

ہر انسان اپنی زندگی میں کبھی نہ کبھی ایسے لمحات سے گزرتا ہے جب وہ خود کو بے بس اور لاچار محسوس کرتا ہے۔ ایسے میں اُسے ایک ایسی ذات کی تلاش ہوتی ہے جو ہر مشکل کشا ہو، ہر حاجت پوری کرنے والی ہو اور ہر دکھ درد کا مداوا ہو۔ ایمان والوں کے لیے یہ ذات اللہ رب العزت کی ہے، اور اُس سے رجوع کا سب سے طاقتور ذریعہ ’دعا‘ ہے۔ دعا، اللہ تعالیٰ سے بندے کے براہ راست تعلق کا نام ہے، ایک ایسی سرگوشی جو عرشِ معلیٰ تک پہنچتی ہے اور رحمتِ الٰہی کو متوجہ کرتی ہے۔ یہ صرف خواہشات کا اظہار نہیں بلکہ بندگی کا اقرار، عاجزی کا مظہر اور اللہ کی قدرتِ کاملہ پر مکمل یقین کا نام ہے۔

🌟 Join Us On Social Media — Stay Healthy & Informed!

اسلام میں دعا کو عبادت کا مغز اور مومن کا سب سے بڑا ہتھیار قرار دیا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”دعا ہی عبادت ہے۔“ (ترمذی) اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ خود اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں اپنے بندوں کو دعا مانگنے کا حکم دیا ہے: ﴿وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ﴾ ترجمہ: ”اور تمہارے رب نے فرمایا مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعا قبول کروں گا، بے شک جو لوگ میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں، وہ عنقریب ذلت کے ساتھ جہنم میں داخل ہوں گے۔“ (سورۃ غافر، 40:60) یہ آیت اس بات کا واضح اعلان ہے کہ اللہ اپنے بندوں کی دعاؤں کو سنتا اور قبول کرتا ہے، اور دعا نہ کرنا تکبر کے مترادف ہے۔ تاہم، دعا کی قبولیت کے کچھ ایسے سنہری اُصول اور شرائط ہیں جن کا لحاظ کرنا بے حد ضروری ہے، تاکہ ہماری دعائیں بارگاہِ الٰہی میں شرفِ قبولیت حاصل کر سکیں۔

قرآن و سنت کی روشنی میں دعا کی وضاحت

دعا کی فضیلت و اہمیت

دعا کی فضیلت بے شمار احادیث سے ثابت ہے۔ یہ بندے کو اپنے خالق سے جوڑنے والا سب سے مضبوط رشتہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کو یہ بات بہت پسند ہے کہ اُس سے مانگا جائے اور ہر حاجت اُسی کے در پر پیش کی جائے۔ جو شخص اللہ سے دعا نہیں مانگتا، اللہ اُس پر غضبناک ہوتا ہے۔ دعا دراصل اللہ کی عظمت اور اپنی بندگی کا اقرار ہے۔ جب ایک بندہ اپنے تمام معاملات اللہ کے سپرد کرتا ہے تو اُس کے دل کو سکون اور اطمینان نصیب ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جو تقدیر کو بدلنے کی بھی طاقت رکھتا ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ: ”قضا کو کوئی چیز رد نہیں کرتی مگر دعا۔“ (ترمذی)

دعا کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ یہ ایمان کو مضبوط کرتی ہے اور اللہ پر توکل میں اضافہ کرتی ہے۔ جب انسان دعا مانگتا ہے، تو وہ شعوری یا لاشعوری طور پر یہ اقرار کرتا ہے کہ اللہ ہی تمام طاقتوں کا مالک ہے اور صرف وہی اُس کی ضروریات پوری کر سکتا ہے۔ یہ عمل نہ صرف روحانی بالیدگی کا باعث بنتا ہے بلکہ ذہنی سکون اور اندرونی طاقت بھی فراہم کرتا ہے۔

دعا کی قبولیت کا وعدہ اور اس کی حکمتیں

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ ۖ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ ۖ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ﴾ ترجمہ: ”اور جب میرے بندے آپ سے میرے متعلق پوچھیں تو (بتا دو کہ) میں (اُن کے) قریب ہی ہوں، ہر دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھ سے دعا کرتا ہے۔ پس وہ بھی میری بات مان لیا کریں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ وہ ہدایت پائیں۔“ (سورۃ البقرہ، 2:186) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے خود اپنی قربت اور دعاؤں کی قبولیت کا وعدہ فرمایا ہے۔ لیکن یہ بات ذہن نشین رکھنا ضروری ہے کہ دعا کی قبولیت کی کئی صورتیں ہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ ہر دعا عین اُسی شکل میں قبول ہو جس شکل میں وہ مانگی گئی ہو۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بندہ جب اپنے رب سے کوئی دعا مانگتا ہے تو اللہ اس کی دعا قبول کرتا ہے۔ (قبولیت کی صورت یہ ہوتی ہے) یا تو اسے دنیا میں وہی چیز جلدی عطا کر دی جاتی ہے، یا آخرت کے لیے ذخیرہ کر لی جاتی ہے، یا اس کے گناہوں کا کفارہ کر دیا جاتا ہے، بشرطیکہ وہ کسی گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے اور جلد بازی نہ کرے۔“ (ترمذی، صحیح مسلم) اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی حکمتِ بالغہ سے فیصلہ فرماتا ہے کہ بندے کے لیے کیا بہترین ہے۔ بعض اوقات ہماری مانگی ہوئی چیز ہمارے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے، اس لیے اللہ اس کے بدلے میں کوئی بہتر چیز عطا فرما دیتا ہے یا کسی آنے والی مصیبت کو ٹال دیتا ہے، یا اس کے اجر کو آخرت میں محفوظ کر دیتا ہے۔ یہ سب اللہ کی رحمت اور بندے سے محبت کا ثبوت ہے۔

دعا کی قبولیت کے سنہری اُصول اور شرائط

دعا کی قبولیت کے لیے چند بنیادی اُصول اور شرائط ہیں جن کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔ یہ شرائط دراصل دعا کے روحانی اثرات کو بڑھانے اور اسے اللہ کے ہاں زیادہ مقبول بنانے میں مدد دیتی ہیں۔

اخلاص اور توحید

دعا کی قبولیت کی سب سے بنیادی شرط یہ ہے کہ انسان صرف اور صرف اللہ تعالیٰ سے مانگے، اُس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے۔ اللہ کے سوا کسی پیر، ولی، یا کسی اور مخلوق کو پکارنا شرک ہے اور ایسی دعا ہرگز قبول نہیں ہوتی۔ دل میں مکمل اخلاص ہو اور یہ پختہ یقین ہو کہ صرف اللہ ہی ہر حاجت پوری کرنے پر قادر ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب تم مانگو تو اللہ ہی سے مانگو اور جب مدد چاہو تو اللہ ہی سے مدد چاہو۔“ (ترمذی) اخلاص کا مطلب یہ بھی ہے کہ دعا کے وقت دل حاضر ہو اور مکمل یکسوئی کے ساتھ اللہ کی طرف متوجہ ہو، نہ کہ بے دلی اور غفلت کے ساتھ۔

رزق حلال اور پرہیزگاری

دعا کی قبولیت میں رزقِ حلال کا کردار انتہائی اہم ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ایک شخص کا ذکر کیا جو لمبے سفر کے بعد پراگندہ حال آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر دعا مانگ رہا تھا، لیکن آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس کا کھانا حرام کا، اس کا پینا حرام کا، اس کا لباس حرام کا اور اس کی پرورش حرام سے ہوئی ہے، تو اس کی دعا کیسے قبول ہو گی؟ (صحیح مسلم) اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ حرام کمائی اور حرام مال کا استعمال دعا کی قبولیت میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس لیے ہر مسلمان کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنی آمدنی، خوراک اور لباس کے حلال ہونے کا خاص خیال رکھے۔ پرہیزگاری اور گناہوں سے بچنا بھی دعا کی قبولیت کے لیے ضروری ہے۔

جلد بازی سے پرہیز

بعض لوگ دعا مانگتے ہیں اور جب فوراً قبولیت کے آثار نظر نہیں آتے تو جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مایوس ہو جاتے ہیں اور دعا مانگنا چھوڑ دیتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے ہر ایک کی دعا قبول کی جاتی ہے جب تک وہ جلد بازی کرتے ہوئے یہ نہ کہے کہ میں نے دعا تو بہت کی لیکن قبول ہی نہیں ہوئی۔“ (بخاری، مسلم) دعا میں استقامت اور صبر بہت ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی دعاؤں کو سنتا ہے، اور وہ بہترین وقت پر بہترین صورت میں اُس کا جواب دیتا ہے۔ ہمیں اللہ کی حکمت پر بھروسہ رکھنا چاہیے اور مسلسل دعا مانگتے رہنا چاہیے۔

گناہ اور قطع رحمی سے اجتناب

دعا کی قبولیت کے لیے یہ بھی ایک شرط ہے کہ دعا کسی گناہ یا قطع رحمی (رشتہ توڑنے) پر مشتمل نہ ہو۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بندے کی دعا اس وقت تک قبول ہوتی رہتی ہے جب تک وہ کسی گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہیں مانگتا۔“ (صحیح مسلم) لہٰذا، ہمیں اپنی دعاؤں میں ہمیشہ خیر اور بھلائی طلب کرنی چاہیے اور ایسے کاموں سے بچنا چاہیے جو اللہ کی نافرمانی یا دوسروں کے حقوق کی تلفی کا باعث بنیں۔

اللہ پر حسنِ ظن

دعا مانگتے وقت اللہ تعالیٰ پر کامل یقین اور حسنِ ظن رکھنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ حدیث قدسی میں فرماتا ہے: ”میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں جو وہ مجھ سے رکھتا ہے۔“ (بخاری، مسلم) اس کا مطلب ہے کہ اگر بندہ یہ یقین رکھتا ہے کہ اللہ اس کی دعا قبول کرے گا تو اللہ اُس کی دعا قبول فرماتا ہے۔ مایوسی اور بدگمانی دعا کی قبولیت میں رکاوٹ بنتی ہے۔ جب ہم دعا مانگتے ہیں تو ہمیں یہ یقین ہونا چاہیے کہ ہم اُس ذات سے مانگ رہے ہیں جو تمام چیزوں پر قادر ہے اور جو کسی بھی چیز کے لیے ”کن فیکون“ کہہ دے تو وہ ہو جاتی ہے۔

حضورِ قلب اور عاجزی

دعا میں دل کی یکسوئی، خشوع و خضوع اور عاجزی کا ہونا بے حد ضروری ہے۔ بے دلی اور غفلت کے ساتھ مانگی گئی دعا قبول نہیں ہوتی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”دعا کرو اللہ سے اور تمہیں یقین ہو قبولیت پر، اور جان لو کہ اللہ غافل اور لاپروا دل کی دعا قبول نہیں کرتا۔“ (ترمذی) دعا کرتے وقت اپنے گناہوں کا اقرار کرنا، اللہ کی رحمت کا سوال کرنا اور انتہائی عاجزی کے ساتھ اپنی ضروریات پیش کرنا قبولیت کے امکانات کو بڑھاتا ہے۔

دعا مانگنے کے آداب

دعا کی قبولیت کے لیے کچھ ظاہری آداب کا خیال رکھنا بھی مستحب ہے، جو دعا کو مزید مؤثر بناتے ہیں۔

وضو اور قبلہ رُخ ہونا

اگرچہ دعا کے لیے وضو فرض نہیں، لیکن وضو کر کے دعا مانگنا مستحب ہے کیونکہ یہ اللہ سے ہم کلام ہونے کے لیے جسمانی اور ذہنی پاکیزگی کا احساس دلاتا ہے۔ اسی طرح قبلہ رُخ ہو کر دعا مانگنا بھی سنت سے ثابت ہے۔

ہاتھوں کو بلند کرنا

دعا مانگتے وقت ہاتھوں کو بلند کرنا نبی کریم ﷺ کی سنت ہے۔ آپ ﷺ نے متعدد مواقع پر دعا کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو اٹھایا ہے۔ اس میں اللہ کے حضور اپنی حاجت مندی اور عاجزی کا اظہار ہوتا ہے۔

اللہ کی حمد و ثناء اور درود شریف

دعا کا آغاز اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء اور رسول اللہ ﷺ پر درود شریف سے کرنا چاہیے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی دعا کرے تو پہلے اللہ کی حمد و ثناء بیان کرے، پھر نبی ﷺ پر درود بھیجے، پھر جو چاہے دعا مانگے۔“ (ابو داؤد، ترمذی) دعا کا اختتام بھی حمد و ثناء اور درود شریف پر کرنا بہتر ہے۔ یہ دونوں چیزیں دعا کی قبولیت کے لیے بنیاد فراہم کرتی ہیں۔

اللہ کے اسمائے حسنیٰ کا واسطہ

اللہ تعالیٰ کے خوبصورت ناموں (اسمائے حسنیٰ) کے ذریعے اُسے پکارنا دعا کی قبولیت کے لیے انتہائی مؤثر ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشاد ہے: ﴿وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ فَادْعُوهُ بِهَا﴾ ترجمہ: ”اور اللہ کے اچھے اچھے نام ہیں، سو انہیں کے ذریعے اللہ کو پکارو۔“ (سورۃ الاعراف، 7:180) ہر ضرورت کے مطابق اللہ کے متعلقہ نام کا واسطہ دے کر دعا مانگی جائے۔

پوشیدہ اور دھیمی آواز میں

دعا خشوع و خضوع کے ساتھ دھیمی اور پوشیدہ آواز میں مانگنا مستحب ہے۔ قرآنِ مجید میں ہے: ﴿ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ﴾ ترجمہ: ”اپنے رب کو عاجزی اور پوشیدہ طور پر پکارو، بے شک وہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔“ (سورۃ الاعراف، 7:55)

دعا کی تکرار

ایک ہی دعا کو بار بار مانگنا، خاص طور پر تین بار، نبی کریم ﷺ کی سنت ہے۔ اس میں اصرار اور شدتِ طلب کا اظہار ہوتا ہے جو اللہ کو پسند ہے۔

دعا کی قبولیت کے خاص اوقات و مقامات

کچھ ایسے خاص اوقات اور مقامات ہیں جہاں دعا کی قبولیت کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ ایک مومن کو ان لمحات کو غنیمت جاننا چاہیے۔

  • رات کا آخری پہر: تہجد کا وقت، جب اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے اور پکارتا ہے کہ کوئی مانگنے والا ہے؟
  • اذان اور اقامت کے درمیان: نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اذان اور اقامت کے درمیان کی جانے والی دعا رد نہیں کی جاتی۔
  • بارش کے وقت: بارش اللہ کی رحمت ہے اور اس وقت کی دعا قبول ہوتی ہے۔
  • سجدے کی حالت میں: انسان اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب سجدے کی حالت میں ہوتا ہے، اس لیے سجدے میں کثرت سے دعا کرنی چاہیے۔
  • فرض نمازوں کے بعد: فرض نمازوں کے فورا بعد کی گئی دعا بھی قبولیت کے قریب ہوتی ہے۔
  • جمعہ کے دن کی ایک خاص گھڑی: جمعہ کے دن ایک ایسی گھڑی آتی ہے جس میں مانگی گئی دعا رد نہیں ہوتی۔ (بخاری و مسلم)
  • زمزم پیتے وقت: زمزم کے پانی کو نیت کر کے پینے اور دعا مانگنے سے دعا قبول ہوتی ہے۔
  • سفر کی حالت میں: مسافر کی دعا قبول کی جاتی ہے۔
  • مظلوم کی دعا: مظلوم کی دعا اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا۔ (بخاری و مسلم)
  • والدین کی اولاد کے حق میں دعا: والدین کی دعا اولاد کے حق میں قبول ہوتی ہے چاہے وہ حق میں ہو یا خلاف۔ (ترمذی)

اسلامی تاریخ اور سیرت سے مثالیں

قرآنِ مجید انبیاء کرام علیہم السلام اور نیک لوگوں کی دعاؤں سے بھرا پڑا ہے جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ دعا ہر مشکل اور پریشانی کا حل ہے۔ ان دعاؤں کی قبولیت نے تاریخ کے دھارے بدلے ہیں۔

  • حضرت یونس علیہ السلام کی دعا: جب وہ مچھلی کے پیٹ میں تھے تو انہوں نے اللہ کو پکارا: ﴿لَّا إِلَٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ﴾ ترجمہ: ”تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ظالموں میں سے تھا۔“ (سورۃ الانبیاء، 21:87) اللہ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور انہیں مچھلی کے پیٹ سے نجات ملی۔
  • حضرت ایوب علیہ السلام کی دعا: انہوں نے بیماری اور مصیبت میں اللہ کو پکارا: ﴿أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ﴾ ترجمہ: ”مجھے تکلیف پہنچی ہے اور تو رحم کرنے والوں میں سب سے بڑا رحم کرنے والا ہے۔“ (سورۃ الانبیاء، 21:83) اللہ نے ان کی بیماری دور کر دی۔
  • نبی کریم ﷺ کی دعائیں: جنگِ بدر کے موقع پر آپ ﷺ نے بڑی عاجزی سے اللہ سے مدد طلب کی، اور اللہ نے فرشتوں کے لشکر سے مدد فرمائی، جس کے نتیجے میں مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی۔ اسی طرح متعدد مقامات پر آپ ﷺ نے امت کے لیے، بارش کے لیے، اور مختلف حالات میں دعائیں مانگیں جو قبول ہوئیں۔
  • حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا: انہوں نے بڑھاپے میں اولاد کے لیے دعا کی: ﴿رَبِّ لَا تَذَرْنِي فَرْدًا وَأَنتَ خَيْرُ الْوَارِثِينَ﴾ ترجمہ: ”اے میرے پروردگار! مجھے اکیلا نہ چھوڑ، تو سب سے بہتر وارث ہے۔“ (سورۃ الانبیاء، 21:89) اور اللہ نے انہیں یحییٰ علیہ السلام جیسا بیٹا عطا کیا۔

آج کے دور میں اس تعلیم کی ضرورت

آج کا دور مادیت پرستی اور تیز رفتاری کا دور ہے، جہاں ہر شخص کسی نہ کسی ذہنی دباؤ، پریشانی یا اضطراب کا شکار ہے۔ ایسے میں دعا ہی وہ واحد ذریعہ ہے جو انسان کو روحانی طور پر مضبوط بناتا ہے اور اسے ذہنی سکون فراہم کرتا ہے۔ جدید دور کے چیلنجز جیسے کہ ڈپریشن، بے چینی اور مایوسی کا مقابلہ کرنے کے لیے دعا ایک مؤثر ہتھیار ہے۔ یہ ہمیں اللہ سے جوڑے رکھتی ہے، جو ہماری تمام پریشانیوں کا حل جانتا ہے اور ہمارے ہر دکھ کو دور کرنے پر قادر ہے۔ دعا کے ذریعے انسان اللہ پر اپنے توکل کا اظہار کرتا ہے، جس سے اس کے اندر مشکلات کا سامنا کرنے کی ہمت اور لچک پیدا ہوتی ہے۔ یہ انسان کو ایک مضبوط مقصد اور سمت فراہم کرتی ہے، اور زندگی کے اُتار چڑھاؤ میں پرامید رہنے میں مدد دیتی ہے۔ مزید یہ کہ، دعا کے نفسیاتی فوائد بھی ہیں جیسے کہ تناؤ میں کمی، سوچوں میں وضاحت اور مثبت سوچ کا فروغ۔

ایمان کی یہ پوشیدہ طاقت ہمیں زندگی کے تمام پہلوؤں میں مضبوط بناتی ہے۔ مشکلات میں اللہ کی طرف رجوع کرنا اور اُس کی رحمت پر یقین رکھنا دراصل اپنی اندرونی طاقت کو پہچاننے کے مترادف ہے۔ اسی حوالے سے، آپ زندگی کی پوشیدہ طاقت کو پہچاننا: لچک اور امید کی ایک کہانی بھی پڑھ سکتے ہیں جو آپ کو مشکلات میں ثابت قدم رہنے کے لیے مزید حوصلہ دے گی۔

عام غلط فہمیاں اور ان کی اصلاح

دعا کے حوالے سے کچھ عام غلط فہمیاں بھی پائی جاتی ہیں جن کی اصلاح ضروری ہے۔

  • غلط فہمی 1: ”میری دعا کبھی قبول نہیں ہوتی۔“

    اص

Dedicated to providing evidence-based health insights and wellness tips. Our mission is to simplify complex medical research into actionable advice for a healthier lifestyle. Focused on UK health standards and holistic well-being.

Sharing Is Caring:

Leave a comment