فضا میں سردی کی شدت بڑھ رہی تھی اور دسمبر کی وہ اداس شام، شہر کی رونقوں سے دور، ایک خاموش اور ویران کوٹھے میں ڈھل رہی تھی۔ کچے صحن میں جلتی ہوئی لکڑی کی مدھم آگ، سرد ہوا کے دوش پر ادھر ادھر لہراتی، دیواروں پر سایوں کا ناچ دکھا رہی تھی۔ اس کوٹھے میں، فاطمہ، ایک جوان مگر حالات کی ماری عورت، اپنے دو ننھے بچوں کے ساتھ بیٹھی تھی۔ اس کی آنکھوں میں غربت کی تھکن، مگر دل میں ایک ان بجھتی ہوئی امید کی چنگاری تھی۔ شوہر کی وفات کو ابھی سال ہی گزرا تھا، اور اس کے بعد زندگی کا ہر لمحہ ایک امتحان بن گیا تھا۔
🌟 Join Us On Social Media — Stay Healthy & Informed!
’’امی، بھوک لگی ہے،‘‘ ننھا علی، جو شاید پانچ سال کا تھا، اپنی ماں کی گود میں سر رکھ کر بولا۔ فاطمہ نے ایک گہری سانس لی اور اپنے سینے سے لگا لیا۔ ’’میرا لال، بس تھوڑی دیر اور۔ آج روٹی پک جائے گی، پھر سب سیر ہو کر کھائیں گے۔‘‘ اس کی آواز میں وہ ہمدردی تھی جو ہر ماں کے لہجے میں ہوتی ہے، مگر آنکھوں میں مستقبل کی فکر نے گہرا اندھیرا کر رکھا تھا۔
فاطمہ کے سسر، ایک سخت دل اور لالچی شخص، شوہر کی وفات کے بعد ہی ان کا سارا اثاثہ ہتھیا کر بیٹھ گئے تھے۔ ان کی نظر میں فاطمہ اور اس کے بچے ایک بوجھ سے زیادہ کچھ نہ تھے۔ وہ اکثر انہیں گھر سے نکال دینے کی دھمکیاں دیتے، مگر فاطمہ کی خاموش آہ اور بچوں کی معصوم صورتیں انہیں کسی حد تک روکے رکھتی تھیں۔
غربت کا سایہ اور امید کی کرن
اگلی صبح، فاطمہ نے فیصلہ کیا کہ وہ اب مزید خاموش نہیں رہے گی۔ اس نے کچھ پرانے کپڑے اکٹھے کیے اور بازار کی طرف چل دی۔ اس کا ارادہ تھا کہ وہ ان کپڑوں کو سلے اور فروخت کر کے کچھ روزگار کمائے۔ بازار میں قدم رکھتے ہی اسے سلیمہ ملی، جو اس کی مرحومہ سہیلی کی بہن تھی۔ سلیمہ نے فاطمہ کی حالت دیکھی تو اس کا دل بھر آیا۔
’’فاطمہ، تم اتنی پریشان کیوں ہو؟‘‘ سلیمہ نے محبت سے پوچھا۔
فاطمہ نے ساری روداد سنائی۔ سلیمہ نے جب سنا تو اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ ’’اللہ کا شکر ہے کہ تم نے ہمت نہیں ہاری۔ میرے شوہر کا ایک چھوٹا سا کارخانہ ہے، اگر تم وہاں صفائی اور مدد کے لیے کام کر سکو تو میں بات کروں؟ تنخواہ شاید زیادہ نہ ہو، مگر گزارا تو ہو جائے گا۔‘‘
فاطمہ کے چہرے پر امید کی ایک کرن چمکی۔ ’’بس یہی چاہیے تھا مجھے۔ شکریہ سلیمہ، تم نے میری زندگی بدل دی ہے۔‘‘
ایک نیا آغاز اور مشکلیں
فاطمہ نے سلیمہ کے شوہر کے کارخانے میں کام شروع کر دیا۔ دن بھر محنت مزدوری کرتی اور شام کو بچوں کے پاس واپس لوٹ آتی۔ اس کی محنت رنگ لانے لگی۔ کچھ ہی عرصے میں اس نے اپنے لیے ایک چھوٹی سی رہائش کا انتظام کر لیا۔ بچوں کی تعلیم و تربیت پر بھی توجہ دینے لگی۔ مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔
ایک دن، کارخانے میں ایک حادثہ پیش آیا۔ آگ لگنے سے کافی نقصان ہوا۔ سلیمہ کے شوہر، جو پہلے ہی مالی مشکلات کا شکار تھے، اس حادثے سے بری طرح متاثر ہوئے۔ اب ان کے پاس فاطمہ کو تنخواہ دینے کے لیے بھی پیسے نہ تھے۔
’’فاطمہ، مجھے معاف کر دو۔ میں اب تمہیں کچھ نہیں دے سکتا۔‘‘ سلیمہ کے شوہر نے شرمندگی سے کہا۔
فاطمہ کے پاؤں تلے زمین نکل گئی۔ اس نے پھر سے وہی غربت کا اندھیرا دیکھ لیا۔ مگر اس بار وہ پہلے سے زیادہ مضبوط تھی۔ اس نے کہا، ’’کوئی بات نہیں بھائی صاحب۔ پریشان نہ ہوں۔ اللہ سب خیر کرے گا۔‘‘
تقدیر کا وہ موڑ
فاطمہ نے اب خود اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کا عزم کر لیا۔ اس نے جو تھوڑی بہت رقم بچائی تھی، اس سے اور کچھ ادھار لے کر ایک چھوٹا سا سلائی کا کام شروع کیا۔ وہ دن رات محنت کرتی۔ اس کے ہاتھوں میں وہ ہنر تھا جو اب تک چھپا ہوا تھا۔ وہ دلکش ڈیزائن والے کپڑے سلنے لگی۔ آہستہ آہستہ اس کے کام کی دھوم مچ گئی۔
ایک دن، جب وہ بازار میں کپڑے لینے گئی، تو اس کی ملاقات اپنے سسر سے ہوئی۔ وہ اب اور بھی زیادہ بدحال نظر آ رہے تھے۔ ان کی ساری دولت لالچ کی نذر ہو چکی تھی۔ انہوں نے فاطمہ سے مدد مانگی۔
فاطمہ نے اپنی آنکھوں میں نفرت کی جگہ ہمدردی اور بڑ (بڑا) دل رکھا۔ ’’ابا جان، آپ فکر نہ کریں۔ اب آپ میرے پاس رہیں گے۔ میں آپ کا خیال رکھوں گی۔‘‘
اس کے سسر حیران رہ گئے۔ انہیں یقین نہ آیا کہ جس عورت کو انہوں نے سالوں تک ذلیل کیا، وہ آج ان کی مدد کو تیار ہے۔
انجام اور سبق
فاطمہ کی زندگی اب خوشحالی کی طرف گامزن تھی۔ اس نے اپنے بچوں کو بہترین تعلیم دلائی۔ وہ خود ایک کامیاب خاتون بن گئی۔ اس نے ثابت کر دیا کہ انسان اگر ہمت اور سچائی سے کام لے تو تقدیر کو بھی بدل سکتا ہے۔ اس کی کہانی ایک سبق تھی کہ مشکلات زندگی کا حصہ ہیں، مگر صبر، محنت اور بڑ (بڑا) دل سے ان پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ لالچ ہمیشہ رسوائی کا باعث بنتا ہے، جبکہ قربانی اور ہمدردی ہی اصل کامیابی کا راز ہیں۔
فاطمہ کی کہانی نے کئی لوگوں کو متاثر کیا اور انہیں زندگی میں امید کی کرن دکھایا۔ اس کی زندگی اس بات کا ثبوت تھی کہ انسان کا سب سے بڑا سرمایہ اس کا حوصلہ اور اس کا کردار ہوتا ہے۔
آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا آپ نے کبھی ایسی صورتحال کا سامنا کیا ہے؟ اپنی قیمتی آراء سے ضرور آگاہ کیجیے گا۔