🔍 Search Your Health Problem Here

تقدیر کا کھیل: ایک دل دہلا دینے والی کہانی

گاؤں کی تنگ گلیاں، مٹی کے گھروندے اور شام کا سُرمئی اجالا، سب مل کر ایک عجیب سی خاموشی طاری کیے ہوئے تھے۔ اسی خاموش ماحول میں، ایک کچے مکان کے ویران آنگن میں، لیلا نامی ایک جوان لڑکی اپنے آنسوؤں سے دامن بھگو رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں ڈوبتے سورج کی طرح امیدیں دم توڑ رہی تھیں اور ہونٹوں پر ایک اداس مسکراہٹ تھی۔ لیلا کا گاؤں، جس کا نام ‘خوشحال پور’ تھا، نام کا ہی خوشحال تھا۔ غربت اور بدحالی نے اس گاؤں کے باسیوں کو بری طرح جکڑ رکھا تھا۔ لیلا کے گھر میں تو غربت کا راج تھا۔ اس کے والد، جو ایک غریب کسان تھے، بیماری کی وجہ سے بستر پر پڑے تھے۔ ماں کا سایہ بچپن میں ہی سر سے اٹھ گیا تھا۔ لیلا اور اس کے چھوٹے بھائی، رؤف، کے لیے زندگی ایک کٹھن سفر بن چکی تھی۔

🌟 Join Us On Social Media — Stay Healthy & Informed!

لیلا کا باپ، بوڑھا احمد، بیماری کے بستر پر لیٹا، اپنی بیٹی کے چہرے کو دیکھتا تو اس کا دل دکھ سے بھر جاتا۔ وہ چاہتا تھا کہ اس کی بیٹی کے چہرے پر وہ خوشی لوٹ آئے جو بیماری اور غربت کی دھند میں کہیں کھو گئی تھی۔ مگر حالات ایسے تھے کہ وہ خود بے بس تھا۔ رؤف، جو ابھی محض سات سال کا تھا، اپنی بہن کی گود میں سر رکھے، ننھی آنکھوں سے دنیا کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ لیلا اس کی ہر فرمائش پوری کرتی، مگر اکثر اوقات اس کے پاس خود کے لیے بھی کچھ نہیں بچتا تھا۔ وہ اکثر فاقہ کر لیتی، مگر رؤف کو کبھی بھوکا سونے نہیں دیتی تھی۔

ایک شام، جب سورج پہاڑوں کی اوٹ میں چھپ رہا تھا، گاؤں میں ایک تیز رفتار موٹر سائیکل آ رکی۔ موٹر سائیکل سوار، گورا چٹا، نوجوان، جس نے قیمتی کپڑے پہنے ہوئے تھے، گاؤں کے مولوی صاحب کے گھر کی طرف بڑھا۔ گاؤں والے حیرت سے اسے دیکھ رہے تھے۔ یہ نوجوان، جس کا نام عمران تھا، شہر سے آیا تھا۔ وہ گاؤں کے رئیس، سردار امین خان، کا بھتیجا تھا۔ سردار امین خان گاؤں کا سب سے امیر اور بااثر شخص تھا۔ اس کے پاس زمینیں تھیں، جائیداد تھی، اور گاؤں کے لوگ اس کے اشارہ ابرو پر ناچتے تھے۔

ایک نیا موڑ

عمران کے آنے کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ اگلے روز، عمران سردار امین خان کے ساتھ لیلا کے گھر پہنچا۔ لیلا کے والد، احمد، سردار کو دیکھتے ہی کھڑا ہو گیا، مگر بیماری نے اسے کمزور کر دیا تھا۔ سردار امین خان نے احمد سے اس کی بیماری کا حال پوچھا اور پھر اس کی غربت کا مذاق اڑایا۔ لیلا یہ سب سن کر تلملا اٹھی، مگر خاموش رہی۔ جب سردار اور عمران جانے لگے، تو عمران نے اچانک رک کر لیلا کو دیکھا۔ لیلا کی آنکھوں میں نمی تھی، مگر اس کے چہرے پر ایک وقار تھا۔ عمران کو اس کی سادگی اور وقار نے متاثر کیا۔

کچھ دنوں بعد، عمران دوبارہ لیلا کے گھر آیا۔ اس بار وہ اکیلا تھا۔ اس نے لیلا کے والد کے علاج کے لیے کچھ پیسے دیئے اور رؤف کے لیے کپڑے اور کھانے پینے کا سامان۔ لیلا حیران تھی، مگر شکر گزار بھی۔ عمران نے لیلا سے کہا، “لیلا، میں تمہاری مدد کرنا چاہتا ہوں۔ میں تمہاری شادی اپنے ساتھ شہر میں کرنا چاہتا ہوں۔ وہاں تمہیں کسی چیز کی کمی نہیں ہوگی۔” لیلا سکتے میں آ گئی۔ اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ایسا کچھ ہو سکتا ہے۔ اس نے اپنے والد کی طرف دیکھا، جو اسے اشارہ کر رہے تھے کہ وہ عمران کی بات مان لے۔

جذباتی موڑ

لیلا کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا۔ اس نے عمران کے ساتھ شہر جانے کا فیصلہ کر لیا۔ مگر اس کے دل میں ایک خلش تھی۔ اسے رؤف کی جدائی کا غم تھا۔ اس نے رؤف کو گلے لگایا اور روتے ہوئے کہا، “میرے بھائی، میں جلد واپس آؤں گی۔” رؤف بھی رو رہا تھا۔

شہر میں لیلا کی زندگی بدل گئی۔ عمران نے اس کا بہت خیال رکھا۔ اسے اچھا لباس، اچھا کھانا، اور شہر کی وہ تمام سہولیات دیں جن کا اس نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا۔ مگر لیلا کا دل شہر کی چمک دمک میں بھی گاؤں کی یادوں میں اٹکا رہا۔ اسے اپنے والد اور رؤف کی فکر ستاتی تھی۔ عمران نے اسے بتایا کہ وہ جلد ہی اس کے والد اور بھائی کو بھی شہر بلا لے گا۔

ایک دن، لیلا بازار میں خریداری کر رہی تھی کہ اس کی نظر ایک دکان پر پڑی۔ دکان پر وہی پرانے طرز کے کپڑے رکھے تھے جو اس کے گاؤں میں عام تھے۔ اس نے دکاندار سے پوچھا، “یہ کپڑے کہاں سے آئے ہیں؟” دکاندار نے بتایا کہ یہ کپڑے ‘خوشحال پور’ گاؤں سے آئے ہیں۔ لیلا حیران رہ گئی۔ اس نے دکاندار سے سب تفصیلات پوچھیں۔ دکاندار نے بتایا کہ یہ کپڑے سردار امین خان کی فیکٹری میں بنتے ہیں اور گاؤں کے لوگ ان کے لیے کام کرتے ہیں۔

لیلا کو کچھ سمجھ نہیں آیا۔ وہ فوراً عمران کے پاس گئی۔ اس نے عمران سے پوچھا، “کیا تم نے میرے والد کو اور رؤف کو بھی اپنی فیکٹری میں کام کرنے کے لیے رکھا ہے؟” عمران نے پہلے تو بات ٹالنے کی کوشش کی، مگر جب لیلا نے اصرار کیا تو اس نے سچ بتا دیا۔ اس نے بتایا کہ سردار امین خان نے اس کے والد کو فیکٹری میں کام کرنے کے لیے رکھا ہے اور وہ لیلا کے والد کے نام پر ہی سب کچھ کر رہا ہے۔ عمران نے یہ بھی بتایا کہ اس کے چچا، سردار امین خان، دراصل ایک لالچی اور ظالم انسان ہے۔ وہ گاؤں والوں کا استحصال کرتا ہے۔

کلائمکس

یہ سن کر لیلا کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔ اسے سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیا کرے۔ عمران نے اسے تسلی دی اور کہا، “لیلا، میں تمہارے والد اور بھائی کو یہاں لے آؤں گا۔ ہم مل کر اس مسئلے کا حل نکالیں گے۔” مگر لیلا اب زیادہ انتظار نہیں کر سکتی تھی۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ خود گاؤں جائے گی۔

جب لیلا گاؤں پہنچی، تو اس نے دیکھا کہ حالات بہت بگڑ چکے تھے۔ اس کے والد کی صحت مزید خراب ہو چکی تھی۔ رؤف بھی کمزور اور اداس نظر آ رہا تھا۔ سردار امین خان نے گاؤں والوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رکھے تھے۔ اس نے ان کی زمینیں ہتھیا لی تھیں اور انہیں بھکاری بنا دیا تھا۔ لیلا نے اپنے والد سے سب تفصیلات پوچھیں۔ احمد نے بتایا کہ سردار امین خان نے انہیں جھوٹے مقدمات میں پھنسانے کی دھمکی دی ہے اور اگر انہوں نے اس کے لیے کام نہیں کیا تو وہ ان کی زمینیں چھین لے گا۔

لیلا نے غصے اور مایوسی سے سردار امین خان کا سامنا کرنے کا فیصلہ کیا۔ اگلے روز، وہ رؤف کو ساتھ لے کر سردار امین خان کے گھر پہنچی۔ سردار نے اسے دیکھ کر مذاق اڑایا۔ مگر لیلا نے ہمت نہیں ہاری۔ اس نے کہا، “سردار صاحب، آپ نے ہمارے ساتھ بہت ناانصافی کی ہے۔ آپ نے ہمارے گاؤں کو برباد کر دیا ہے۔” سردار نے اسے دھمکیاں دیں، مگر لیلا نے اس کی ایک نہ سنی۔

اسی اثنا میں، عمران بھی گاؤں پہنچ گیا۔ اس نے دیکھا کہ لیلا تنہا سردار کا سامنا کر رہی ہے۔ وہ آگے بڑھا اور لیلا کا ساتھ دیا۔ اس نے سردار کو بتایا کہ وہ سب کچھ جانتا ہے اور اگر اس نے گاؤں والوں کو تنگ کرنا بند نہ کیا تو وہ پولیس کو بتا دے گا۔ سردار امین خان عمران کو دیکھ کر بوکھلا گیا۔ اسے پتہ تھا کہ عمران شہر میں اس کی بدنامی پھیلا سکتا ہے۔

انجام

عمران اور لیلا کی جرات کو دیکھ کر گاؤں والے بھی متحد ہو گئے۔ انہوں نے سردار امین خان کے خلاف آواز اٹھائی۔ سردار امین خان کو سمجھ آ گیا کہ اب وہ کچھ نہیں کر سکتا۔ اس نے لیلا کے والد سے معافی مانگی اور وعدہ کیا کہ وہ آئندہ ایسا نہیں کرے گا۔ اس نے گاؤں والوں کی زمینیں بھی انہیں واپس کر دیں۔

لیلا کی ہمت اور سچائی کی فتح ہوئی۔ اس نے نہ صرف اپنے خاندان کو بچایا، بلکہ پورے گاؤں کو ظلم سے نجات دلائی۔ عمران نے لیلا سے شادی کر لی اور دونوں نے مل کر گاؤں کی ترقی کے لیے کام شروع کیا۔ انہوں نے گاؤں میں ایک اسکول اور ایک ہسپتال بنوایا۔ رؤف کو بھی تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا۔

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ تقدیر کے کھیل میں انسان کتنا بے بس ہو جاتا ہے، مگر اگر انسان کے دل میں سچائی اور ہمت ہو تو وہ کسی بھی مشکل کا سامنا کر سکتا ہے۔ لالچ کا انجام ہمیشہ برا ہوتا ہے، اور قربانی کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔

آپ کی اس کہانی پر کیا رائے ہے؟ کیا آپ لیلا کی جرات سے متاثر ہوئے؟ ہمیں اپنی قیمتی رائے سے ضرور آگاہ کیجیے گا۔

Dedicated to providing evidence-based health insights and wellness tips. Our mission is to simplify complex medical research into actionable advice for a healthier lifestyle. Focused on UK health standards and holistic well-being.

Sharing Is Caring:

Leave a comment