🔍 Search Your Health Problem Here

اندھیروں میں روشن ستارے: ایک nadzie کی داستان

یہ کہانی ہے ایک ایسے گاؤں کی، جہاں غربت اور افلاس کا راج تھا۔ لوگ بمشکل اپنی روزی روٹی کماتے اور زندگی کی بنیادی ضروریات سے بھی محروم تھے۔ اسی گاؤں میں ایک ننھا سا بچہ رہتا تھا، جس کا نام احمد تھا۔ احمد ایک یتیم بچہ تھا، جس کی پرورش اس کی بوڑھی دادی نے کی تھی۔ دادی اماں، جو خود بیماریوں کا شکار تھیں، احمد کو اپنی جان سے زیادہ پیار کرتی تھیں۔ وہ دن رات مزدوری کر کے احمد کے لیے دو وقت کی روٹی کا انتظام کرتی تھیں۔

🌟 Join Us On Social Media — Stay Healthy & Informed!

احمد بچپن سے ہی بہت ذہین اور سمجھدار تھا۔ وہ اپنی دادی کی مشکلات کو سمجھتا تھا اور دل میں یہ خواہش رکھتا تھا کہ وہ بڑا ہو کر اپنی دادی کے لیے سب کچھ کرے گا، جو انہوں نے اس کے لیے کیا تھا۔ گاؤں میں کوئی سکول نہیں تھا، اور تعلیم کا تصور بھی لوگ نہیں رکھتے تھے۔ ان کی دنیا صرف محنت مزدوری اور خدا کے سہارے پر مبنی تھی۔ مگر احمد کا دل علم کی پیاس سے بے قرار رہتا تھا۔ وہ اکثر گاؤں کے مولوی صاحب کے پاس بیٹھ جاتا جو بچوں کو معمولی کتابیں پڑھایا کرتے تھے۔ مولوی صاحب احمد کی ذہانت سے بہت متاثر تھے۔

ایک دن گاؤں میں ایک مہاجر عالم دین تشریف لائے۔ وہ اپنے ساتھ کچھ کتابیں اور علم کا نور لائے تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ گاؤں کے بچے علم سے ناآشنا ہیں اور ان کی زندگیاں تاریکی میں ہیں۔ انہوں نے گاؤں والوں سے درخواست کی کہ وہ ان کے بچوں کو علم سیکھنے کا موقع دیں۔ گاؤں والے پہلے تو ہچکچائے، لیکن پھر مولوی صاحب کے اصرار پر وہ راضی ہو گئے۔ عالم دین نے ایک چھوٹا سا مدرسہ قائم کیا اور احمد سب سے پہلے ان کے پاس پہنچا۔

احمد نے تیزی سے سیکھنا شروع کیا۔ وہ دن رات مطالعہ کرتا اور عالم دین کی خاص توجہ اس پر تھی۔ عالم دین نے احمد کی صلاحیتوں کو پہچان لیا اور اسے مزید تعلیم کے لیے شہر بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ یہ احمد اور اس کی دادی کے لیے ایک بڑا امتحان تھا۔ دادی اماں اپنے اکلوتے سہارے کو کیسے جانے دیتیں؟ مگر احمد کے روشن مستقبل کے لیے انہوں نے دل پر پتھر رکھ لیا۔

شہر میں احمد نے ایک نئی زندگی کا آغاز کیا۔ وہاں اسے بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بھوک، افلاس اور تنہائی نے اسے گھیرا۔ لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری۔ اس کی دادی کی دعائیں اور اس کا اپنا عزم اسے آگے بڑھاتا رہا۔ اس نے دن میں مدرسے میں پڑھائی کی اور رات میں مزدوری کر کے اپنا خرچہ پورا کیا۔

کچھ سال گزر گئے۔ احمد نے اعلیٰ تعلیم حاصل کر لی اور ایک کامیاب ڈاکٹر بن گیا۔ وہ اپنے گاؤں واپس آیا، جہاں اس کا شاندار استقبال ہوا۔ اس نے سب سے پہلے اپنی بوڑھی دادی کو سجدہ شکر ادا کیا۔ پھر اس نے اپنے گاؤں کی حالت سدھارنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے گاؤں میں ایک بڑا ہسپتال بنایا، ایک سکول کھولا اور نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے۔

وہ گاؤں جو کبھی غربت اور جہالت کی تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا، اب علم اور روشنی کا گہوارہ بن گیا۔ احمد نے ثابت کر دیا کہ اگر انسان کے دل میں سچی لگن اور امید ہو، تو وہ کسی بھی مشکل کو عبور کر سکتا ہے۔ اس کی دادی جو ہمیشہ بیماریوں میں مبتلا رہتی تھیں، اب اپنے بیٹے کے بنائے ہوئے ہسپتال میں بہترین علاج پا رہی تھیں۔

ایک دن احمد اپنی دادی کے پاس بیٹھا تھا۔ دادی اماں نے احمد کا ہاتھ پکڑا اور کہا، “میرا بیٹا، تم نے میرا نام روشن کر دیا۔ مجھے فخر ہے تم پر۔” احمد کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے دادی کو گلے سے لگایا اور کہا، “یہ سب آپ کی دعاؤں کا نتیجہ ہے۔”

اخلاقی پیغام: یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ محنت، لگن اور امید سے ہم اپنی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ غربت یا حالات ہمیں کامیابی سے نہیں روک سکتے اگر ہم اپنے مقصد پر قائم رہیں۔ علم سب سے بڑی دولت ہے جو انسان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتی ہے۔

اختتام: احمد کی کہانی آج بھی اس گاؤں میں سنائی جاتی ہے، جو لوگوں کو حوصلہ اور امید دیتی ہے۔ وہ اندھیروں میں روشن ستارے کی طرح نمودار ہوا اور سب کی زندگیوں میں روشنی بھر دی۔

آپ کی رائے: آپ کو یہ کہانی کیسی لگی؟ کیا آپ اس طرح کے کرداروں سے متاثر ہوئے؟ اپنی قیمتی رائے کا اظہار ضرور کریں اور ہمیں بتائیں کہ آپ اگلی کہانی میں کیا دیکھنا چاہیں گے۔

Dedicated to providing evidence-based health insights and wellness tips. Our mission is to simplify complex medical research into actionable advice for a healthier lifestyle. Focused on UK health standards and holistic well-being.

Sharing Is Caring:

Leave a comment