🔍 Search Your Health Problem Here

اسلام میں استقامت: ایمان کی مضبوطی اور دائمی کامیابی کا راز

مرکزی کی ورڈ: استقامت, اسلامی معلومات

🌟 Join Us On Social Media — Stay Healthy & Informed!

ثانوی کی ورڈز: ایمان میں مضبوطی, دین پر قائم رہنا, مشکلات میں ثابت قدمی, سنت پر عمل, آخرت کی کامیابی, قرآن و سنت کی روشنی میں استقامت, عملی زندگی میں استقامت

موضوع کا تعارف اور اہمیت

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ دین اسلام میں جن بنیادی اصولوں اور صفات پر زور دیا گیا ہے، ان میں سے ایک اہم ترین صفت ‘استقامت’ ہے۔ استقامت کا مطلب ہے دین پر مضبوطی سے قائم رہنا، احکامات الٰہی کی بجا آوری میں ثابت قدمی اختیار کرنا، اور مشکلات و آزمائشوں کے باوجود اپنے ایمان اور عمل میں کوئی لغزش نہ آنے دینا۔ یہ وہ لازوال خوبی ہے جو مومن کو دنیا و آخرت میں سرخرو کرتی ہے۔ استقامت صرف ظاہری عبادات تک محدود نہیں بلکہ یہ مومن کے عقیدے، اخلاق، اور معاشرتی رویوں کا حصہ ہوتی ہے۔

استقامت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں خود اپنے حبیب حضرت محمد ﷺ کو اور دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کو استقامت اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ صفت انسان کو راہ حق سے بھٹکنے نہیں دیتی اور اسے ایک بامقصد زندگی گزارنے پر ابھارتی ہے۔

قرآن و سنت کی روشنی میں استقامت

قرآن مجید اور احادیث مبارکہ استقامت کی اہمیت اور فضیلت کو واضح کرنے کے لیے زرین اصولوں سے مزین ہیں۔ اللہ تعالیٰ سورہ ہود میں ارشاد فرماتا ہے:

“فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَكَ وَلَا تَطْغَوْا ۚ إِنَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ” (سورہ ہود: 112)

ترجمہ: “پس (اے محمد ﷺ) استقامت اختیار کیجیے جیسا کہ آپ کو حکم دیا گیا ہے اور (آپ کے ساتھ) وہ بھی جو تائب ہوئے اور سرکشی نہ کرو، بیشک وہ جو تم کرتے ہو سب دیکھ رہا ہے۔”

یہ آیت کریمہ نہ صرف نبی کریم ﷺ کو بلکہ آپ ﷺ کی پیروی کرنے والے تمام مومنین کو استقامت کا درس دیتی ہے۔ استقامت کا مطلب ہے کہ تمام مشکلات کے باوجود دین اسلام کے بنیادی عقائد اور احکامات پر مضبوطی سے جمے رہنا۔

ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

“إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ” (سورہ فصلت: 30)

ترجمہ: “بیشک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے، پھر وہ اس پر مضبوطی سے قائم ہوگئے، ان پر فرشتے اترتے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ نہ خوف کھاؤ اور نہ غم کرو، اور خوش ہو جاؤ اس جنت سے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔”

اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ پر ایمان لانے کے بعد اس پر استقامت اختیار کرنے والے مومنین کے لیے اللہ کی طرف سے اجر عظیم ہے۔ انہیں دنیا میں اطمینان اور آخرت میں جنت کی بشارت دی جاتی ہے۔

احادیث مبارکہ میں بھی استقامت کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: “یا رسول اللہ ﷺ! مجھے اسلام کے بارے میں کوئی ایسی بات بتائیے جو میں آپ ﷺ کے بعد کسی سے نہ پوچھوں۔” آپ ﷺ نے فرمایا: “قُلْ آمَنتُ بِاللَّهِ ثُمَّ اسْتَقِمْ” (صحیح مسلم)

مفہوم: “کہہ دے کہ میں اللہ پر ایمان لایا، پھر استقامت اختیار کرو۔”

یہ حدیث استقامت کو ایمان کے ساتھ لازم و ملزوم قرار دیتی ہے۔ محض زبان سے اقرار کر لینا کافی نہیں، بلکہ اس پر عمل پیرا رہنا اصل استقامت ہے۔

امام غزالیؒ نے استقامت کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ وہ صفت ہے جس سے بندہ اپنے رب کے احکام کو بجا لانے میں مسلسل اور ثابت قدم رہتا ہے۔

اسلامی تاریخ یا سیرت سے مثالیں

تاریخ اسلام استقامت کی لازوال داستانوں سے بھری پڑی ہے۔

  • صحابہ کرامؓ کا استقامت: جنگ بدر، احد، خندق اور دیگر غزوات میں صحابہ کرامؓ نے مصائب کے پہاڑ برداشت کیے، لیکن دین اسلام پر مضبوطی سے قائم رہے۔ مشرکین مکہ کے مظالم، ہجرت کی صعوبتیں، بھوک و پیاس، اور جان کے خطرات کے باوجود ان کے قدموں میں لغزش نہ آئی۔ حضرت بلالؓ جیسے صحابی جنہیں شدید ترین اذیتیں دی گئیں، انہوں نے “احد، احد” کہہ کر استقامت کا مظاہرہ کیا۔
  • انبیاء کرام علیہم السلام کی استقامت: حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں پھینکا گیا، حضرت نوح علیہ السلام نے ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم کو دعوت دی اور طرح طرح کی تکالیف برداشت کیں، حضرت ایوب علیہ السلام نے بیماری اور غربت میں صبر و استقامت کا مثالی نمونہ پیش کیا۔ یہ سب حضرات استقامت کے روشن مینار ہیں۔
  • نبی کریم ﷺ کی سیرت: مکی دور میں کفار قریش کی طرف سے دشمنی، طعن و تشنیع، اور معاشرتی بائیکاٹ کا سامنا کرتے ہوئے آپ ﷺ نے دین کی تبلیغ میں استقامت کا مظاہرہ کیا۔ طائف کے سفر میں پتھروں کی بارش کے باوجود آپ ﷺ نے ہدایت کی دعا فرمائی۔

آج کے دور میں استقامت کی ضرورت

آج کا دور فتنوں اور آزمائشوں کا دور ہے۔ میڈیا، انٹرنیٹ، اور معاشرتی دباؤ کی وجہ سے انسان کے لیے دین پر قائم رہنا ایک چیلنج بن گیا ہے۔

  • عقائد کا تحفظ: الحاد، لبرل ازم، اور دیگر گمراہ کن نظریات سے اپنے اور اپنے اہل خانہ کے عقائد کو محفوظ رکھنا بہت ضروری ہے۔ استقامت ہمیں ان نظریات کے سامنے ڈٹ جانے کا حوصلہ دیتی ہے۔
  • عبادات میں تسلسل: روزمرہ کی زندگی کی مصروفیات اور دنیاوی خواہشات انسان کو عبادات سے غافل کر سکتی ہیں۔ استقامت ہمیں نماز، روزے، اور دیگر فرائض کی ادائیگی میں تسلسل برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے۔
  • اخلاقی اقدار کا تحفظ: فحاشی، بدعنوانی، جھوٹ، اور دیگر معاشرتی برائیوں کے دور میں اپنی اخلاقی اقدار کو بچانا اور نیکی پر قائم رہنا استقامت کا تقاضا ہے۔
  • مشکلات کا مقابلہ: زندگی میں مالی مشکلات، بیماری، رشتہ داروں کی طرف سے مخالفت، یا دیگر آزمائشیں آ سکتی ہیں۔ استقامت ہمیں ان حالات میں حوصلہ نہیں ہارنے دیتی اور اللہ پر بھروسہ رکھنے کی تلقین کرتی ہے۔

موجودہ دور میں، ہمیں دیگر اسلامی معلومات کے ساتھ ساتھ “نماز کی اہمیت اور فوائد” کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا بھی ضروری ہے تاکہ ہم اللہ سے مضبوط تعلق قائم رکھ سکیں۔

عام غلط فہمیاں اور ان کی اصلاح

استقامت کے بارے میں کچھ غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں:

  • غلط فہمی 1: استقامت کا مطلب ہے زندگی میں کوئی تبدیلی نہ لانا۔ اصلاح: استقامت کا مطلب ہے دین کے اصولوں پر قائم رہنا، نہ کہ جامد ہو جانا۔ دین میں ہر وقت بہتری اور اصلاح کی گنجائش موجود ہے۔
  • غلط فہمی 2: استقامت صرف علماء اور دیندار لوگوں کے لیے ہے۔ اصلاح: استقامت ہر مسلمان کا فرض ہے۔ یہ ہر اس شخص کے لیے ضروری ہے جو اللہ پر ایمان رکھتا ہے۔
  • غلط فہمی 3: استقامت کا مطلب ہے مشکلات سے بھاگنا۔ اصلاح: استقامت کا اصل امتحان ہی مشکل حالات میں ہوتا ہے۔ یہ ہمیں مشکلات کا سامنا کرنے کا حوصلہ دیتی ہے۔
  • غلط فہمی 4: استقامت صرف عبادات میں ہے۔ اصلاح: استقامت عقائد، اخلاق، معاملات، اور زندگی کے ہر شعبے میں مطلوب ہے۔

عملی نصیحتیں اور قابلِ عمل نکات

ذیل میں کچھ عملی اقدامات ہیں جن سے ہم اپنی زندگی میں استقامت پیدا کر سکتے ہیں:

  • علم حاصل کریں: دین اسلام کے بنیادی عقائد، احکامات، اور سنت رسول ﷺ کے بارے میں علم حاصل کریں۔ جتنا زیادہ علم ہوگا، ایمان اتنا ہی مضبوط ہوگا۔
  • اللہ سے دعا مانگیں: ہر وقت اللہ سے استقامت کی دعا کریں۔ حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کثرت سے یہ دعا فرماتے تھے: “يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ” (ترمذی) یعنی “اے دلوں کو پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر قائم رکھ۔”
  • نیک صحبت اختیار کریں: ایسے لوگوں کی صحبت میں رہیں جو دیندار ہوں اور نیکی کی تلقین کرتے ہوں۔
  • اللہ کو یاد رکھیں: ذکر الٰہی دلوں کو سکون اور مضبوطی عطا کرتا ہے۔
  • آخرت کو یاد رکھیں: دنیا کی زندگی فانی ہے، آخرت کی تیاری پر توجہ دیں۔ آخرت کی جوابدہی کا احساس انسان کو گناہوں سے بچاتا ہے۔
  • اپنی ذات کا محاسبہ کریں: روزانہ اپنی زندگی کا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ کہاں کمی رہ گئی ہے۔
  • قرآن مجید کی تلاوت اور تدبر: قرآن مجید کی تلاوت اور اس کے معانی پر غور کرنے سے ایمان میں تازگی آتی ہے۔
  • سنت پر عمل کریں: نبی کریم ﷺ کی سنتوں کو اپنی زندگی کا معمول بنائیں۔
  • صبر و استقامت کا سبق یاد رکھیں: مشکل وقت میں صبر سے کام لیں اور اللہ کی مدد پر بھروسہ رکھیں۔ “مزید اسلامی معلومات” کے حصول کے لیے ہماری ویب سائٹ پر موجود دیگر مضامین سے استفادہ کریں۔

سوال و جواب (FAQ)

سوال 1: استقامت کا سب سے آسان طریقہ کیا ہے؟
جواب: سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ آپ اللہ سے استقامت کی دعا کریں اور دین کے بنیادی احکامات، جیسے نماز، کی پابندی کریں۔
سوال 2: کیا استقامت صرف بڑے گناہوں سے بچنے کا نام ہے؟
جواب: نہیں، استقامت کا مطلب ہے نیکیوں پر قائم رہنا اور ہر قسم کے گناہوں، چاہے وہ چھوٹے ہوں یا بڑے، سے بچنے کی کوشش کرنا۔
سوال 3: اگر میں استقامت پر قائم رہنے میں ناکام ہو جاؤں تو کیا کروں؟
جواب: ناامید نہ ہوں، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔ فوراً اللہ سے معافی مانگیں، توبہ کریں، اور دوبارہ کوشش کریں۔ یہ انسانی فطرت کا حصہ ہے کہ کبھی لغزش ہو جائے، اہم یہ ہے کہ صحیح راستے پر واپس آ جائیں۔
سوال 4: استقامت اختیار کرنے کے دنیاوی فوائد کیا ہیں؟
جواب: استقامت دنیا میں سکون، اطمینان قلب، معاشرتی عزت، اور مشکلات پر قابو پانے کی صلاحیت عطا کرتی ہے۔
سوال 5: استقامت کو روزمرہ کی زندگی میں کیسے نافذ کیا جا سکتا ہے؟
جواب: روزمرہ کے معمولات میں دین کے احکامات کو شامل کر کے، مثلاً وقت پر نماز پڑھنا، سچ بولنا، وعدہ پورا کرنا، اور دوسروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔

اختتام

آخر میں، یہ یاد رکھنا بہت ضروری ہے کہ استقامت اللہ کی طرف سے ایک عظیم نعمت ہے۔ اس کے حصول کے لیے مسلسل کوشش، دعا، اور اللہ پر توکل کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین اسلام پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور دنیا و آخرت میں سرخرو کرے۔

عمل کی ترغیب: آج ہی سے عہد کریں کہ آپ اپنی زندگی کے ہر شعبے میں استقامت اختیار کریں گے اور اللہ کے احکامات کی بجا آوری میں ثابت قدم رہیں گے۔

Call to Action: اگر آپ کو یہ مضمون مفید لگا ہو تو براہِ کرم اسے اپنے دوستوں اور اہل خانہ کے ساتھ شیئر کریں تاکہ وہ بھی استقامت کے بارے میں جان سکیں۔ علم میں اضافہ جاری رکھیں اور اپنی زندگی کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتے رہیں۔ “یہ بھی پڑھیں” کے عنوان سے ہماری ویب سائٹ پر موجود دیگر موضوعات پر مبنی مضامین آپ کے علم میں مزید اضافہ کریں گے۔

Sharing Is Caring:

Leave a comment