ہمائوں کی جلاوطنی کا پراسرار سفر: ایرانی بادشاہ کا وہ خفیہ معاہدہ جو مغلیہ سلطنت واپس لایا





ہمایوں کی جلاوطنی اور واپسی

Humayun History

سال 1540۔ مغلیہ سلطنت کے دوسرے بادشاہ ناصر الدین محمد ہمایوں، جو ظہیر الدین محمد بابر کے بیٹے تھے، دہلی اور آگرہ کا تخت کھو چکے تھے۔ شیر شاہ سوری کی فوجوں نے چوسہ اور کنّوج کی لڑائیوں میں انہیں کراری شکست دی تھی۔ اب وہ ایک عام آدمی کی طرح بھاگ رہے تھے۔ ان کے ساتھ صرف چند وفادار ساتھی، ان کی بیوی حمیدہ بانو بیگم جو حاملہ تھیں، اور کچھ کتابیں تھیں جنہیں وہ ہر حال میں بچانا چاہتے تھے۔

وہ سندھ کے صحراؤں میں بھٹکتے رہے۔ امرکوٹ میں ایک مقامی راجہ نے انہیں پناہ دی۔ وہیں 15 اکتوبر 1542 کو ان کے گھر ایک بیٹا پیدا ہوا — جلال الدین محمد اکبر، جو بعد میں تاریخ کا سب سے عظیم مغلیہ بادشاہ بننے والا تھا۔ مگر ہمایوں کے پاس وقت نہیں تھا خوشیاں منانے کا۔ ان کے اپنے بھائی بھی ان کے خلاف تھے۔ کمران مرزا، عسکری مرزا اور ہندال مرزا — سب تخت کے لالچی تھے۔ ہمایوں نے کابل اور قندھار پر بھی قبضہ کرنے کی کوشش کی مگر ناکام رہے۔

آخر کار، 1543 کے آخر میں، ہمایوں نے ایک فیصلہ کن قدم اٹھایا۔ وہ ایران کی طرف چل پڑے۔ سفر انتہائی مشکل تھا۔ سرد پہاڑ، تنگ گھاٹیاں اور خطرناک راستے۔ صرف چالیس ساتھیوں کے ساتھ وہ ہرات پہنچے اور پھر قزوین کی طرف بڑھے۔ یہاں صفوی سلطنت کے بادشاہ شاہ طہماسب اول کا دربار تھا۔

شاہ طہماسب نے ہمایوں کو شاہی مہمان کی طرح خوش آمدید کہا۔ خوبصورت محلات، شاہی ضیافتیں اور عزت۔ مگر یہ مہمان نوازی بلا قیمت نہیں تھی۔ صفوی دربار شیعہ تھا جبکہ مغل سنی عقائد رکھتے تھے۔ شاہ طہماسب نے واضح شرط رکھی — ہمایوں کو شیعہ عقائد قبول کرنے پڑیں گے۔ تاریخ کے مطابق ہمایوں نے باہری طور پر یہ شرط مان لی، حالانکہ ان کے اپنے مورخین نے اس پر کچھ تحفظات بھی درج کیے۔

اس کے علاوہ ایک اور بڑی شرط تھی۔ جب ہمایوں قندھار پر قبضہ کر لیں تو وہ شاہ طہماسب کو دے دیں گے۔ قندھار اس وقت کی حکمت عملی کے لحاظ سے بہت اہم شہر تھا — ایران اور ہندوستان کے درمیان گیٹ وے۔ ہمایوں نے یہ شرط بھی قبول کر لی۔

شاہ طہماسب نے ہمایوں کو 12 ہزار سوار اور شاہی محافظوں کا ایک دستہ دیا۔ یہ فوجی مدد ہمایوں کے لیے زندگی کی نئی کرن تھی۔ اب وہ واپسی کی تیاری کر سکتے تھے۔

1545 میں ہمایوں نے قندھار پر حملہ کیا اور فتح حاصل کی۔ معاہدے کے مطابق انہوں نے اسے ایرانیوں کے حوالے کر دیا۔ پھر انہوں نے اپنے بھائی کمران مرزا سے کابل چھیننے کی مہم شروع کی۔ کابل تین بار ہاتھ سے نکلا اور واپس آیا۔ آخر کار 1550 تک ہمایوں نے کابل پر مکمل قبضہ کر لیا۔

اب وقت آ گیا تھا ہندوستان واپس لوٹنے کا۔ 1554–55 میں ہمایوں نے لاہور کی طرف پیش قدمی کی۔ ان کے ساتھ بیرم خان جیسے وفادار جرنیل بھی تھے۔ سوری سلطنت میں اس وقت خانہ جنگی چل رہی تھی۔ سکندر شاہ سوری پنجاب کا گورنر تھا۔

22 جون 1555 کو سرہند کی لڑائی ہوئی۔ ہمایوں کی فوج، جس میں ایرانی مدد بھی شامل تھی، نے سکندر شاہ سوری کو کراری شکست دی۔ جولائی 1555 میں ہمایوں دہلی اور آگرہ میں داخل ہوئے۔ پندرہ سال بعد مغلیہ سلطنت دوبارہ زندہ ہو گئی تھی۔

مگر یہ واپسی صرف فوجی فتح نہیں تھی۔ ہمایوں ایران سے بہت کچھ لے کر آئے۔ ایرانی فنون لطیفہ، مصوری، فن تعمیر اور درباری آداب۔ انہوں نے بہت سے ایرانی فنکاروں، شاعروں اور جرنیلوں کو ہندوستان بلایا۔ یہی وجہ ہے کہ اکبر کے دور میں مغلیہ ثقافت میں ایرانی رنگ اتنا گہرا نظر آتا ہے۔ تاج محل سے لے کر miniature paintings تک میں یہ اثر صاف دکھائی دیتا ہے۔

ہمایوں کی یہ جلاوطنی ان کی زندگی کا سب سے مشکل دور تھا۔ وہ ستاروں کے علم (Astrology) کے شوقین تھے۔ بعض روایات کہتی ہیں کہ وہ کبھی کبھی اپنے فیصلے ستاروں کی روشنی میں کرتے تھے۔ مگر جلاوطنی نے انہیں سکھایا کہ صبر، حکمت عملی اور اتحاد کتنا اہم ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ شاہ طہماسب نے ہمایوں کے بھائی کمران مرزا کی طرف سے پیشکش بھی ٹھکرا دی تھی۔ کمران نے قندھار دینے کے بدلے ہمایوں کو زندہ یا مردہ پکڑوا دینے کی پیشکش کی تھی، مگر شاہ نے انکار کر دیا۔ یہ ایک ایسا فیصلہ تھا جس نے تاریخ بدل دی۔

ہمایوں کی واپسی کے صرف چند ماہ بعد، جنوری 1556 میں، ان کا حادثاتی طور پر انتقال ہو گیا۔ وہ اپنی لائبریری کی سیڑھیوں سے گر گئے۔ مگر ان کی واپسی نے اکبر کے لیے راہ ہموار کر دی۔ اگر یہ ایرانی مدد نہ ہوتی تو شاید مغلیہ سلطنت کا وجود ہی نہ رہتا۔

آج جب ہم مغلیہ تاریخ پڑھتے ہیں تو اکثر اکبر، شاہ جہاں اور اورنگزیب کے عظیم کارناموں پر بات ہوتی ہے۔ مگر ہمایوں کی یہ پندرہ سالہ جلاوطنی، وہ تنہا سفر، وہ خفیہ معاہدہ اور وہ بے مثال صبر — یہ سب بھولا ہوا باب ہے جو مغلیہ سلطنت کی بنیاد کو دوبارہ مضبوط کرنے کا سبب بنا۔

نتیجہ:

ہمایوں کی کہانی صرف ایک بادشاہ کی واپسی کی کہانی نہیں۔ یہ بتاتی ہے کہ سب سے برے وقت میں بھی اگر صبر اور حکمت عملی ہو تو ناممکن لگنے والے خواب بھی پورے ہو سکتے ہیں۔ ایک خفیہ معاہدے نے نہ صرف ایک سلطنت بحال کی بلکہ ایک نئی ثقافتی راہ بھی کھولی جو صدیوں تک چمکتی رہی۔ کیا آپ سوچتے ہیں کہ تاریخ کے ایسے موڑ ہماری آج کی زندگی میں بھی سبق دے سکتے ہیں؟ ہمایوں کی طرح، کبھی کبھی سب کچھ کھو کر بھی نئی شروعات ممکن ہوتی ہے۔


Leave a Comment