اسلام میں صبر کی اہمیت اور فضائل

صبر، عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں روکنا، باندھنا، برداشت کرنا، عفو و درگزر کرنا اور ثابت قدم رہنا۔ اسلامی اصطلاح میں صبر کا مطلب ہے نفس کو اس کی ناجائز خواہشات اور ناجائز کاموں سے روکنا۔ صبر دین اسلام کا ایک بنیادی اور اہم ترین ستون ہے۔ یہ وہ عظیم صفت ہے جو انسان کو مشکلات، مصائب اور آزمائشوں کے وقت مضبوط اور ثابت قدم رکھتی ہے۔ قرآن و سنت میں صبر کی اہمیت اور فضائل پر بے شمار آیات اور احادیث مبارکہ موجود ہیں، جن سے اس کی عظمت اور ضرورت واضح ہوتی ہے۔

🌟 Join Us On Social Media — Stay Healthy & Informed!

قرآن مجید کی روشنی میں صبر

قرآن کریم میں صبر کا ذکر کثرت سے آیا ہے، اور اسے ایمان کا لازمی حصہ قرار دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

"اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعے اللہ سے مدد طلب کرو، یقیناً اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔” (سورہ البقرہ، آیت 153)

اس آیت مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ صبر اور نماز، دونوں ہی اللہ تعالیٰ سے مدد حاصل کرنے کے اہم ذرائع ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی معیت (ساتھ) ان لوگوں کے لیے ہے جو صبر سے کام لیتے ہیں۔

ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے لیے بے حساب اجر کی بشارت دیتا ہے:

"یقیناً اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے، اور (یاد رکھو) اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو صبر کرتے ہیں۔” (سورہ الانفال، آیت 46)

"یقیناً، (یہ صرف) صبر کرنے والوں کو ہی دیا جائے گا، اور (یہ صرف) صبر کرنے والوں کو ہی دیا جائے گا، بغیر کسی حساب کے۔” (سورہ الزمر، آیت 10)

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب سورہ العصر نازل ہوئی تو صحابہ کرامؓ نے اسے اس طرح سمجھا کہ اگر تمام انسان صرف اس سورت پر ہی غور کر لیں تو ان کے لیے یہی کافی ہو جائے۔ سورہ العصر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

"قسم ہے زمانے کی! یقیناً انسان خسارے میں ہے۔ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے، نیک عمل کیے، اور ایک دوسرے کو حق کی وصیت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی۔” (سورہ العصر، آیت 1-3)

اس سے پتا چلتا ہے کہ ایمان، اعمال صالحہ، حق کی تلقین اور صبر، یہ وہ چار ستون ہیں جن پر انسان کی کامیابی اور نجات کا انحصار ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ میں بھی صبر کی عظیم مثالیں ملتی ہیں۔ دشمنوں کی طرف سے شدید ایذا رسانی اور مخالفت کے باوجود آپ ﷺ نے صبر و استقامت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا اور دین حق کی تبلیغ جاری رکھی۔

احادیث مبارکہ میں صبر کے فضائل

احادیث مبارکہ میں صبر کو ایمان کا نصف حصہ قرار دیا گیا ہے۔ حضرت صہیب بن سنان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"مومن کا معاملہ کیا ہی عجیب ہے! اس کے ہر معاملے میں خیر ہے۔ یہ صرف مومن کو ہی حاصل ہے؛ اگر اسے خوشحالی نصیب ہو تو شکر کرتا ہے، جو اس کے لیے بہتر ہے؛ اور اگر اسے تکلیف پہنچے تو صبر کرتا ہے، جو اس کے لیے بہتر ہے۔” (صحیح مسلم)

اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ مومن کے لیے خوشحالی اور تنگی دونوں حالتوں میں خیر ہے۔ خوشحالی میں شکر اور تنگی میں صبر، دونوں ہی باعث اجر ہیں۔

نبی کریم ﷺ نے صبر کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا:

"صبر روشنی ہے۔” (صحیح مسلم)

یعنی جس طرح روشنی اندھیرے کو دور کرتی ہے، اسی طرح صبر مشکلات اور پریشانیوں کے اندھیروں کو دور کرتا ہے۔

حضرت ابویحیٰ صہیب بن سنان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "عجبا لامر المومن ان امرہ کلہ لہ خیر، ولیس ذلک لاحد الا للمومن، ان اصابتہ سراء شکر فکان خیرا لہ، وان اصابتہ ضراء صبر فکان خیرا لہ” (صحیح مسلم) جس کا مفہوم یہ ہے کہ مومن کے لیے ہر حال میں بھلائی ہے۔ اگر اسے خوشی ملے تو شکر کرے اور اگر تکلیف پہنچے تو صبر کرے، دونوں ہی اس کے لیے بہتر ہیں۔

اسلامی تاریخ سے سبق آموز مثالیں

اسلامی تاریخ صبر کی عظیم داستانوں سے بھری پڑی ہے۔

* **سیدنا ایوب علیہ السلام:** اللہ تعالیٰ نے سیدنا ایوب علیہ السلام کو شدید آزمائشوں سے دوچار کیا، مال و اولاد سب چھن گئے، جسم پر بیماری غالب آگئی، لیکن انہوں نے اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو کر صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ ان کے صبر کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان کی تعریف کی اور انہیں اجر عظیم عطا فرمایا۔ ارشاد باری ہے: "بیشک ہم نے انہیں صبر کرنے والا پایا، کیا ہی اچھا بندہ تھا، وہ اللہ کی طرف رجوع کرنے والا تھا۔” (سورہ ص، آیت 44)
* **سیدنا یوسف علیہ السلام:** بھائیوں کے ظلم و ستم، کنویں میں پھینکے جانے، غلامی اور قید و بند جیسی مصیبتوں کے باوجود سیدنا یوسف علیہ السلام نے صبر کا دامن نہیں چھوڑا اور آخر کار اللہ تعالیٰ نے انہیں مصر کے عظیم منصب پر فائز کیا۔
* **حضرت سارہؑ اور حضرت ہاجرہؑ:** ان ہستیوں نے اللہ کے حکم کی تعمیل میں اور دین کی خاطر بے شمار مصائب اور صبر آزما حالات کا سامنا کیا۔

آج کے دور میں صبر کی ضرورت

آج کی تیز رفتار اور پرتعیش زندگی میں انسان کو مختلف قسم کی مشکلات اور آزمائشوں کا سامنا ہے۔ معاشی تنگی، بیماری، رشتوں میں تناؤ، سماجی دباؤ، اور روزمرہ کے تنازعات ایسی صورتحال ہیں جن میں صبر کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔

* **معاشی مشکلات:** آج کے دور میں معاشی بدحالی اور غربت بہت سے لوگوں کو مایوسی اور بے چینی میں مبتلا کر دیتی ہے۔ ایسے میں صبر اور قناعت اختیار کرنا، جائز ذرائع سے رزق کمانے کی کوشش جاری رکھنا اور اللہ پر توکل کرنا ضروری ہے۔
* **بیماری اور صحت:** دل کی بیماریوں کی خاموش علامات یا دیگر امراض کی صورت میں صبر سے کام لینا اور اللہ سے دعا کرنا مومن کی شان ہے۔ [Internal Link 1]
* **ذہنی اور جذباتی تناؤ:** روزمرہ زندگی کے تناؤ، ناکامیاں، اور رشتے داروں یا دوستوں سے اختلافات انسان کو جذباتی طور پر کمزور کر سکتے ہیں۔ ان حالات میں صبر، برداشت اور درگزر سے کام لینا تعلقات کو بہتر بناتا ہے اور ذہنی سکون فراہم کرتا ہے۔
* **دینی مسائل:** دین پر عمل کرنے میں بھی مشکلات پیش آتی ہیں۔ معاشرے کی مخالفت، غلط فہمیوں اور فتنوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان حالات میں ثابت قدمی اور صبر کی ضرورت ہوتی ہے۔

عام غلط فہمیاں اور ان کی اصلاح

* **غلط فہمی:** صبر کا مطلب ہے حالات کے سامنے بے بس ہو کر بیٹھ جانا۔
* **اصلاح:** صبر کا مطلب بے بسی نہیں، بلکہ مشکل حالات میں اللہ پر بھروسہ رکھتے ہوئے، تدبیر اور کوشش جاری رکھنا ہے۔ یہ جذبات پر قابو پانا اور اللہ کے فیصلے پر راضی رہنا ہے۔
* **غلط فہمی:** صبر صرف مصیبت کے وقت ہی کرنا چاہیے۔
* **اصلاح:** صبر کا دائرہ کار وسیع ہے۔ اسے خوشحالی میں شکر، اطاعت میں استقامت، نافرمانی سے اجتناب، اور مصیبت کے وقت ثابت قدمی کے طور پر سمجھنا چاہیے۔
* **غلط فہمی:** صبر کرنے سے مسائل حل نہیں ہوتے۔
* **اصلاح:** صبر خود ایک حل ہے جو انسان کو مشکلات کا بہتر انداز میں سامنا کرنے کی طاقت دیتا ہے اور اللہ کی مدد کا ذریعہ بنتا ہے۔ صبر کے ساتھ کی گئی دعا اور کوششیں ضرور بار آور ہوتی ہیں۔

عملی نصیحتیں اور قابلِ عمل نکات

1. **اللہ پر پختہ یقین:** اللہ تعالیٰ کی ذات پر کامل بھروسہ رکھیں کہ وہ آپ کی آزمائشوں کو آسان بنائے گا اور بہترین اجر عطا فرمائے گا۔
2. **دعا کی کثرت:** اللہ تعالیٰ سے صبر کی توفیق مانگیں۔ دعائیں اللہ کی مدد حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔
3. **نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرامؓ کی سیرت کا مطالعہ:** ان کی زندگیوں سے صبر و استقامت کے سبق سیکھیں۔
4. **ذکر الٰہی:** اللہ کو یاد رکھنے سے دل کو سکون ملتا ہے اور مشکلات آسان لگتی ہیں۔
5. **نیک صحبت:** نیک اور صبر کرنے والے لوگوں کی صحبت اختیار کریں۔
6. **مثبت سوچ:** حالات کے منفی پہلوؤں پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے مثبت پہلوؤں کو تلاش کریں۔
7. **صبر کا اجر یاد رکھیں:** صبر کے بے شمار دنیوی اور اخروی فوائد اور اجر کو ذہن میں رکھیں۔

سوال و جواب (FAQ)

* **سوال 1:** اسلام میں صبر کی کیا تعریف ہے؟
* **جواب:** اسلامی اصطلاح میں صبر نفس کو ناجائز خواہشات اور ممنوعہ کاموں سے روکنے کا نام ہے۔ یہ مشکلات، مصائب اور آزمائشوں کے وقت ثابت قدم رہنے کا نام ہے۔
* **سوال 2:** کیا صبر صرف مصیبت کے وقت ہی ضروری ہے؟
* **جواب:** نہیں۔ صبر خوشحالی میں شکر، اطاعت میں استقامت، اور گناہوں سے بچنے کے لیے بھی ضروری ہے۔ مصیبت کے وقت صبر کا اجر سب سے زیادہ ہوتا ہے۔
* **سوال 3:** صبر کرنے والے کے لیے اللہ کا کیا وعدہ ہے؟
* **جواب:** اللہ تعالیٰ نے صبر کرنے والوں کے لیے بے حساب اجر، اپنی خاص معیت (مدد و رہنمائی) اور جنت کی بشارت دی ہے۔
* **سوال 4:** صبر کی کون سی قسم سب سے افضل ہے؟
* **جواب:** طبعی خواہشات اور گناہوں سے صبر کرنا، یعنی اللہ کی نافرمانی سے خود کو روکے رکھنا، صبر کی سب سے افضل قسم ہے۔
* **سوال 5:** آج کے دور میں صبر کی سب سے زیادہ ضرورت کہاں محسوس ہوتی ہے؟
* **جواب:** آج کے دور میں معاشی مشکلات، بیماریوں، ذہنی دباؤ، رشتے داروں کے تنازعات، اور معاشرتی فتنوں کا مقابلہ کرنے کے لیے صبر کی اشد ضرورت ہے۔

اختتام

صبر ایک عظیم اخلاقی صفت ہے جو مومن کو دنیا و آخرت میں کامیابی سے ہمکنار کرتی ہے۔ یہ انسان کو مشکلات کا سامنا کرنے، مشکلات سے سیکھنے اور اللہ تعالیٰ سے قریب ہونے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ آئیے، ہم سب اپنے رب سے صبر کی توفیق مانگیں اور اپنی زندگیوں میں اس عظیم صفت کو اپنا کر اللہ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کریں۔

**Call to Action:**

آج ہی سے صبر کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کا عہد کریں۔ ان قیمتی اسلامی معلومات کو اپنے دوستوں اور اہل خانہ کے ساتھ شیئر کریں تاکہ وہ بھی اس سے مستفید ہو سکیں۔ علم حاصل کرتے رہنا مومن کی پہچان ہے۔ مزید اسلامی معلومات کے لیے ہماری ویب سائٹ [Our Healtho](https://ourhealtho.com) کا وزٹ کریں۔

Leave a Comment