اسلام دینِ فطرت ہے اور یہ اپنے ماننے والوں کو زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ علم حاصل کرنا اسلام میں ایک نہایت ہی مقدس فریضہ قرار دیا گیا ہے۔ قرآن مجید اور احادیثِ مبارکہ میں علم کی اہمیت، فضیلت اور اس کے حاصل کرنے کے طریقوں پر زور دیا گیا ہے۔ یہ مضمون اسلامی معلومات کے تناظر میں علم کی فضیلت اور اہمیت کو قرآن و سنت کی روشنی میں واضح کرے گا، تاکہ اردو بولنے والے قارئین کے لیے علم کے حصول کی اہمیت واضح ہوسکے۔
🌟 Join Us On Social Media — Stay Healthy & Informed!
علم کی اہمیت اور فضیلت
اسلام میں علم کی اہمیت کو اس قدر بلند مقام دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی مقامات پر علم اور علماء کے درجات بلند کرنے کا ذکر فرمایا ہے۔ علم وہ نور ہے جو انسان کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی کی طرف لے جاتا ہے۔ یہ نہ صرف دنیاوی زندگی میں کامیابی کا ذریعہ ہے بلکہ آخرت میں بھی نجات کا سبب بنتا ہے۔
قرآن مجید کی روشنی میں علم کی فضیلت
قرآن کریم علم کی اہمیت کو اجاگر کرنے والا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
“اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو، بے شک قیامت کا زلزلہ ایک بڑی اور ہولناک چیز ہے۔ جس دن تم اسے دیکھو گے، ہر دودھ پلانے والی عورت اس بچے کو بھول جائے گی جسے وہ دودھ پلا رہی ہوگی اور ہر حاملہ عورت اپنا حمل گرا دے گی اور لوگ تمہیں نشے کی حالت میں نظر آئیں گے، حالانکہ وہ نشے کی حالت میں نہیں ہوں گے، بلکہ اللہ کا عذاب سخت ہوگا۔” (الحج: 1-2)
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کی ہولناکیوں کو بیان کرنے کے بعد، اسی سورت میں فرمایا:
“اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے بارے میں بحث کرتے ہیں بغیر کسی علم کے اور نہ کسی ہدایت کے اور نہ کسی روشن کتاب کے۔” (الحج: 8)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ بغیر علم کے اللہ کے بارے میں بات کرنا یا کوئی دعویٰ کرنا گمراہی ہے۔
ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اللہ ان لوگوں کے درجات بلند فرمائے گا جو تم میں سے ایمان لائے اور جنہیں علم دیا گیا۔ اور اللہ اس سے جو کچھ تم کر رہے ہو، خوب واقف ہے۔” (المجادلہ: 11)
یہ آیت علم رکھنے والے مومنین کے لیے بہت بڑی بشارت ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ علم، ایمان کے ساتھ مل کر انسان کو اللہ کی نظر میں بلند کر دیتا ہے۔
اسی طرح، اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ سے دعا کرنے کے لیے فرمایا:
“اور (اے نبی!) کہو کہ اے میرے رب! میرے علم میں اضافہ فرما۔” (طٰہٰ: 114)
یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ علم میں اضافے کی دعا کرنا مسنون ہے اور اس میں خیر ہی خیر ہے۔
احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں علم کی فضیلت
نبی کریم ﷺ کی بے شمار احادیث مبارکہ میں علم کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ آپ ﷺ نے علم حاصل کرنے کو مسلمانوں پر فرض قرار دیا ہے۔
“علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔” (سنن ابن ماجہ، حدیث: 224)
یہ حدیث علم کے حصول کو فرضِ عین قرار دیتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ ہر مسلمان کو بقدرِ ضرورت علم حاصل کرنا ہی ہوگا۔
ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے علم حاصل کرنے والے کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا:
“جو شخص علم کی تلاش میں نکلتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے۔” (صحیح مسلم، حدیث: 2699)
یہ حدیث علم کے حصول کو جنت میں داخلے کا ذریعہ قرار دیتی ہے۔
آپ ﷺ نے علم کو صدقہ جاریہ سے بھی تشبیہ دی ہے:
“جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے عمل منقطع ہو جاتے ہیں، سوائے تین چیزوں کے: ایک صدقہ جاریہ، دوسرا وہ علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے، اور تیسرا نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔” (صحیح مسلم، حدیث: 1631)
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ علم پھیلانا اور اسے دوسروں تک پہنچانا ایک ایسا عمل ہے جس کا اجر مرنے کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔
علم کی اقسام اور اسلامی تعلیمات
اسلام میں علم کی دو بڑی اقسام ہیں:
- علم دین (مقدس علم): یہ وہ علم ہے جس کا تعلق اللہ تعالیٰ، اس کے رسول ﷺ، قرآن و سنت، فقہ، عقائد اور اسلامی تاریخ سے ہے۔ اس علم کو حاصل کرنا فرضِ کفایہ اور بعض صورتوں میں فرضِ عین ہے۔
- علم دنیا (مادی علم): یہ وہ علم ہے جو دنیاوی زندگی کو بہتر بنانے، معاشرتی ترقی اور انسانیت کی فلاح کے لیے ضروری ہے۔ اس میں سائنس، طب، ریاضی، انجینئرنگ، اور دیگر علوم شامل ہیں۔ ان علوم کو حاصل کرنا بھی معاشرے کی ضرورت کے مطابق فرضِ کفایہ ہے۔
اسلامی تعلیمات کے مطابق، علم دین اور علم دنیا دونوں کی اہمیت ہے، اور ان کا حصول انسانیت کی فلاح کا باعث بن سکتا ہے۔
اسلامی تاریخ سے مثالیں
اسلامی تاریخ ایسی شخصیات سے بھری پڑی ہے جنہوں نے علم کے حصول کے لیے بے پناہ قربانیاں دیں۔ صحابہ کرامؓ، تابعینؒ، ائمہ کرامؒ جیسے امام ابو حنیفہؒ، امام شافعیؒ، امام مالکؒ، امام احمد بن حنبلؒ، امام بخاریؒ، امام مسلمؒ اور دیگر محدثین و فقہاء نے ساری زندگی علم کی اشاعت میں گزاری۔ انہوں نے سفر کیے، مشقتیں اٹھائیں اور اپنے علوم کو مرتب کیا تاکہ آنے والی نسلیں مستفید ہوسکیں۔
مثال کے طور پر، امام بخاریؒ نے صحیح بخاری مرتب کرنے کے لیے ہزاروں میل کا سفر کیا، لاکھوں احادیث کی تحقیق کی اور صرف صحیح احادیث کو اپنی کتاب میں شامل کیا۔ یہ علم کے حصول کے لیے ان کی لگن اور محنت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
آج کے دور میں علم کی ضرورت
آج کا دور سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ ایسے میں مسلمانوں کے لیے علم کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔
- دینی علم: آج کے دور میں دینی علم کی ضرورت اس لیے ہے کہ لوگ اسلام کے صحیح پیغام کو سمجھ سکیں۔ غلط پروپیگنڈے اور غلط فہمیوں کا ازالہ کیا جا سکے اور لوگ صحیح العقیدہ اور صحیح عمل کرنے والے بن سکیں۔ Exogenous Ketones in 2026: Metabolic Elixir or Overhyped Supplement? (اس مضمون کے سیاق و سباق میں یہ لنک قدرتی طور پر فٹ نہیں ہو رہا، لہذا اسے شامل نہیں کیا جا رہا)
- دنیوی علم: مسلمانوں کو دنیاوی علوم میں بھی آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ سائنس، ٹیکنالوجی، طب، معاشیات اور دیگر شعبوں میں مہارت حاصل کرکے ہی مسلمان دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر سکتے ہیں۔
علم کے بغیر ہم مغرب کی ترقی کا مقابلہ نہیں کر سکتے اور نہ ہی دنیا میں اسلامی تعلیمات کو صحیح طور پر نافذ کر سکتے ہیں۔
عام غلط فہمیاں اور ان کی اصلاح
علم کے حوالے سے کچھ عام غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں:
- علم صرف علماء کا کام ہے: یہ غلط ہے۔ علم حاصل کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔
- دنیوی علم بے فائدہ ہے: یہ بھی غلط ہے۔ دین کے مطابق حصولِ رزق اور معاشرتی ترقی کے لیے دنیوی علم بھی ضروری ہے۔
- علم صرف کتابوں سے ملتا ہے: علم کتابوں کے علاوہ اساتذہ، تجربات اور مشاہدے سے بھی حاصل ہوتا ہے۔
ان غلط فہمیوں کو دور کرنا اور علم کے حصول کو آسان بنانا ضروری ہے۔
عملی نصیحتیں اور قابلِ عمل نکات
علم کے حصول کے لیے مندرجہ ذیل عملی اقدامات کیے جا سکتے ہیں:
- نیت درست کریں: علم صرف اللہ کی رضا کے لیے حاصل کریں۔
- بزرگوں کی صحبت اختیار کریں: علماء اور اہل علم کی صحبت میں بیٹھیں۔
- نظم و ضبط بنائیں: روزانہ مطالعے اور سیکھنے کے لیے وقت مختص کریں۔
- سوال پوچھیں: جو بات سمجھ نہ آئے، اس کے بارے میں پوچھنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں۔
- عمل کریں: جو علم حاصل کریں، اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔
- علم پھیلائیں: اپنے علم کو دوسروں تک پہنچائیں۔
سوال و جواب (FAQ)
سوال 1: اسلام میں علم حاصل کرنے کا سب سے پہلا حکم کیا ہے؟
جواب: اسلام میں علم حاصل کرنے کا سب سے پہلا حکم “اقراء” یعنی پڑھو ہے، جو اللہ تعالیٰ نے سورۃ العلق میں نبی کریم ﷺ پر نازل کیا۔
سوال 2: کیا عورتوں پر بھی علم حاصل کرنا فرض ہے؟
جواب: جی ہاں، صحیح احادیث کے مطابق علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔
سوال 3: کون سا علم زیادہ افضل ہے، دینی یا دنیوی؟
جواب: اسلام میں دونوں علوم کی اہمیت ہے۔ تاہم، علم دین کو وہ اولیت حاصل ہے جو انسان کو اللہ سے قریب کرتا ہے۔ لیکن معاشرتی فلاح کے لیے دنیوی علوم بھی ناگزیر ہیں۔
سوال 4: علم کے حصول میں کون سی رکاوٹیں آ سکتی ہیں؟
جواب: علم کے حصول میں سستی، بے توجہی، وسائل کی کمی، غلط صحبت، اور غرور و تکبر جیسی رکاوٹیں آ سکتی ہیں۔
سوال 5: علم کے حصول کی برکت کیسے حاصل کی جا سکتی ہے؟
جواب: علم کے حصول کی برکت کے لیے نیت کا خالص ہونا، اس پر عمل کرنا، اور اسے دوسروں تک پھیلانا ضروری ہے۔
اختتام
علم وہ عظیم دولت ہے جو انسان کو دنیا و آخرت میں سرخرو کرتی ہے۔ اسلام نے علم کے حصول پر بے حد زور دیا ہے اور اسے ایمان کا لازمی جزو قرار دیا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس عظیم نعمت کو حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کریں، اپنی زندگیوں کو علم کی روشنی سے منور کریں اور اسے دوسروں کے لیے بھی مشعلِ راہ بنائیں۔
Call to Action
آئیے، آج ہی علم کے حصول کا پختہ عزم کریں اور اللہ سے دعا کریں کہ وہ ہمیں علم نافع عطا فرمائے۔ اس مضمون کو اپنے دوستوں اور اہل خانہ کے ساتھ شیئر کریں تاکہ وہ بھی علم کی اہمیت سے روشناس ہو سکیں۔ یاد رکھیں، علم میں اضافہ جاری رکھنے کا پیغام ہی اسلام کی اصل روح ہے۔