از: [آپ کا نام]
اقساط: 1
رات کا اندھیرا اپنی چادر تانے گہری خاموشی میں ڈوبا ہوا تھا۔ آسمان پر چند ٹمٹماتے ستارے اس اندھیری رات کو مزید پراسرار بنا رہے تھے۔ ایک دور افتادہ قصبے کے کنارے پر ایک خستہ حال گھر میں، جہاں دیا جلانے کے لیے بھی تیل بمشکل میسر آتا تھا، وہاں ایک نوجوان لڑکا، ارسلان، اپنے بستر پر لیٹا تھا۔ اس کی آنکھوں میں ہزاروں سوال تھے، مگر لبوں پر خاموشی۔ غربت نے اس کے بچپن کو چھین لیا تھا اور جوانی کو فکروں میں مبتلا کر دیا تھا۔ ارسلان کے والد، ایک بیمار اور ضعیف العمر شخص، ایک کونے میں پڑے کراہ رہے تھے، جبکہ اس کی ماں، جو تھکن سے چور تھی، باہر صحن میں پڑے چولہے پر روٹی پکا رہی تھی۔ اس گھر میں ہر سانس ایک جدوجہد تھی، ہر لمحہ موت سے مقابلہ۔
ارسلان کی زندگی اس قصبے کے گرد گھومتی تھی۔ دن بھر مزدوری کرنا اور شام کو جو تھوڑے بہت پیسے ملتے، اس سے گھر کا چولہا جلانا اس کا مقدر تھا۔ اس نے کبھی اسکول کا منہ نہیں دیکھا تھا، مگر اس کی آنکھوں میں علم کی پیاس تھی۔ وہ اکثر بازار میں بیٹھ کر کتابوں کی دکانوں کو حسرت سے دیکھتا، اور سوچتا کہ کیا وہ کبھی ان الفاظ کی دنیا میں قدم رکھ پائے گا؟
ایک روز، قصبے میں ایک پراسرار اجنبی آیا۔ اس کا حلیہ کسی راجکمار سے کم نہ تھا۔ قیمتی لباس، گھوڑے پر سوار، اور چہرے پر ایک گہری سنجیدگی۔ اس اجنبی نے قصبے کے لوگوں کے لیے ایک اعلان کیا: جو کوئی بھی سب سے مشکل پہیلی کو حل کرے گا، اسے قیمتی انعام دیا جائے گا۔ قصبے کے لوگ حیران رہ گئے، مگر کسی میں ہمت نہ ہوئی کہ وہ اس چیلنج کو قبول کرے۔
ارسلان نے جب یہ سنا تو اس کے دل میں ایک امید کی کرن جاگی۔ اس نے اپنی ماں سے اجازت لی اور اس اجنبی کے پاس جا پہنچا۔ اجنبی نے اسے حیرت سے دیکھا، اس کی غربت دیکھ کر شاید وہ اسے معمولی سمجھ رہا تھا۔ مگر ارسلان کی آنکھوں میں عزم اور ذہانت کی چمک تھی۔
“تم؟” اجنبی نے حقارت سے پوچھا۔ “تم کیا خاک پہیلی حل کرو گے؟”
“مجھے موقع دیجیے،” ارسلان نے عاجزی سے کہا۔ “علم یا ذہانت کا تعلق لباس سے نہیں ہوتا۔”
اجنبی مسکرایا، یہ مسکراہٹ طنز سے بھری تھی۔ اس نے ارسلان کے سامنے ایک پرانی سی پوٹلی رکھی۔ “اس میں ایک پہیلی ہے، اگر حل کر سکے تو یہ سونے کے سکے تمہارے۔”
ارسلان نے پوٹلی کھولی۔ اس میں ایک ننھا سا کاغذ کا ٹکڑا تھا، جس پر کچھ حروف الٹے سیدھے لکھے تھے۔ اس نے توجہ سے دیکھا۔ وہ حروف کسی پراسرار زبان میں لگ رہے تھے۔ مگر ارسلان نے کبھی ہار نہیں مانی تھی۔ اس نے دن رات ایک کر دیا، بھوک پیاس بھول گیا۔ وہ قصبے کی لائبریری میں گھس جاتا (جو کہ دراصل ایک پرانی عمارت تھی جس میں چند بوسیدہ کتابیں رکھی تھیں) اور وہیں بیٹھ کر ان حروف کو سمجھنے کی کوشش کرتا۔
کئی دن کی محنت کے بعد، ارسلان کو وہ پہیلی حل کرنے کا راز سمجھ آیا۔ وہ حروف دراصل ایک خاص قسم کی خفیہ زبان میں لکھے گئے تھے۔ اس نے اسے حل کیا اور جو راز اس سے منکشف ہوا، اس نے ارسلان کو حیران کر دیا۔ وہ پہیلی دراصل ایک نقشے کا حصہ تھی، جو کسی خزانے کی طرف اشارہ کر رہا تھا۔
اگلے روز، جب ارسلان اس پہیلی کا حل لے کر اجنبی کے پاس پہنچا، تو وہ دنگ رہ گیا۔ اس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ یہ غریب لڑکا اتنی جلدی پہیلی حل کر لے گا۔ اجنبی نے سونے کے سکے تو دیے، مگر اس کی آنکھوں میں ایک نیا تجسس ابھرا۔ اس نے ارسلان کو بتایا کہ یہ صرف پہیلی کا پہلا حصہ تھا۔ اصل خزانہ تو بہت گہرا اور پراسرار ہے۔
یہیں سے ارسلان کی زندگی کا نیا باب شروع ہوا۔ اس نے سونے کے سکوں سے اپنے والد کا علاج کروایا، ماں کے لیے آرام کا سامان لایا۔ مگر اس کا دل اب اس خزانے کی تلاش میں الجھ گیا تھا۔ اس پراسرار اجنبی نے، جس کا نام ظافر تھا، ارسلان کو اپنی سرپرستی میں لے لیا۔ ظافر خود ایک عالم تھا، جو صدیوں پرانے رازوں کی تلاش میں تھا۔ اس نے ارسلان کو پڑھنا لکھنا سکھایا، اسے تاریخ، جغرافیہ اور فلسفے کے اسرار سے روشناس کرایا۔
ارسلان کے لیے یہ سب کچھ ایک خواب جیسا تھا۔ وہ اب صرف غربت کا مارا ایک لڑکا نہیں تھا، بلکہ علم اور جستجو کی دنیا کا مسافر بن چکا تھا۔ وہ ظافر کے ساتھ سفر کرنے لگا، پرانی کتابوں، نقشوں اور پراسرار تحریروں کی گتھیاں سلجھانے لگا۔ ہر سفر ایک نیا امتحان تھا، مگر ارسلان ہر امتحان میں کامیاب ہوتا گیا۔ اس کی ذہانت، اس کا عزم اور اس کی سچائی ظافر کو حیران کر رہی تھی۔
ظاہر ہے، اس سفر میں مشکلات بھی کم نہ تھیں۔ انہیں خطرناک راستوں سے گزرنا پڑا، دشمنوں کا سامنا کرنا پڑا۔ مگر ارسلان کی سادگی اور ایمانداری نے اسے ہمیشہ محفوظ رکھا۔ اس نے سیکھا کہ دولت سے زیادہ علم کی طاقت ہوتی ہے، اور سچائی کی فتح ہمیشہ ہوتی ہے۔
یہ کہانی ابھی شروع ہوئی تھی۔ ارسلان کی تاریک راہوں کا سفر ابھی جاری تھا۔ اس کا اگلا قدم کیا ہوگا؟ وہ خزانہ کیا تھا جس کی تلاش میں وہ نکلا تھا؟ اور ظافر کا اصل مقصد کیا تھا؟ یہ سب راز وقت کے ساتھ کھلیں گے۔
اخلاقی پیغام: غربت انسان کو کمزور کر سکتی ہے، مگر علم اور سچائی اسے دنیا کی ہر دولت سے زیادہ طاقتور بنا سکتے ہیں۔ کبھی بھی اپنی اصل پہچان اور اصولوں کو نہ بھولیں۔
آراء: آپ کو یہ کہانی کیسی لگی؟ کیا ارسلان اپنے سفر میں کامیاب ہوگا؟ اپنی قیمتی رائے کا اظہار ضرور کریں تاکہ اگلی قسط میں اس کہانی کو مزید دلچسپ بنایا جا سکے۔