**عنوان: وہمی آرزو**
🌟 Join Us On Social Media — Stay Healthy & Informed!
**تعارف:**
سرد شام تھی، اور پرانی حویلی کی دیواروں پر وقت کا گرد جمی تھی۔ اندھیرا تیزی سے پھیل رہا تھا، اور ہوا میں ایک عجیب سی خنکی تھی۔ اسی حویلی کے ایک کمرے میں، جہاں لالٹین کی پیلی روشنی پورے کمرے کو اپنے سحر میں لیے ہوئے تھی، بی بی فاطمہ چپ چاپ بیٹھی اپنے گود میں رکھے پرانے البم کے ورق الٹ رہی تھیں۔ ان کی آنکھوں میں ہزاروں کہانیاں اور ایک گہرا، ان کہی درد چھپا تھا۔ بی بی فاطمہ، جو اب بوڑھی ہو چلی تھیں، وہی بی بی فاطمہ تھیں جو کبھی اس علاقے کی سب سے خوبصورت اور ذہین لڑکی کہلاتی تھیں۔ مگر تقدیر نے ان کے حصے میں کچھ اور ہی لکھا تھا۔
ان کے برابر میں بیٹھی ان کی پوتی، ثانیہ، جو کالج کی طالبہ تھی، اپنی دادی کی خاموشی اور اداسی کو محسوس کر رہی تھی۔ ثانیہ، جو آج کی لڑکیوں کی طرح جدید خیالات کی حامل تھی، اپنی دادی کے قصوں میں کھوئی رہتی۔ وہ اکثر اپنی دادی سے ان کی جوانی کے قصے سنتی، وہ قصے جن میں محبت، قربانی اور ایک ادھورا خواب پنہاں تھا۔
**مسئلہ یا تنازع:**
ثانیہ کی دادی، بی بی فاطمہ، کی جوانی میں ایک نوجوان، شہریار، سے گہری محبت ہو گئی تھی۔ شہریار ایک غیر معمولی دل و دماغ کا مالک تھا، اور وہ بی بی فاطمہ کی شخصیت اور خوبصورتی سے اس قدر متاثر ہوا کہ اس نے بی بی فاطمہ کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کا خواب دیکھا۔ مگر قدرت کو یہ منظور نہ تھا۔ بی بی فاطمہ کے گھر والے اس رشتے کے سخت خلاف تھے۔ وہ ایک غریب اور غیر معروف خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ بی بی فاطمہ کے والد، جو ایک زمیندار تھے، نے اپنی بیٹی کا رشتہ ایک امیر اور با اثر شخص سے طے کر دیا تھا۔
بی بی فاطمہ نے اپنے والد کی انا اور سماجی دباؤ کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔ مگر ان کا دل شہریار کے پاس ہی ٹھہرا رہا۔ انہوں نے شہریار کو الوداعی خط لکھا، جس میں انہوں نے اپنی مجبوریوں کا ذکر کیا اور اسے بھلانے کی التجا کی۔ یہ خط شہریار کے لیے ایک قیامت سے کم نہ تھا۔ وہ بکھر گیا، مگر اس نے بی بی فاطمہ کو غلط ثابت کرنے کا عزم کر لیا۔ اس نے دن رات ایک کر کے خوب محنت کی، تعلیم حاصل کی، اور دولت کمائی۔ اس کا ایک ہی مقصد تھا، کہ ایک دن وہ بی بی فاطمہ کے سامنے اتنے اونچے مقام پر کھڑا ہو کہ اس کے گھر والے خود اس کا رشتہ لے کر آئیں۔
**جذباتی موڑ (Twist):**
سال گزر گئے۔ بی بی فاطمہ کی شادی ہو گئی، اور وہ اپنے شوہر کے ساتھ ایک نارمل زندگی گزارنے لگیں۔ ان کے بچے ہوئے، اور وہ دنیا کے دکھ سکھ میں الجھ گئیں۔ مگر ان کے دل میں کہیں نہ کہیں شہریار کی یاد اور وہ ادھورا پیار اب بھی موجود تھا۔ وہ اکثر سوچتی کہ کاش اس وقت انہوں نے اپنے دل کی آواز سنی ہوتی۔
دوسری طرف، شہریار نے اپنی محبت کو ہی اپنا جنون بنا لیا تھا۔ اس نے خوب دولت اور شہرت کمائی۔ وہ ایک بڑا بزنس مین بن گیا، اور ملک کے ممتاز ترین افراد میں شمار ہونے لگا۔ مگر اس نے کبھی شادی نہ کی، اور وہ اب بھی بی بی فاطمہ کا انتظار کر رہا تھا۔
ایک دن، قسمت نے ایک بار پھر کروٹ لی۔ شہریار کی کمپنی نے بی بی فاطمہ کے شوہر کی کمپنی کے ساتھ ایک بڑا بزنس ڈیل فائنل کی۔ اس ڈیل کے سلسلے میں، شہریار کو ایک تقریب میں شرکت کرنی تھی۔ بی بی فاطمہ بھی اپنے شوہر کے ساتھ اس تقریب میں شامل ہوئیں۔ جب بی بی فاطمہ کی نظریں شہریار پر پڑیں، تو جیسے وقت رک گیا۔ وہ وہی شہریار تھا، مگر اب اور بھی پر اعتماد اور باوقار۔ شہریار نے بھی بی بی فاطمہ کو دیکھا، اور اس کی آنکھوں میں وہی پرانا پیار اور ایک گہرا دکھ تھا۔
تقریب کے دوران، شہریار نے بی بی فاطمہ کے شوہر سے ملاقات کی۔ باتیں کرتے کرتے، اس نے پوچھ ہی لیا، “آپ کی اہلیہ، کیا یہ وہی بی بی فاطمہ ہیں جنہیں میں بچپن میں جانتا تھا؟” شوہر نے اثبات میں سر ہلایا۔ شہریار نے مسکراتے ہوئے کہا، “میں ان کا بچپن کا دوست ہوں۔”
**کلائمکس:**
کچھ دن بعد، شہریار نے بی بی فاطمہ کے شوہر کو ایک عشائیہ پر مدعو کیا۔ بی بی فاطمہ بھی وہیں موجود تھیں۔ عشائیہ کے دوران، شہریار نے بی بی فاطمہ سے مخاطب ہو کر کہا، “بی بی فاطمہ، مجھے یاد ہے بچپن میں آپ نے مجھ سے ایک وعدہ لیا تھا۔ آپ نے کہا تھا کہ اگر میں بڑا ہو کر کچھ بنوں گا، تو آپ میری پہلی گاڑی کی سواری بنیں گی۔ آج میں نے وہ گاڑی خریدی ہے، اور میں چاہتا ہوں کہ آپ اپنا وعدہ پورا کریں۔”
بی بی فاطمہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ انہیں اندازہ ہو گیا تھا کہ شہریار کی محبت آج بھی ویسی ہی ہے، اور وہ انہیں بھلا نہیں سکا۔ بی بی فاطمہ کے شوہر، جو سارا معاملہ سمجھ چکے تھے، نے بی بی فاطمہ سے کہا، “آپ جائیں۔ یہ آپ کا حق ہے۔”
بی بی فاطمہ، سادگی اور عاجزی سے، شہریار کے ساتھ اس کی نئی گاڑی میں بیٹھ گئیں۔ شہر کی سڑکوں پر چلتے ہوئے، انہوں نے بچپن کی یادیں تازہ کیں۔ شہریار نے اپنی ساری کہانی سنائی، کہ کیسے اس نے محبت کو طاقت بنایا، اور کیسے اس نے دنیا کو اپنی قابلیت سے فتح کیا۔ بی بی فاطمہ خاموش سنتی رہیں، اور ان کی آنکھوں سے اشک رواں تھے۔
**انجام (سبق یا پیغام):**
شہریار نے گاڑی روکی، اور بی بی فاطمہ سے کہا، “میں نے آپ کو کبھی قصوروار نہیں ٹھہرایا۔ میں جانتا تھا کہ آپ مجبوریوں کا شکار تھیں۔ آج میں آپ سے کچھ نہیں مانگتا، بس اتنا کہوں گا کہ محبت اگر سچی ہو، تو وہ تقدیر کو بھی بدل سکتی ہے۔ میری محبت نے مجھے وہ سب کچھ دیا جو میں چاہتا تھا۔”
بی بی فاطمہ نے گہری سانس لی، اور کہا، “شہریار، کبھی کبھی انسان مجبوریوں کے ہاتھوں ایسا فیصلہ کر جاتا ہے جس کا اسے ساری زندگی افسوس رہتا ہے۔ مگر اللہ نے ہمارے لیے جو بہتر سوچا، وہی ہوا۔”
وہ گاڑی سے اتریں۔ شہریار نے بی بی فاطمہ کو الوداع کہا، اور اپنی راہ پر چل دیا۔ بی بی فاطمہ حویلی واپس آ گئیں۔ ان کے دل میں سکون تھا، مگر اداسی بھی۔ انہوں نے زندگی کے سبق کو سمجھ لیا تھا۔ سچی محبت کبھی مرتی نہیں، بس اس کا اظہار بدل جاتا ہے۔ اور صبر، وہ واحد راستہ ہے جو انسان کو مشکلات سے نکال کر منزل تک پہنچا سکتا ہے۔
**اخلاقی پیغام:**
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ محبت اور صبر میں بڑی طاقت ہے۔ جب ہم کسی چیز کو سچ دل سے چاہتے ہیں، اور اس کے لیے کوشش کرتے ہیں، تو کوئی بھی رکاوٹ ہمیں منزل تک پہنچنے سے نہیں روک سکتی۔ تقدیر کو بدلنے کے لیے صرف چاہت کافی نہیں، بلکہ اس کے لیے قربانی، محنت اور اٹل یقین کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ ہمیں اپنی زندگی میں درست فیصلے کرنے چاہئیں، اور اگر کوئی غلطی ہو جائے، تو اس کا اعتراف کر کے آگے بڑھنا چاہیے۔
**اختتام:**
ثانیہ نے جب اپنی دادی کی کہانی سنی، تو اس کی آنکھیں نم تھیں۔ اسے اپنی دادی کی محبت اور قربانی کا اندازہ ہوا۔ اس نے اپنی دادی کو گلے لگا لیا، اور کہا، “دادی جان، آپ نے مجھے زندگی کا سب سے بڑا سبق سکھایا ہے۔”
اور اس طرح، وہ پرانی حویلی، جو کبھی اداسی کا مسکن تھی، اب امید اور محبت کی ایک نئی کہانی کا مرکز بن گئی۔ بی بی فاطمہ کے چہرے پر اب وہ دردناک اداسی نہیں تھی، بلکہ ایک گہرا سکون تھا۔ انہوں نے اپنی زندگی کے اتار چڑھاؤ کو قبول کر لیا تھا، اور وہ جانتی تھیں کہ ہر کہانی کا اختتام تلخ نہیں ہوتا۔
**آپ کی رائے:**
آپ کو یہ کہانی کیسی لگی؟ کیا آپ کو بی بی فاطمہ کی مجبوریوں کا احساس ہوا، یا شہریار کی استقامت نے آپ کو متاثر کیا؟ اپنی قیمتی رائے کا اظہار ضرور کریں۔ اور اگر آپ ایسی ہی مزید کہانیاں پڑھنا چاہتے ہیں، تو ہمارے ساتھ جڑے رہیے۔
[Our Healtho](https://ourhealtho.com) آپ کی صحت اور زندگی کے لیے مفید معلومات فراہم کرتا ہے۔